Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / جمہوریت بچاؤ کا مارچ

جمہوریت بچاؤ کا مارچ

کرتا ہے جو بے سبب، کاموں میں تعجیل
اس سے کوسوں دور ہے، مقصد کی تکمیل
جمہوریت بچاؤ کا مارچ
سونیا گاندھی اور ان کی ٹیم کو قومی سیاست میں اپنا سیاسی قد بڑھانے کیلئے نریندر مودی حکومت کی ’’اپوزیشن کو کمزور کرو‘‘ مہم کو ناکام بنانا ہوگا بصورت دیگر کانگریس پارٹی کو 2019ء کے انتخابات کے نتائج بھی 2014ء کی طرح وہی ، خراب نکلیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو کانگریس صدر پر وی وی آئی پی ہیلی کاپٹرس کے معاہدہ میں بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ اس پر قومی سطح سے لیکر ریاستی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ خاص کر ان ریاستوں میں جہاں اسمبلی انتخابات جاری ہیں، انتخابی مہم کے دوران حکمراں پارٹی بی جے پی کے قائدین کی تقریروں کا موضوع ہیلی کاپٹر معاہدہ اسکام ہی ہے جبکہ علاقائی سطح پر اس طرح کے اسکامس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ٹاملناڈو میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے رائے دہندوں سے سوال کیا کہ ہیلی کاپٹر اسکام میں ملوث سیاستدانوں کو سزاء ہونی چاہئے یا نہیں۔ ٹاملناڈو کے رائے دہندوں کے سامنے مقامی مسائل اصل موضوع ہوتے ہیں جبکہ اس ریاست میں کانگریس کا سیاسی وزن بھی اتنا نہیں ہے جتنی طاقت وزیراعظم مودی لگا رہے ہیں۔ ٹاملناڈو میں اصل مقابلہ انا ڈی ایم اے اور ڈی ایم کے کے درمیان ہے۔ اس حقیقت کے باوجود بی جے پی کے اعلیٰ قائدین کانگریس اور سونیا گاندھی کے خلاف تقاریر پر توجہ دے رہے ہیں تو اس میں کہیں نہ کہیں حکمراں پارٹی کی کمزوری عیاں ہورہی ہے۔ دونوں قومی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف کمربستہ ہیں۔ کانگریس قیادت نے دہلی میں ریالی نکال کر وزیراعظم مودی کے خلاف مظاہرے کئے اور خود کو گرفتاری کیلئے پیش کیا۔ ان قائدین نے وزیراعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جمہوریت بچاؤ مارچ نکالنے کا مقصد و مطلب صرف کانگریس اور سونیا گاندھی کی شبیہہ بچانا ہے۔ اس مارچ سے ہندوستانی عوام کی اکثریتی آبادی کو سرورکار نہیں۔ بی جے پی لیڈر کہہ رہے ہیں کہ کانگریس اس وقت سونیا گاندھی کو بچانے کی مہم چلارہی ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے یہ طنز کیا کہ کانگریس کو سونیا گاندھی پر عائد ہونے والے رشوت کے الزامات سے کافی پشیمانی ہورہی ہے۔ آگسٹا ویسٹ لینڈ اسکام میں سونیا گاندھی کو ملوث قرار دیا جارہا ہے۔ جب کبھی سیاسی پارٹی اقتدار سے محروم ہوتی ہے تو اس کی کٹر حریف پارٹی اقتدار کے مزے حاصل کرنے کے ساتھ سابق حکمراں پارٹی کی نیندیں حرام کرنے کی ترکیبیں تیار کرتی ہے تاکہ اسے کسی رکاوٹ کے بغیر حکومت کرنے کا موقع مل سکے۔ گذشتہ دو سال سے ملک کے عوام مودی حکومت کے وعدے کے انتظار میں ہیں کہ اچھے دن کب آئیں گے لیکن مودی کا یہ وعدہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ انتخابات کے موقع پر مودی نے ملک میں ہر سال 20 ملین نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک طرف بی جے پی حکومت اپنے وعدوں اور منصوبوں میں ناکام ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کانگریس بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ ہیلی کاپٹرس خریدی معاہدہ میں کانگریس قائدین کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اس لئے کانگریس قیادت نے جمہوریت کو لاحق خطرے کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانے سڑکوں پر مارچ نکالنے کی کوشش کی، جس طرح سے اپوزیشن کانگریس حکمراں پارٹی بی جے پی کی سازشوں کو ناکام بنانے جدوجہد کررہی ہے اس سے گمان ہوتا ہیکہ جمہوریت بچاؤ مارچ کے ذریعہ کانگریس اور اس کی قیادت خود کو بچاؤ کیلئے کوشاں ہے۔ مودی حکومت جب تک اقتدار میں رہے گی ملک کی جمہوریت طاقتور ہوگی یا کمزور یہ وقت ہی بتائے گا لیکن کانگریس کو قومی سیاست میں اپنا سیاسی قد بڑھانے اور عوام کے حق میں کام کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس پارٹی کا تمام شور صرف اپنی بقاء کیلئے ہی اٹھے تو پھر عوام کے مسائل کو اٹھانے کیلئے اپوزیشن کا وجود صفر کہلائے گا۔ ملک میں مختلف حالات پیدا کرنے کیلئے دونوں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن ذمہ دار ہیں۔ ہیلی کاپٹر اسکام ہوا ہے تو اس کے پیچھے پوشیدہ چہروں کو بے نقاب کرنا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ملک کی تحقیقاتی ایجنسی کسی سیاسی دباؤ سے آزاد ہے تو انہیں ہر اسکام کی آزادانہ تحقیقات کا اختیار بھی ہونا چاہئے مگر جب حکمراں پارٹی کی حیثیت سے کانگریس نے سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا استعمال کیا تھا اب یہی کام بی جے پی کرسکتی ہے۔ ایسے میں سچ اور جھوٹ کی تکرار برقرار رہے گی۔ سچ تب ہی عیاں ہوگا جب تحقیقاتی ایجنسیاں سیاسی دباؤ، طرفداری، وفاداری کی حصار سے دور ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈروں کو یہ علم ہے کہ کسی بھی معاملہ میں حریفوں کو پھانسنے کی کوشش رائیگاں جائے گی۔ ہیلی کاپٹر اسکام ہوا ہے تو پھر ایک پارٹی سیاسی مزاحمت پر اتر آئے گی اور دوسری کو اپنی کارکردگی فعال ثابت کرنے کی فکر لاحق ہوگی۔
بن لادن گروپ پر پابندی برخاست
سعودی عرب کے بن لادن گروپ پر سعودی عرب میں پراجکٹس کیلئے کام کرنے کی پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ہزاروں ورکرس کے روزگار اور مستقبل کو پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رکھنے میں معاون ہوگا۔ 8 ماہ قبل حرم شریف میں کرین حادثہ کے بعد حکومت سعودی عرب نے بن لادن گروپ کو سعودی عرب کے پراجکٹس سے معطل کردیا تھا۔ حکومت نے بن لادن گروپ کے سینئر ڈائرکٹرس کے بیرونی سفر پر عائد پابندی بھی برخاست کی ہے۔ شاہی حکومت نے پابندی ہٹا لینے کا فیصلہ اس رپورٹ کی بنیاد پر کیا کہ گروپ نے اپنے تقریباً 77000 تارکین وطن ملازمین کو برطرف کردیا ہے اور اس کے ہزاروں ورکرس کو کئی ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں دی گئی ہیں۔ بن لادن گروپ میں کام کرنے والے 12000 سعودی شہریوں کو بھی ملازمت سے محروم ہونا پڑا پابندی ہٹا لی جانے کے بعد بن لادن گروپ کی ذمہ داری ہیکہ وہ اپنے تمام پریشان ملازمین کو بحال کرے اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کو یقینی بنائے۔ سعودی عرب کے توسیعی پراجکٹس کو انجام دینے والی کمپنیوں میں بن لادن ہی سب سے بڑا گروپ تھا اس گروپ میں تقریباً 2 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں لیکن اب تک 77000 ملازمین کو اگزٹ پرمٹ کے ذریعہ ان کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اب جبکہ کمپنی کو سعودی پراجکٹس کیلئے ٹنڈرس حاصل کرنے کی اجازت مل رہی ہے تو برطرف ملازمین کی بازطلبی کا قدم اٹھانا چاہئے۔ سعودی شاہی حکومت برسوں سے بن لادن گروپ کو بڑے تعمیراتی منصوبوں کے کام تفویض کرتے آرہی ہے جس میں حرم شریف کا توسیعی پراجکٹ بھی شامل ہے۔ اب کمپنی کو بحال کردیا جانا ہزاروں افراد کے روزگار کو بچانے کی جانب اچھا قدم ہے۔

TOPPOPULARRECENT