Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جناب عزیز پاشاہ اور پروفیسر ایس اے شکور کی بی سی کمیشن سے نمائندگی

جناب عزیز پاشاہ اور پروفیسر ایس اے شکور کی بی سی کمیشن سے نمائندگی

حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا و صدر آل انڈیا تنظیم انصاف اور عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسرس و اساتذہ نے پروفیسر ایس اے شکور کے ہمراہ بی سی کمیشن سے ملاقات کی اور مسلم تحفظات کے حق میں نمائندگی کی۔ جناب عزیز پاشاہ نے کہا کہ سابق میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں جو کوتاہیاں کی گئی تھیں اس کو دہرایا نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن کی رپورٹ تمام قانونی پیچیدگیوں سے بالاتر ہونی چاہیئے۔ جناب عزیز پاشاہ نے سدھیر کمیٹی اور دیگر کمیشنوں کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہائی کورٹ نے سابق میں نامکمل سروے کی بنیاد پر تحفظات کو کالعدم کردیا تھا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں کمیشن کو مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے شخصی طور پر جائزہ لینا چاہیئے۔ انہوں نے سدھیر کمیشن کی مساعی کی ستائش کی اور کہا کہ رپورٹ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا وسیع طور پر احاطہ کیا گیا ہے۔ جناب عزیز پاشاہ نے بی سی کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ صرف سدھیر کمیشن کی رپورٹ پر انحصار کرے بغیر مسلمانوں کی صورتحال کا علحدہ طور پر سروے کرے اور حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرے۔انہوں نے تمام سرکاری محکمہ جات اور اداروں سے مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ طلب کرنے کا مشورہ دیا۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم کی قیادت میں پروفیسر عطیہ سلطانہ، پروفیسر تاتار خاں، پروفیسر فاطمہ پروین، ڈاکٹر شہریار، ڈاکٹر معید جاوید، ڈاکٹر محمد نذیر احمد اور شیخ فہیم اللہ نے کمیشن سے کہا کہ مسلمان تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ ہیں اور سرکاری ملازمتوں میں ان کا فیصد گھٹ کر ایک رہ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں جہاں مسلمانوں کی نمائندگی 50 فیصد تھی آج تدریسی اسٹاف میں ایک فیصد ہوچکی ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ مسلمانوں کو معاشی حالت بہتر بنانے کے سلسلہ میں بینکوں سے قرض حاصل نہیں ہوتا۔ بنیادی سطح پر تعلیم ترک کرنے رجحان مسلمانوں میں زیادہ ہے جس کے سبب تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اکثریت کی ماہانہ آمدنی 6 تا 8 ہزار روپئے ہے جس سے ایک خاندان کا گذارا ممکن نہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے اور قانونی رکاوٹوں کے بغیر جامع رپورٹ پیش کرے۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشیل سائنسیس کے پروفیسر محمد عابد نے بھی کمیشن سے نمائندگی کی۔ آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن کی جانب سے میر ہادی علی، فراست علی باقری اور دلدار حسین عابدی بھی کمیشن سے رجوع ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT