Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / جمہوریت کا قتل ہو تو عدالت خاموش نہیں رہ سکتی : سپریم کورٹ

جمہوریت کا قتل ہو تو عدالت خاموش نہیں رہ سکتی : سپریم کورٹ

اروناچل پردیش اسمبلی اسپیکر و گورنر کے مابین مراسلت کے ریکارڈ کی طلبی ۔ واقعات پر عدم اطمینان
نئی دہلی 4 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) گورنرس کے اختیارات کا جائزہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج اس بیان کا سخت نوٹ لیا کہ گورنر کے تمام فیصلے عدلیہ کے دائرہ کار میں نہیں آتے ۔ عدالت نے آج کہا کہ جب جمہوری عمل کا قتل عام کیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا ۔ سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی دستوری بنچ نے جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت میں اس مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارک کیا ۔ جب اروناچل پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی کے وکیل نے عدالت سے یہ کہا کہ گورنرس کے اختیارات میں یہ واضح ہے کہ عدالتیں گورنر کے تمام فیصلوں پر ’’ نظر ثانی ‘‘ نہیں کرسکتیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارک کیا کہ جب جمہوریت کا قتل ہورہا ہو تو عدالت کس طرح خاموش رہ سکتی ہے ؟ ۔ بنچ نے اس دوران اروناچل پردیش اسمبلی میں ہونے والی مراسلت کی ماہ اکٹوبر سے اب تک کی تمام تفصیلات اور ڈسپاچ ریکارڈ 8 فبروری کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ جو دستاویزات اسمبلی کے ایک عہدیدار نے پیش کئے ہیں وہ قابل اطمینان نہیں ہیں۔ بنچ میں جسٹس دیپک مشرا ‘ جسٹس ایم بی لوکر ‘ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس این وی رمنا شامل ہیں۔ بنچ نے نے ریاستی اسمبلی کے اسپیکر نابم ریبیا اور گورنر جے پی راج کھوا کے مابین اسمبلی اجلاس کی قبل از وقت طلبی اور باغی کانگریس ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دینے جیسے مسائل پر ہوئی مراسلت کی تفصیل طلب کی ہے ۔ کچھ باغی کانگریس ارکان اسمبلی کی پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل راکیش دویدی نے گورنر کے فیصلوں کی تائید کی اور کہا کہ اسمبلی اجلاس کی طلبی کو غیر جمہوری نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی جمہوری عمل کو اس سے متاثر قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی عمارت کو مقفل کردینا اور اسمبلی اجلاس سے بچنے کی کوشش کرنا غیر جمہوری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کیلئے یہ ضروری نہے کہ وہ اسمبلی سشن کی طلبی کیلئے چیف منسٹر اور کابینہ کی رائے مشورہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دستوری اسکیمات سے گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ استثنائی اور مخصوص حالات میں از خود کارروائی کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT