Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / جنتادل (یو) کے متوازی اجلاس ، پھوٹ کی نشاندہی

جنتادل (یو) کے متوازی اجلاس ، پھوٹ کی نشاندہی

شردیادو گروپ کا اجلاس اور جن عدالت ، جنتادل (یو) نتیش گروپ کی قومی عاملہ کا اجلاس ، باہم الزام تراشی

پٹنہ ۔ /18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) حریف جے ڈی یو گروپس جن کی قیادت نتیش کمار اور شردیادو کررہے ہیں کل متوازی اجلاس منعقد کریں گے جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اندیشہ ہے کہ پارٹی پھوٹ کی سمت پیشرفت کررہی ہے جبکہ نتیش کمار زیرقیادت گروپ نے بہار میں عظیم اتحاد سے ترک تعلق کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنتادل (یو) کی قومی عاملہ کا اجلاس اس کے قومی صدر اور چیف منسٹر نتیش کمار کی قیامگاہ پر کل منعقد کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ پارٹی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے میں شمولیت کی دعوت کی رسمی منظوری دے گی ۔ شردیادو کے وفادار جو بی جے پی سے اتحاد کے مخالف ہیں ایس کے میموریل ہال پٹنہ میں جن عدالت پروگرام بھی منعقد کررہے ہیں ۔ دونوں اجلاس سے واضح ہوتا ہے کہ جنتادل (یو) کے دونوں گروپس کے درمیان صف آرائی کا آغاز ہوچکا ہے اور پارٹی پھوٹ کی جانب پیشرفت کررہی ہے تاہم پرنسپال جنرل سکریٹری جے ڈی یو کے سی تیاگی نے کسی بھی پھوٹ کی تردید کرتے ہوئے شردیادو کے ترک تعلق کو ان کا اپنا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ چیف منسٹر کی قیامگاہ پر قومی عاملہ کا اجلاس جے ڈی یو کا سرکاری پروگرام ہے ۔

اس سوال پر کہ اس کا ایجنڈہ کیا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مفاد میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت کے قیام کی منظوری دی جائے گی ۔ جے ڈی یو الیکشن کمیشن بہار میں علاقائی پارٹی کی حیثیت سے مسلمہ ہے ۔ قومی عاملہ کے اجلاس میں این ڈی اے میں شمولیت کی صدر بی جے پی امیت شاہ کی دعوت پر آمادگی پر ظاہر کی جائے گی ۔ پارٹی کے دستور میں ترمیمات پر بھی غور کیا جائے گا ۔ جن عدالت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا سرکاری پروگرام نہیں ہے ۔ صدر جے ڈی یو بہار کے ترجمان سنجے سنہا نے کہا کہ جن عدالت پروگرام سے جے ڈی یو کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نتیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے راجیہ سبھا ایم پی علی انور انصاری اور سابق ریاستی وزیر رمائی رام نے کہا کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار کے حامی بی جے پی ، جنتادل اور ان کے مخالف حقیقی جنتادل کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ شردیادو کے وفادار وجئے ورما کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا پروگرام ملک میں سیکولر طاقتوں کا استحکام ہے ۔ تمام مخالف بی جے پی پارٹیاں کل قومی دارالحکومت میں اجلاس منعقد کرچکی ہیں جس کا مقصد ملک کے جامع تمدن کا تحفظ تھا ۔ سابق قومی جنرل سکریٹری ارون کمار سریواستو نے کہا کہ پارٹی کی نشانی پر نتیش کمار کا دعویٰ اس لئے نہیں ہے کہ وہ اس سے محبت کرتے ہیں اس لئے ہم الیکشن کمیشن سے رجوع ہوں گے بشرطیکہ ضرورت ہو ۔ سریواستو نے تیاگی پر نتیش کمار کی تائید کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ ’’اقتدار کی حوس‘‘ پر مبنی ہے

TOPPOPULARRECENT