Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر اسمبلی میں پاکستان مخالف نعروں کی گونج

جموں و کشمیر اسمبلی میں پاکستان مخالف نعروں کی گونج

پاکستان میں واقع جنگجو تربیتی کیمپوں پر فضائی بمباری کرنے بی جے پی کا مطالبہ
سری نگر ، 27 جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پیر کو اُس وقت شدید شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ ممبران نے حالیہ پانپور حملے جس میں 8 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک جبکہ 22 دیگر زخمی ہوئے ، کے پس منظر میں پڑوسی ملک پاکستان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید پاکستان مخالف نعرے بازی کی۔ اپنے احتجاج کے دوران بی جے پی ممبران نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم مبینہ جنگجو تربیتی کیمپوں پر فضائی بمباری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی ممبران کی پاکستان مخالف نعرے بازی کے دوران اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس ممبرا ن نے پی ڈی پی ممبران پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ‘آپ لوگ اپنے اتحادی کا ساتھ کیوں نہیں دیتے ‘۔ تاہم جہاں بی جے پی کے ممبران اپنے شعلہ بیان ساتھی رویندر رینا کی قیادت میں پاکستان مخالف نعرے بازی کرتے رہے ، وہیں پی ڈی پی ممبران خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے ۔ پیر کی صبح جوں ہی ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو بی جے پی ممبران اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانپور حملے کی تحقیقات اور پاکستان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے لگے ۔ اُن کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ایوان پڑوسی ملک پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کرے ۔ اپنے مطالبے سامنے رکھنے کے دوران بی جے پی ممبرا ن نے ‘پاکستان مردہ باد’ کے نعرے لگائے ۔ بی جے پی رکن ست پال شرما نے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا’جنگجویانہ حملوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ یہ حملے پاکستان کی شہ پر ہورہے ہیں۔ ہم پانپور میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں’۔ اس پر آزاد ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید نے کہا ‘آپ کو مطالبہ کرنے کی ضرورت کیوں پڑی۔ یہ آپ کی حکومت، آپ کو حملے کی تحقیقات کرنی ہے تو کرو’۔تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ وادی میں آر ایس ایس نواز حکومت بننے کے بعد سے جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ اس موقعہ پر رویندر رینا نے پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پاکستان زیر انتظام کشمیر میں قائم مبینہ جنگجو تربیتی کیمپوں پر فضائی بمباری کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا ‘مرکزی سرکاری کو سرحد پار قائم جنگجو تربیتی کیمپوں پر فضائی بمباری شروع کرنی چاہیے ‘۔ شدید پاکستان مخالف نعرے بازی کے درمیان نیشنل کانفرنس ممبران نے پی ڈی پی ممبران کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادی ممبران کا ساتھ کیوں نہیں دیتے ۔ اپوزیشن ممبران نے اس موقعہ پر ہندواڑہ میں شہری ہلاکتوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد یقین دہانیوں کے باوجود رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ انجینئر رشید نے بی جے پی سے مخاطب ہوکر کہا’آپ اُن فورسز کی مذمت کیوں نہیں کرتے جنہوں نے ہندواڑہ میں شہریوں کو ہلاک کیا’۔ بعد میں اسپیکر کویندر گپتا نے حالیہ پانپور حملے کی مذمت کی۔ یہ ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد پر مبنی مخلوط حکومت معرض وجود میں آنے کے بعد تیسرا موقعہ ہے کہ جب اسمبلی میں پاکستان مخالف نعرے بازی کی گئی۔ گزشتہ برس 22 مارچ کو بی جے پی ممبران نے جموں خطہ کے سانبہ اور کٹھوعہ میں ہونے والے فدائین حملوں کے پس منظر میں پاکستان مخالف نعرے بازی کی تھی جس کے بعد اسمبلی کے دونوں ایوانوں نے اُن حملوں پر بااتفاق رائے مذمتی قرار دادیں پاس کی تھیں۔اس کے محض دو ہفتے بعد یعنی 7 اپریل 2015 ء کو بی جے پی ممبران نے کشمیر کے جنوب و وسط میں ہونے والے تین جنگجویانہ حملوں جن میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے ، کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے بازی کی تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT