Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / جمہوری ہندوستان میں بیف کے استعمال کی آزادی ناگزیر

جمہوری ہندوستان میں بیف کے استعمال کی آزادی ناگزیر

عوام کو من پسند غذاؤں کے انتخاب کا اختیار، سینئر بیورو کریٹ امیتابھ کانت کا جراتمندانہ بیان
نئی دہلی ۔ 3 ۔ فروری ( سیاست ڈاٹ کام) ایک سینئر بیورو کریٹ (اعلیٰ عہدیدار) امیتابھ کانت کا یہ نقطہ نظر ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں عوام کو بیف کھانے کی اجازت ہونی چاہئے اور انہیں من پسند غذا کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہ کی جائے ۔ ڈپارٹمنٹ آف انڈسٹریل پالیسی اینڈ پرموشن حکومت ہند کے سکریٹری مسٹر امیتابھ کانت نے این ڈی ٹی وی کے ایک مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میرا یہ ایقان ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جس طرح عوام کو اظہار خیال کی آزادی ہے ، اسی طرح انہیں من پسند غذاؤں کے انتخاب اور استعمال کی اجازت ہونی چاہئے جس پر کوئی روک ٹوک عائد نہ کی جائے، یہ دریافت کئے جانے پر کہ من پسند غذاء میں بیف بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً اس میں کوئی دورائے نہیں ہے اور کسی کو غذائی عادتوں سے باز رکھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنے اس نقطہ نظر کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق آئی اے ایس کیرالا کیڈر سے ہے۔ میرے پڑوس میں بائیں جانب نائیر خاندان اور دائیں جانب برہمن خاندان قیام پذ یر ہے جو کہ بڑے شوق سے بیف کھاتے ہیں اور ہم سب ریاست میں بیف کھاکر بڑے ہوئے ہیں۔

لہذا باقیماندہ ملک میںبھی کیرالا کی تقلید کی جانی چاہئے جہاں پر من پسند غذاؤں کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ قبل ازیں امیتابھ کانت نے کہا  کہ شخصی طور پر وہ بیف کی برآمدات پر تحدیدات کے حق میں نہیں ہیں اور حکومت کو اس طرح کے معاملت سے دور رہنا چاہئے۔ مسٹر امیتابھ کانت جو کہ نیتی ایوگ کے کارگزار چیف اگزیکیٹیو آفیسر بھی ہیں۔ فلمی اداکار عامر خاں کے ایک بیان پر اعتراض کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں عدم تحمل کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ سینئر بیرو کریٹ نے بتایا اگرچیکہ ہرایک شہری کو اظہار خیال کی آزادی ہے لیکن ’’مثالی ہندوستان‘‘ کے برانڈ ایمبسیڈر اس طرح کی آزادی سے مستثنی ہیں کیونکہ اہم شخصیتوں کا ایک ایک لفظ تاثیر رکھتا ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔1980 ء بیاچ کے آئی اے ایس آفیسر امیتابھ کانت جو کہ مثالی ہندوستان مہم کے کلیدی محرک ہیں کہا کہ عامر خاں نے اس مہم سے وابستہ ہوکر برانڈ انڈیا کو نقصان پہنچایا۔ انکریڈیبل انڈیا مہم سے فلمی اداکار کی علحدگی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں عدم عمل کی برسر عام شکایت کرتے ہوئے اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایک برانڈ ایمبسیڈر کا یہ فریضہ ہے کہ اپنے برانڈ کو فروغ اور تشہیر کرے اور بیرونی سیاحوں کو دورہ ہند کی ترغیب دینے کیلئے ہندوستان کوا یک مثالی ملک ظاہر کرے لیکن برانڈ ایمبسیڈر نے یہ کہتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا کہ ہندوستان میں عدم رواداری فروغ پارہی ہے جس کے باعث انہیں مذکورہ مہم سے علحدہ کردیا گیا۔

چیف منسٹر پنجاب ہاسپٹل سے ڈسچارج
چندی گڑھ ۔ 3 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر پنجاب پرکاش سنگھ بادل کو آج روبہ صحت ہونے پر ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا ۔ انہیں سینہ میں تکلیف اور بخار کی شکایت پر 22 جنوری کو دواخانہ میں شریک کروادیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر آفس کے ذرائع نے اطلاع دی ۔ بتایا کہ بادل کو سینہ میں انفکشن ہوگیا تھا ۔ اب انہیں علاج سے افاقہ ہوا ہے تاہم ڈاکٹروں نے چیف منسٹر کو آرام کا مشورہ دیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT