Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر میں بیف پر امتناع کا تنازعہ ریاستی حکومت کوہائی کورٹ کی نوٹس، اندرون 8 دن جواب طلبی

جموں و کشمیر میں بیف پر امتناع کا تنازعہ ریاستی حکومت کوہائی کورٹ کی نوٹس، اندرون 8 دن جواب طلبی

سرینگر ۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر ہائیکورٹ نے اس ریاست میں ذبیحہ گاؤ  کو جرم قرار دینے سے متعلق دستوری دفعات کالعدم کرنے کی اپیل کی ساتھ دائر کردہ ایک درخواست پر ریاستی حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کیلئے 8 دن کا وقت دی ہے۔ جسٹس محمد یعقوب میر اور جسٹس بنسی لال بھٹ پر مشتمل ایک ڈیویژنل بنچ نے یہ نوٹس جاری کی۔ قبل ازیں اس بنچ نے درخواست گذار افضَ قادری کی جانب سے اپنے وکیل فیصل قادری کی طرف سے دائر کردہ پر سماعت کی، جس میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ کو جرم قرار دینے سے متعلق رنبیر پیانل کوڈ (آر پی سی) کی بعض دفعات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ فیصل قادری نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’عدالت نے درخواست قبول کرلی ہے اور حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کیلئے ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے یہ رولنگ بھی کی کہ جب مقننہ آر پی سی کی مذکورہ دفعات کی تنسیخ یا ترمیم کیلئے اگر مقننہ کی طرف سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو یہ درخواست اس (مقننہ) کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ فیصل قادری نے کہا کہ رنبیر پیانل کوڈ کی بعض ایسی دفعات کے خلاف چیلنج کیا گیا ہے جو اس ضمن میں دستورہند اور جموں و کشمیر کے بعض دستوری دفعات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ جموں میں ہائیکورٹ کی ایک عدالت نے گذشتہ ہفتہ پولیس کو حکم دی تھی کہ ریاست میں بڑے جانور کے گوشت پر امتناع کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ عدالت کے اس حکم پر وادی کشمیر میں برہم ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ علحدگی پسندوں اور مذہبی گروپوں نے اس حکم کو مذہبی امور میں مداخلت قرار دیا تھا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT