Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا اچانک تبادلہ

جموں و کشمیر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا اچانک تبادلہ

بیف پر پابندی کیس میں سرکاری موقف پیش کرنے میں ناکامی کا شاخسانہ

سرینگر۔/15ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں بیف پر پابندی کا تنازعہ اسوقت شدت اختیار کرگیا جب مفتی سعید حکومت نے ہائی کورٹ میں سرکاری موقف کی مدافعت میں ناکام ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وشال شرما کا تبادلہ کردیا۔ عدالت نے حال ہی میں بیف کی فروخت پر پابندی کیلئے 1932کے قانون پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سکریٹری محکمہ قانون محمد اشرف میر نے بتایا کہ وشال شرما کا محکمہ داخلہ سے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں تبادلہ کردیا گیا جوکہ معمول کی کارروائی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ وزارت قانون نے کل محکمہ داخلہ سے شرما کے تبادلہ کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اسکول ایجوکیشن اور دیہی ترقیات محکمہ جات کے کیسوں کی پیروی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں بیف کی فروخت اور استعمال کے خلاف پابندی کیلئے ایک عرضی پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ میں حکومت کے موقف کی مدافعت میں شرما کی ناکامی کا محکمہ قانون نے سخت نوٹ لیا ہے تاہم محمد اشرف میر نے کہا کہ شرما کے تبادلہ کا بیف پابندی کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس خصوص میں ربط قائم کیا گیا تو وشال شرما نے بتایا کہ حکومت سے انہیں کوئی مراسلہ موصول نہیں ہوا۔

قبل ازیں ایک عرضی پر سماعت کے بعد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتہ پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ریاست بھر میں بیف کی فروخت پر پابندی کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جبکہ سرکاری ذرائع کا دعوی ہے کہ مسٹر شرما نے اس کیس میں جواب داخل کرنے کی اطلاع محکمہ داخلہ اور ڈیویژنل کمشنر کشمیر کو نہیں دی۔ ریاست بھر میں عدالتی فیصلہ کے خلاف تنقید و تعریض کی جارہی ہے جبکہ مذہبی اور علحدگی پسند تنظیموں نے کشمیری عوام کے مذہبی اُمور میں اسے سراسر مداخلت سے تعبیر کیا۔ اپوزیشن نیشنل کانفرنس نے بھی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ۔ بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جاریہ ماہ عیدلاضحی کے پیش نظر ریاست میں ذبیحہ گاؤ اور بھینسہ کی فروخت کی اجازت کیلئے متعلقہ قانون میں ضرور ترمیم کریں۔ واضح رہے کہ رنبیرپیانل کوڈ 1932 کے دفعہ 298-A کے تحت گائے یا اس نوعیت کے جانور کا ذبیحہ ناقابل ضمانت جرم تصور کیا جائے گا اور ملزم کو 10سال کی عمرقید اور جرمانہ کی سزا بھی دی جاسکتی ہے جبکہ سیکشن 298-B کے تحت بھیڑ بکریوں کا گوشت رکھنا بھی قابل گرفت جرم ہوگا جس میں ایک سال کی عمر قید اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں بیف پر پابندی کے خلاف احتجاج اور مظاہروں سے صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے جبکہ شدت پسندوں نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف ذبیحہ گاؤ اور گوشت کے استعمال کا اعلان کیا ہے اور یہ اعلان حکومت کی حلیف بی جے پی کیلئے للکار ثابت ہورہا ہے اور ریاست سے وابستہ ایک مرکزی وزیر نے وارننگ دی ہے کہ عدالتی فیصلہ کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی جس پر شورش زدہ ریاست میں ایک اور تصادم کا خطرہ پیدا ہوجائیگا۔

TOPPOPULARRECENT