Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / جموں و کشمیر کیلئے 80,000 کروڑ روپئے کا پیاکیج

جموں و کشمیر کیلئے 80,000 کروڑ روپئے کا پیاکیج

SRINAGAR, NOV 7 (UNI)- Prime Minister Narendra Modi (R) greets Jammu and Kashmir chief minister Mufti Mohammad Sayeed before addressing a public rally at S K cricket stadium in Srinagar on Saturday. UNI PHOTO-35U

کشمیریت کے بناء ہندوستان ادھورا ہے ، دہلی کا خزانہ ہی نہیں دِل بھی آپ کیلئے حاضر ہے: مودی
سرینگر،7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ترقی کے نعرہ کی دہائی دیتے ہوئے جموں و کشمیر کیلئے 80,000 کروڑ روپئے کے پیاکیج کا اعلان کیا اور اسے ایک نئی ترقی یافتہ عصری و خوشحال ریاست میں تبدیل کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے رقم کی کبھی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعظم واجپائی کے الفاظ ’’کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ ان تین اُصولوں پر کاربند رہنا چاہتے ہیں جو کشمیر کی ترقی کے ستون ہیں۔ مودی نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں انہیں دنیا کے کسی تجزیہ نگار یا کسی اور کے مشورہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ تین اصول ایسے ہیں جن کی بنیاد اٹل جی نے رکھی اور یہ ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔ کشمیریت کے بناء ہندوستان ادھورا ہے۔ اس سرزمین سے صوفی روایات نے جنم لیا اور ان روایات نے ہم سب کو ایک ہونے کا سبق دیا اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد کشمیر میں دوسری عوامی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے آج اس پیاکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ہمارے دِل آپ کیلئے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے 80,000 کروڑ روپئے کے پیاکیج کا وہ اعلان کرتے ہیں۔ ان کی یہ دلی خواہش ہے کہ یہ رقم آپ کے مستقبل کو بدلنے میں مددگار ہو۔ یہ رقم ریاست کو ایک نئے جموں و کشمیر میں بدلنے کیلئے استعمال ہونی چاہئے جو عصری، خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست ہو۔ انہوں نے کہا کہ 80,000 کروڑ روپئے کی یہ رقم یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ تو شروعات ہے۔ دہلی کا خزانہ آپ کیلئے ہے، دہلی کا خزانہ ہی نہیں بلکہ دل بھی آپ کیلئے حاضر ہے۔ اس ریالی میں چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید، مرکزی وزراء نتن گڈکری اور جیتندر سنگھ کے علاوہ صدر پی ڈی پی محبوبہ مفتی موجود تھے۔

شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقدہ ریالی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دو نسلوں کے خواب گزشتہ دو دہوں کے دوران بکھر گئے لیکن انہیں توقع ہے کہ اب ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے جموں و کشمیر کو ایک عصری اور ترقی یافتہ ریاست میں تبدیل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے اور اس بات کا یقین دلایا کہ مفتی سعید زیرقیادت پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کو ریاست میں عام حالات کی بحالی کی کوششوں پر مرکز کی ہمیشہ پشت پناہی حاصل رہے گی ۔مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے جمہوریت پر اپنے ایقان کا اظہار کیا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں عوام نے بھرپور حصہ لیا۔ آج مفتی صاحب پنچایتوں کو بااختیار بنانے کی بات کررہے ہیں، یہ وہی جمہوریت ہے جو اٹل جی چاہتے تھے اور جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ میں انہیں سلام کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریت کے بغیر ہندوستان نامکمل ہے اور یہی ہندوستان کی شان، بان، آن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں جموں و کشمیر کی ترقی کا ایک خاکہ موجود ہے۔ ریاستی قائدین بشمول چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ سے ہوئی ملاقاتوں کے بعد انہوں نے یہ خاکہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے اس پروگرام پر مقررہ وقت پر عمل کیا جانا چاہئے۔ ہم یہاں کسانوں، تاجروں اور ان لوگوں کی جن کے مکانات گزشتہ سال سیلاب میں تباہ ہوگئے، مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر خاندان جو مسائل سے دوچار ہے، اس کی مدد کی جائے۔ مرکز اس معاملے میں ریاستی حکومت کے شانہ بشانہ رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے سے ریاست میں دیگر کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ حکومت، سیاحت کے احیاء اور دستکاری کو فروغ دینے کے علاوہ فصلوں جیسے سیب اور زعفران کی پیداوار میں مدد کی خواہاں ہے۔

ہندوستان کا کلچر رواداری ، قبولیت سے کہیں آگے : مودی
نئی دہلی ، 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) عدم رواداری پر بڑھتے مباحث کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے آج ادعا کیا کہ ہندوستانی ثقافت رواداری اور قبولیت کی باتوں سے کہیں آگے ہے۔ انھوں نے یہ بات تب کہی جب 51 فنکاروں اور مصنفین کے وفد نے ویٹرن اداکار انوپم کھیر کی قیادت میں اُن سے ملاقات کی اور عوام کے ایک گوشہ کی جانب سے جاری احتجاجوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’’سیاسی ایجنڈہ‘‘ سے متاثرہ قرار دیا۔ (انوپم کھیر کے جوابی احتجاجی مارچ کی خبر صفحہ 3 پر)۔ ’’وزیراعظم نے بیان کیا کہ ہندوستانی کلچر رواداری اور قبولیت کی باتوں سے کہیں آگے ہے،‘‘ دفتر وزیراعظم نے اس ملاقات کے بعد جاری بیان میں یہ بات کہی۔

TOPPOPULARRECENT