Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / جمہوریت پر غیر منتخب افراد کی اجارہ داری نہیں : جیٹلی

جمہوریت پر غیر منتخب افراد کی اجارہ داری نہیں : جیٹلی

نئی دہلی ۔18اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک غیر معمولی سخت تبصرہ میں سپریم کورٹ نے این جے اے سی قانون کو مسترد کردینے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جواز طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کی جمہوریت غیر منتخب افراد کے جبر کا شکار نہیں ہوسکتی۔ عدلیہ کی آزادی کو مستحکم کیا جانا چاہیئے لیکن اس کیلئے پارلیمانی خودمختاری کو کمزر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے  پانچ ججس پر مشتمل دستوری بنچ کے فیصلہ کو ’’ غلط منطق ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی عدالتی تقررات کمیشن قانون 2014ء اور 99ویں دستوری ترمیم کے خلاف غیر دستوری فیصلہ ہے ۔ جیٹلی نے انتباہ دیا کہ جمہوریت منتخبہ افراد کی اہمیت کم کردینے سے خطرہ میں پڑ جائے گی ۔ انہوں نے اپنے فیس بک پر این جے اے سی فیصلہ ۔ ایک متبادل نظریہ کے زیر عنوان اپنا تبصرہ شائع کیا ہے جسے انہوں نے اپنے شخصی نظریات قرار دیاہے ۔جیٹلی سابق مرکزی وزیرقانون بھی تھے ‘انہوں نے کہا کہ بعض متعلقہ افراد عدلیہ کی آزادی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے درمیان تصادم چاہتے ہیں ۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ دونوں دستوری ادارہ بقائے باہم کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور انہیں رہنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی ایک اہم بنیادی ستون ہے ۔ دستور ہند کے اس ستون کو مستحکم کرنے کیلئے کوئی بھی پارلیمانی خودمختاری کو کمزور نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بھی ایک لازمی بنیادی ستون ہے لیکن اس کے کمزور ہوجانے سے ہماری جمہوریت کی روح ختم ہوجائے گی ۔این ڈی اے حکومت پہلے ہی سپریم کورٹ سے کہہ چکی ہے ۔ سپریم کورٹ نے عاملہ کے ججس کے تقررات میں بڑے کردار کو تسلیم کرنے سے انکار کردیاہے ۔ یہ اعلیٰ تر عدلیہ کی آزادی کی توہین ہے ۔ این جے اے سی قانون 22سال قدیم کالجیم نظام کی جگہ لے گا ۔ اس نظام کے تحت ججس کا تقرر جج کیا کرتے تھے جسے سپریم کورٹ درست تسلیم کرتی تھی اور اسے دستور ہند کے تحت بنیادی اداروں کے اختیارات کی موزوں تقسیم قرار دیتی تھی ۔
مودی حکومت کہہ چکی ہے کہ اس فیصلہ سے سیاسی پارٹیوں اور قانون دانوں کی برادری کے مختلف ردعمل حاصل ہوں گے جس سے پارلیمانی خودمختاری کو دھکہ پہنچے گا ۔

TOPPOPULARRECENT