Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / جنایات کے احکام

جنایات کے احکام

 

’’جنایات‘‘ یعنی وہ امور جو احرام یا حرم کی وجہ سے منع ہیں۔ جنایت واحد ہے جس کے معنی قصور وغلطی کے ہیں ، شریعت کی اصطلا ح میں ہر اس فعل کو جنایت کہتے ہیںجس کو شریعت نے حرام کیا ہے، اور یہ جان ومال دونوں کو محیط ہے،یعنی کسی کی جان یا مال میں کوئی اپنے عمل سے ضرر ونقصان کا باعث بنے تو شریعت نے اس کی جزا مقرر کی ہے ،عبادت حج میں جو قصور وکوتاہی ایک حاجی سے حالت احرام میں یاافعال حج کی ادائیگی میں یا حدود حرم میں ہوتی ہے اس کو جنایت کہا جاتا ہے اس پر بھی شریعت نے جزا واجب کی ہے (شامی:۲؍۲۱۶) حرم کی جنایت: حرم کے احترام کی وجہ شریعت مطہرہ نے کچھ احکام دیئے ہیں ان کی تعمیل ضروری ہے خلاف ورزی پر بطور تلافی کفارہ کا وجوب ہے ،حرم محترم کی خود رو گھاس ،یا اس کے خود روپیڑ ، پودے اکھیڑنا یا کاٹنا منع ہے ، یہ کسی کی ملک نہ ہوں تو اس کی قیمت راہ خدا میں دیدینا ہے، کسی کی ملک ہوں تو مالک کو ان کی قیمت ادا کرنا اور اسی کے بقدر مال صدقہ کرنا واجب ہے(فتاوی ہندیہ:۱؍۲۵۲) ایسے پودے یا درخت جو ازخود نہ اُگے ہوں بلکہ لگائے گئے ہوں ان کے کاٹنے کی ممانعت نہیں۔ اذخر ، ایک قسم کی خوشبو دار گھاس کا نام ہے ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خواہش پر آپ انے اس کے کاٹنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،اس لئے فقہا ء نے اذخر کاٹنے کو جنایت میں شمار نہیں فرمایا (فتاوی ہندیہ:۱؍۲۲۴) اسی طرح حرم کی تقدیس کی بنا مُحرِم غیر مُحرِم سب کیلئے اس(حرم ) کے جنگلی جانوروں کو پریشان کرنا یا ان کو ان کی جگہ سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبورکرنا یا ان کا شکار کرنا (بخاری:۴؍۴۶)خواہ ان کا کھانا حلال ہو یا نہ ہو،یا حرم کے پرندوں کے انڈے ضائع کرنا یا ان کا استعمال کرنا منع ہے۔شکار کرنے کی صورت میں دوعادل مسلمان اس کی قیمت کا جو تعین کریں گے اس کا صدقہ کرنا اسی طرح سے انڈے کی قیمت کا تعین کرکے اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے ، قیمت کے تعین میں اسی مقام کا اعتبار ہوگا اگر وہ صحراء ہو کہ وہاں قیمت کا تعین مشکل ہو تو قریب کی آبادی میںجوا س کی قیمت ہوسکتی ہے وہی متعین ہوگی اور اس کی قیمت صدقہ کی جائے گی، قیمت کا تعین ہوجانے کے بعد شکارکرنے والے کو اختیار ہے کہ اس کی قیمت سے قربانی کا جانور خرید کر حرم میں ذبح کردے ، یااس قیمت سے گیہوں خرید کر ایک ایک مسکین کو صدقہ فطر کی مقدار دیدے یا اس قیمت میں خریدے گئے گیہوں میں جتنے صدقۂ فطر بن سکتے ہوں ان میں سے ہر ایک کے عوض ایک ایک روزہ رکھے ۔ صدقہ حرم یا غیر حرم جہا ں چاہے دیا جاسکتا ہے اورروزہ بھی جہاں چاہے رکھا جاسکتا ہے،خاص حرم ہی میں صدقہ کرنا یا روزے رکھنا شرعا لازم نہیں البتہ جانور ذبح کرنے کی صورت میںحرم میں اس کا ذبح کرنا شرط ہے۔ البتہ موذی جانور جیسے سانپ ، بچھو ،بھیڑیا ،کاٹنے والا کتا ،کوا ،چیل اسی طرح جو درندہ حملہ آور ہو ان سب کا مارنا جائز ہے ۔ان کے قتل کوحضرت نبی پاک ا نے مباح فرمایا ہے۔اس بارے میں حضرت حفصہ وحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے بخاری ومسلم میں روایات موجود ہیں۔(مسلم:۲؍۸۵۸)وہ شکار جو حرم کے سوا غیر احرام کی صورت میں کیا گیا ہو اس کا کھانا مُحرِم کیلئے جائز ہے ۔ مُحرِم پالتو جانور جیسے بکری ،گائے ، اونٹ ،مرغی وغیرہ کو ذبح کرے تو اس کا ذبح کرنا اور اس کا کھانا دونوں جائز ہیں۔لیکن مُحرِم کا ذبح کیا ہوا شکار مردار ہے اس کا کھانا مُحرِم یا غیر مُحرِم کسی کیلئے جائز نہیں۔اسی طرح مُحرِم کو حالت احرام میں خشکی کے جنگلی جانوروں کا شکار کرنا ناجائز ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو !احرام کی حالت میں شکار مت کرو تم میں سے کوئی عمدا شکار کو قتل کریگا تو اس جانور کے مثل جزا دینا ہے ،جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل افراد کریں گے اور اس ہدی کو کعبۃ اللہ یعنی حرم کو پہنچا نا ہے ،یا اس جنایت کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اس کے بقدر روزے رکھنا ہے ، تاکہ وہ اپنے کئے کا بدلہ پالے ‘‘(المائدہ:۹۵) سمندری شکار حالت احرام میں جائز ہے خواہ اس کا کھانا جائز ہو یا نہ ہو۔ارشاد باری تعالی ہے :’’ سمندری شکا ر اور اس کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے ، تمہارے فائدہ کیلئے اور مسافروں کیلئے بھی اور حرام قرار دیا گیا ہے خشکی کا شکار جب تک کہ تم احرام کی حالت میں رہو‘‘(المائدہ:۹۶)

جنایات احرام: چہرہ یا سر ڈھانکنے یا سلا ہوا لباس پہننے کی جنایت: کوئی مرد ایک دن یا ایک رات یا اس سے زائدسر ، چہرے یا ان کے چوتھائی حصہ کو ٹوپی ، عمامہ یا کسی کپڑے سے ڈہانکے یا عورت صرف اپنے چہرے یا اس کے چوتھائی حصہ کو ایک دن یا ایک رات یا اس سے زائد مدت تک ڈہانکے رہے تو ایک دم واجب ہوجائے گا ،چوتھائی حصہ سے کم ڈہانکے یاایک دن یا ایک رات سے کم ڈہانکے تو صدقۂ فطرکی مقدار صدقہ کرنا واجب ہوگا(تاتارخانیۃ:۲؍۴۹۵)یہ عمل سہوا ہو یا قصدا ،نیند میں ہو یا بیداری میں،جبرا ہو یا رضامندی سے ، عذر کی وجہ سے ہو یا بلا عذر،ہر صورت میں جزا کا وجوب ہے ۔اسی طرح سے احرام کی حالت میں اگر کوئی مرد جسم کی ہیئت پر سلا ہوا لباس جیسے کرتا، پاجامہ وغیرہ ایک دن یا ایک رات یا اس سے زائدمدت تک پہنا رہے تو دم کا وجوب ہے ،اس سے کم میں یعنی ایک دن یا ایک را ت سے کم اور کامل ایک گھنٹہ ہو تو صدقہ فطر واجب ہے(فتاوی ہندیہ:۱؍۲۴۳) ایک گھنٹہ سے کم کی مقدار میں اگر سلا ہوا لباس پہنا ہو تو ایک مٹھی گیہوں صدقہ کردے۔حالت احرام میں خوشبو کے استعمال کی جنایت: حالت احرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے ، بدن کے کسی عضو پر خوشبو لگانے سے یا متفرق اعضاء پر تھوڑی تھوڑی خوشبو لگانے سے کہ اس کو جمع کیا جائے تو ایک بڑے عضو (جیسے چہرہ ، ران ، پنڈلی)کے بقدر ہو تودم کا وجوب ہے۔ خوشبو کی مقدار اگر زائد ہو کہ دیکھنے والے اس کو زائد مقدار جانیں تو اس صورت میں عضو کے کم حصے پر خوشبو لگی ہو تب بھی دم کا وجوب ہوگا ورنہ صدقۃ الفطر کی ادائیگی واجب ہوگی ۔ایک مجلس میں ایک کامل عضو پر دوسری مجلس میں ایک دوسرے کامل عضو پراسی طرح کئی اعضاء پر متفرق مجالس میں خوشبو لگانے سے متفرق مجالس کی تعداد کے بقدر متفرق دم واجب ہونگے۔ سر میں مہندی لگانے سے دم واجب ہوتا ہے ، مہندی رقیق (پتلی) ہو تو ایک دم کا وجوب ہوگا ، اگر مہندی میں اس قدر غلظت (گاڑھا پن ) ہو کہ اس سے بال چھپ جاتے ہوں تو مرد پر دو دم ( ایک دم خوشبو کی استعمال کے عوض ، دوسرا دم سر ڈھانکنے کے عوض)واجب ہوں گے۔ اس صورت میں عورت پر صرف ایک دم واجب ہوگا ، کیونکہ حالت احرام میں عورت کو سر ڈھانکنے کی ہدایت ہے ، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ ایک دن یا ایک رات تک گاڑھی مہندی لگی رہے ، ایک دن یا ایک رات سے کم ہو تو پھر صدقۃ الفطر واجب ہوگا ۔خالص خوشبو جیسے مشک ،زعفران ،لونگ ،الائیچی، دارچینی وغیرہ اتنی زائد مقدار میں کھائی جائے کہ منہ کے اکثر حصہ میں لگ جائے تو اس سے ایک دم واجب ہوجاتا ہے،ورنہ صدقۃ الفطر کا ادا کرنا واجب ہوگا ۔ خوشبو اگر کھانے کی چیزوں میں پک جائے تو ایسا کھانا کھانے پر کچھ واجب نہیں ۔ زیتون کا تیل یا تل کا تیل بطور خوشبو ایک کامل عضو پر لگانے سے دم واجب ہوگا ، ایک عضو سے کم پر لگائیں تو صدقۃ الفطر کا وجوب ہوگا ، بطور دوا تل کا تیل یا زیتون کا تیل لگانے یا کھانے سے کچھ واجب نہیں ہوگا (فتاوی ہندیہ:۱؍۳۴۱)خوشبو دار پھل یا پھول سونگھنے پر کسی جزاکا وجوب نہیں لیکن ارادۃً سونگھنا مکروہ ہے (فتاوی ہندیہ:۱؍۳۴۱؍۳۴۲) حالت احرام میں سر سے یا بدن سے بال نکالنے اور ناخن کاٹنے کی جنایت: سر کے علاوہ بدن کے کچھ مخصوص حصوں سے یا تمام بدن سے ایک ہی مجلس میں بال نکالنے سے ایک دم واجب ہوگا، متفرق مجالس میں یہ عمل کیا یعنی ایک مجلس میں سر کے دوسری مجلس میں بغل کے بال نکالے تو ایسی صورت میں علحدہ علحدہ دم واجب ہونگے(حوالہ سابق :۱؍۳۴۳) سر ، داڑھی ، گردن ،بغل اور زیر ناف کے بال نکالے جائیں تو دم کا وجوب ہوگا ، باقی اعضاء کے بال نکالے جائیں تو صدقہ واجب ہوگا ۔ وضو کرتے ہوئے محرم کے سر یا داڑھی کے تین بال گر جائیں تو ایک مٹھی گیہوں صدقہ کردیں ، اگر خود اکھاڑیں تو ہر بال کے عوض ایک مٹھی گیہوں ، تین بال سے زائد اکھاڑنے کی صورت میں نصف صاع یعنی تقریبا سواکیلو گیہوں صدقہ کرنے کا حکم ہے۔ محرم کے کسی فعل کے بغیر سر یا داڑھی وغیر ہ کے بال خود بخود گرجائیں تو کچھ واجب نہیںہوگا (تاتارخانیہ:۲؍۵۰۲) ایک مجلس میں ایک ہاتھ یا ایک پائوں کے، یا دونوں ہاتھوں کے یا دونوں پائوں کے، یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پائوں کے ناخن کاٹے جائیں تو ہر صورت میں ایک دم واجب ہوگا ۔ایک مجلس میں ایک ہاتھ کے ، دوسری مجلس میں دوسرے ہاتھ کے ناخن کاٹنے پر دو دم واجب ہو ں گے، اسی طرح چا ر مجالس میں علحدہ علحدہ ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پائوں کے ناخن کاٹنے سے چار دم لازم ہوں گے ۔پانچ ناخن سے کم کاٹنے پر یا پانچ متفرق انگلیوں کے ( یعنی ایک ہاتھ کے دواور دوسرے ہاتھ کے تین )ناخن کاٹنے پر دم واجب نہیں، البتہ ہر ناخن کے عوض کامل صدقۂ فطر کا ادا کرنا واجب ہوگا، ٹوٹے ہوئے ناخن کو علحدہ کرنے پر کچھ واجب نہیں (فتاوی ہندیہ:۱؍۳۴۴) حالت احرام میں مباشرت ومبادیات مباشرت کی ممانعت : احرام کی پابندیوں میں سب سے بڑی پابندی مباشرت ومبادیات مباشرت کی ہے کہ طواف زیارت تک اس سے اجتناب شرعا لازم ہے ، شہوت کے ساتھ اپنی بیوی سے بوس وکنار کرنا یا اپنے بدن کو اس کے بدن سے مس کرنا منع ہے ،فقہ کی اصطلاح میں اس کو مباشر ت فاحشہ کہتے ہیں اس طرح کے عمل سے انزال ہو یا نہ ہو ہر صورت میں دم واجب ہوجاتا ہے، شہوت کے بغیر میاں بیوی کاحالت احرام میںایک ساتھ رہنا منع نہیں(حوالہ سابق۲۴۴) وقوف عرفات سے قبل اور وقوف عرفات کے بعد مباشرت کا حکم : احرام باندھنے کے بعدسے طواف زیارت سے قبل تک مباشرت سے سخت ترین احتیاط لازم ہے، وقوف عرفہ سے قبل مباشرت کی صورت میں حج فاسد ہوجائیگااور احناف کے پاس دم یعنی ایک بکری واجب ہوگی، میاں بیوی اگر محرم ہوں تو مباشرت کی صورت میں دونوں پر الگ الگ دم واجب ہوگا ، ماباقی افعالِ حج کا ادا کرنا اور ممنوعات احرام سے بچنا ان دونوں پر لازم رہے گا ، ماباقی مناسک کی ادائیگی میں اگر ان سے کوئی جنایت ہو جاتی ہے تو اس کا کفارہ ان پر واجب ہوگا،اور آئندہ دونوں(میاں بیوی) پراس حج کی قضاء لازم رہے گی،اس حج کی قضاء کے موقع پر میاں بیوی کا جدا رہنا ضروری نہیں(حوالہ سابق) کیونکہ قضاء حج کی مشقت ہی ان کیلئے کافی ہے ،لیکن اس قضا حج میں اس طرح کی غلطی کا امکان ہوتو پھر میاں بیوی کو علحدہ رہنا چاہئے ۔حج فرض ہو یا نفل ہر دو کا یہی حکم ہے، ا ور یہ عمل چاہے عمدا ہویا بھول سے ، رضا مندی سے ہو یا عدم رضا مندی سے، نیند میں ہو یا بیداری میں ہر صورت میں یہی حکم ہے۔ وقوف عرفہ کے بعدطواف زیارت سے قبل اس غلطی کا ارتکاب ہو تو حج فاسدنہیں ہو گا، البتہ ایک بدنہ یعنی بڑے جانور(اونٹ یاگائے یا بیل وغیرہ)کی قربانی واجب ہوگی (تاتارخانیۃ:۲؍۴۹۶) طواف زیارت سے قبل رمی ،قربانی ا ور حلق تکمیل پاچکے ہوں تو ایسے طواف زیارت کے بعد مباشرت جائز ہے۔حلق کے بعد طواف زیارت سے پہلے مباشرت ہوتو اس پر بکری بطور دم دینا ضروری ہوگا (فتاوی ہندیہ: ۱؍۳۴۵)

TOPPOPULARRECENT