Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / جموں و کشمیر میں حکومت سازی

جموں و کشمیر میں حکومت سازی

اب صرف مفادات سیاست کی ہیں بنیاد
اقدار اور اصول کتابوں میں ملیں گے
جموں و کشمیر میں حکومت سازی
ملک کی سرحدی ریاست جموں و کشمیر میںدو ماہ سے زیادہ عرصہ کے تعطل کے بعد بالآخر تشکیل حکومت کی سمت پیشرفت ہوئی ہے اور محبوبہ مفتی کو پی ڈی پی کی لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے ۔ دو ماہ قبل سابق چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد سے یہاں تقریبا تعطل کی کیفیت تھی اور اتحاد کی شریک جماعتوں پی ڈی پی ۔ بی جے پی کے مابین اختلافات دکھائی دے رہے تھے ۔ اسی تعطل کے نتیجہ میں ریاست میں گورنر راج نافذ کردیا گیا تھا اور کچھ وقت تک دونوںہی جانب سے خاموشی اختیار کرلی گئی تھی تاہم بی جے پی ریاست میں کسی بھی قیمت پر اقتدار میںشراکت داری چاہتی ہے اور شائد بی جے پی کی اسی خواہش کو دیکھتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ریاست کیلئے کچھ مطالبات منوانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ پی ڈی پی کی خاموشی کے باوجود بی جے پی کی جانب سے بارہا یہ اشارے دئے جاتے رہے تھے کہ وہ ریاست میںحکومت بنانے میں ہر ممکنہ تعاون کرنے تیار ہے اور دونوںجماعتوں کے مابین حکمرانی کا جو ایجنڈہ طئے ہوا تھا اس پر عمل آوری کی جائیگی ۔ ریاست میں سیاسی تعطل کی وجہ سے عوام کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کئی کام ایسے رہ گئے تھے جن کو تواتر سے جاری رکھنے کی ضرورت تھی لیکن ان کاموں پر بھی تعطل پیدا ہوگیا تھا ۔ کہا جا رہا تھا کہ پی ڈی پی چاہتی تھی کہ ریاست میںسیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے مرکزی حکومت نے جس پیکج کا اعلان کیا تھا اس کی رقم فوری جاری کی جائے اور ان کاموں پر نگرانی کیلئے مرکز کی بجائے ریاست کو زیادہ ذمہ داری سونپی جائے ۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے وہ چاہتی تھی کہ مرکز کی امداد کے بل بوتے پر اپنے سیاسی موقف کو ریاست میں مزید بہتر بنائے اور اسی لئے اس نے مرکزی کمان کو زیادہ اہمیت دی تھی ۔ حالات میں جاری تعطل کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہیکہ دونوں ہی جماعتوں نے اقتدار کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کی اور اب بالآخر ریاست میں حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ اب بہت جلد ریاست میںمحبوبہ مفتی کی قیادت میں پھر ایک بار مخلوط حکومت تشکیل پائیگی ۔ اس کیلئے دونوں جماعتوں کے نمائندوں کو گورنر سے ملاقات کرکے اپنا ادعا پیش کرنا ہے ۔
دونوںجماعتوں نے جس طرح سے ریاست میں تعطل پیدا کردیا تھا اب اس کا ازالہ بھی انہیں کو کرنا ہے ۔ ویسے تو دونوں ہی جماعتوں کے مابین مفتی محمد سعید مرحوم کی وزارت کے دور میں بھی اختلافات پیدا ہوگئے تھے ۔ کئی مسائل ایسے ہیں جن پر دونوں جماعتوں کے موقف میں یکسر تضاد پایا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود دونوں ہی جماعتوں نے محض اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کا ساتھ قبول کیا ہے ۔ ایسے میں یہ قیاس کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ اس اتحادی حکومت کا مستقبل کا سفر بھی آسان نہیں ہوگا بلکہ انہیں مشکلات سے گذر نا ہوگا ۔ جب تک دونوں ہی جماعتیں لچکدار رویہ اختیار نہیںکرینگی اس وقت تک انہیں آسانی سے حکومت کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ جموں و کشمیر ایسی ریاست ہے جو ایک طویل عرصہ تک عسکریت پسندی اور تخریب کاری سے متاثر رہی ہے ۔ اس ریاست میں ایک جامع منصوبہ اور انتھک جدوجہد کے ذریعہ خوشحالی لائی جاسکتی ہے ۔ ریاست کے عوام کو ترقی کے ثمرات میں دیگر ابنائے وطن کے برابر حصہ داری دیتے ہوئے قومی دھارے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اگر اقتدار کی شریک جماعتیں اپنے اپنے مفادات اور سیاسی موقف کی وجہ سے ایک دوسرے سے متصادم رہیں گی تو ترقی کی سفر مشکل سے مشکل ترین ہوتا جائیگا ۔ ایک سیاسی عزم اور حوصلے کے ساتھ ریاست میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کا جو حالیہ ماضی رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات مشکل نظر آتی ہے ۔ دونوں جماعتوں کو ریاست اور ریاست کے عوام کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس نے صرف اقتدار کی خاطر پی ڈی پی سے اتحاد کیا ہے ۔ بی جے پی افضل گرو کے مسئلہ پر سارے ملک میں ایک موقف رکھتی ہے اور کشمیر میں اس کا موقف بدلا ہوا نظر آتا ہے ۔ پی ڈی پی نے افضل گرو کو شہید قرار دیا تھا اور بی جے پی ایسا کرنے والوں کو غدار قرار دیتی ہے ۔ اس کے باوجود اس نے ریاست میںمحض اقتدار میں اپنی حصہ داری کو بنائے رکھنے اور ریاست کے عوام پر اثر انداز ہونے کے مقصد سے پی ڈی پی سے اتحاد کیا ہے ۔ ریاست میں عوام کو سہولیات اور راحت پہونچانے کے علاوہ ان کی بازآبادکاری کے مسئلہ پر بھی بی جے پی کو اپنا موقف نرم کرنے پر مجبور ہونا پڑیگا ۔ اگر دونوں جماعتیں اپنے موقف میں لچک اور نرمی پیدا نہیں کرتی ہیں تو ان کیلئے اتحاد کی حکومت کو چلانے میں بہت مشکلات پیش آئیں گی ۔ دونوں جماعتوں کو ریاست اور ریاستی عوام کی بہتری کو اپنا مقصد بناکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT