Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کو مختلف قائدین کا خراج

جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کو مختلف قائدین کا خراج

حیدرآباد۔/25اگسٹ، ( سیاست نیوز) مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آج جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی مرحوم کی قیامگاہ پہنچ کر پسماندگان کو پرسہ دیا۔ ریاستی وزیر کمرشیل ٹیکسیس سرینواس یادو، رکن پارلیمنٹ کے کویتا، رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین، سابق وزیر وجئے راما راؤ، سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو، ایڈیٹر ’ رہنمائے دکن‘ جناب سید وقار الدین قادری اور پیرزادہ شبیر نقشبندی نے آج کوٹلہ عالیجاہ میں جناب مسقطی کی قیامگاہ پہنچ کر اظہار تعزیت کیا۔ ان قائدین نے عوام کی بھلائی اور شہر کی ترقی کے سلسلہ میں جناب ابراہیم مسقطی کی کاوشوں کی یاد تازہ کی اور رکن اسمبلی اور رکن قانون ساز کونسل کی حیثیت سے عوامی مسائل پر ان کی بے باک نمائندگی کا تذکرہ کیا۔ سرینواس یادو نے تلگودیشم پارٹی میں جناب مسقطی کے ساتھ کام کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ جناب مسقطی نے ہمیشہ ایک بزرگ کی حیثیت سے انہیں زرین مشوروں سے نوازا۔ رکن پارلیمنٹ کویتا نے جناب مسقطی کے انتقال کو تلنگانہ کیلئے عظیم نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست ایک قدآور اور وضع دار شخصیت سے محروم ہوچکی ہے جنہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل پر بے باک نمائندگی کی ہے۔ کویتا نے کہا کہ جناب مسقطی حیدرآبادی تہذیب کی علامت تھے اور انہوں نے جناب مسقطی کے بارے میں ان کے والد کے سی آر سے سنا تھا۔ ایم ایل سی محمد فاروق حسین نے جناب ابراہیم مسقطی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ حیدرآباد کے عوام ان کی دینی، فلاحی اور ملی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرپائیں گے۔ ان قائدین نے جناب مسقطی کے فرزندان عرفان مسقطی، سلطان مسقطی، علی مسقطی، منان مسقطی اور عادل مسقطی کو پرسہ دیا۔ جناب مسقطی کے ایک فرزند خالد مسقطی جنہیں ناسازی مزاج کے سبب کیر ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے تیزی سے روبہ صحت ہیں۔
جناب مسقطی کا انتقال ، اردو کا ناقابل تلافی نقصان  رئیس انصاری و منظر بھوپالی کی تعزیت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ملک کے ممتاز شعرائے کرام جناب رئیس انصاری اور جناب منظر بھوپالی نے سابق رکن اسمبلی و سابق صدر نشین اردو اکیڈیمی جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ رئیس انصاری اور منظر بھوپالی نے اپنے تعزیتی پیام میں کہا کہ جناب مسقطی کی اردو کے لیے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ اردو کے لیے خاموش خدمات انجام دیتے رہے ۔ کل ہند سطح کے مشاعروں میں شرکت کے ذریعے شعراء کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔ بحیثیت صدر نشین اردو اکیڈیمی بھی جناب مسقطی مرحوم کی خدمات مثالی رہیں ۔ وہ اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے اور اردو تنظیموں و اداروں کی بھی ممکنہ حد تک سرپرستی و حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT