Tuesday , September 19 2017
Home / ہندوستان / جنرل سیلس ٹیکس قانون سازی کے نمونے کو 15ستمبر کو قطعیت

جنرل سیلس ٹیکس قانون سازی کے نمونے کو 15ستمبر کو قطعیت

ریاستی وزراء فینانس کا اجلاس ‘ قبل از وقت سرمائی اجلاس ریاستوں کی آمادگی کیلئے اہم ‘ جی ایس ٹی کیلئے سودے بازی

نئی ہلی۔13ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاستی وزراء فینانس کی بااختیار کمیٹی کا ایک اجلاس منگل کے دن منعقد ہوگا تاکہ قانون سازیوں کو قطعیت دی جاسکے جن کی منظوری ریاستی مقننہ اداروں سے ضروری ہے ‘ تاکہ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس جی ایس ٹی ( اشیاء اور خدمت ٹیکس ) کے نفاذ کو قطعیت دی جاسکے‘ حالانکہ جی ایس ٹی کے نفاذ کی مجوزہ تاریخ یکم اپریل 2016ء سے نفاذ کی امیدیں موہوم ہے کیونکہ مرکز نے خصوصی اجلاس طلب کرنے کے نظریہ کو ترک کردیا ہے لیکن با اختیار کمیٹی تیاری کا کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔ 15ستمبر کا اجلاس با اختیار کمیٹی کی جانب سے طلب کیا گیا ہے جس میں نمونے کے مسودہ قانون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس کی جی ایس ٹی کے نفاذ کیلئے سخت ضرورت ہے ۔ کمیٹی کے سربراہ کیرالا کے وزیر فینانس کے ایم منی ہیں ۔ دونوں قانون سازیاں مرکز کا جی ایس ٹی اور ریاستی جی ایس ٹی کی منظوری متعلقہ ریاستوں کی مقننہ کی جانب سے ضروری ہے تاکہ ملک گیر سطح پر جی ایس ٹی کی شرح یکساں ہوں ۔

علاوہ ازیں دوسری قانون سازی متحدہ جی ایس ٹی کی ریاستوں کی جانب سے منظوری بھی ضروری ہے ۔ جی ایس ٹی کی دستوری ترمیمات کے بعد قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کیا جائے گا ۔ بعد ازاں مسودہ قانون رائے عامہ کیلئے پیش کیا جائے گا ۔ شعبہ تجارت اور شعبہ صنعت کی رائے بھی حاصل کی جائے گی ۔ سی جی ایس ٹی مرکزی قانون ہوگا اور ریاستوں کو اسی نمونے پر اپنی ریاستوں میں قانون سازی کرنی ہوگی ۔ ریاستوں کی جانب سے متحدہ جی ایس ٹی قانون کی منظوری بھی ضروری ہوگی جو اشیاء و خدمت کی بین ریاستی منتقلی سے متعلق ہوگا ۔ حکومت یکساں شرح جی ایس ٹی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے مرکزی اکسائز ‘ خدمات ٹیکس اور دیگر مقامی ٹیکس یکم اپریل سے ضم کردیئے جائیں گے ۔ امکان ہے کہ جی ایس ٹی ہندوستان کی جی ڈی پی کا ایک تا دو فیصد ہوگا ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ وہ اس قانون کو آئندہ اپریل سے نافذ کرنا چاہتے ہیں  ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت قبل از وقت پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس طلب کرے گی ‘ تاکہ ملک گیر سطح پر بالواسطہ ٹیکس نظام جی ایس ٹی آئندہ اپریل سے نافذ کیا جاسکے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ایک انتہائی اہم معاشی اصلاحات کا اقدام کیا جارہا ہے جو حکومت کے سرمائی اجلاس کو قبل از وقت طلب کئے بغیر نافذ نہیںکیا جاسکتا ۔ روایتی طور پر سرمائی اجلاس نومبر کے تیسرے ہفتہ سے منعقد کیا جاتا ہے لیکن دستوری ترمیمات کی منظوری کیلئے مالی سال کے نصف اول میں ریاستی اسمبلیوں اور کونسلوں کی جانب سے اس کی منظوری ضروری ہے ۔ سرمائی اجلاس بیشتر ریاستی اسمبلیوں کا اواخر نومبر اور اوائل ڈسمبر کے درمیان منعقد کیا جاتا ہے ۔لیکن اگر پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی اہم قانون اُس وقت تک منظور ہوجائے تو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ اسے ریاستوں سے منظور کرلیا جائے گا ۔ مرکز کو یقین ہونا چاہیئے ۔ دستور دفعہ 368کے بموجب دستوری ترمیمی بلس جن میں سے جی ایس ٹی بھی ایک ہے کم از کم پچاس فیصد ریاستی اسمبلیوں کی جانب سے منظور کیا جانا ضروری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT