Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / جنسی جرائم سے سختی سے نمٹنا ضروری : ہائیکورٹ

جنسی جرائم سے سختی سے نمٹنا ضروری : ہائیکورٹ

نئی دہلی ۔24اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ان جرائم سے سختی کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے ۔ خاطیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیئے ۔ دہلی ہائیکورٹ نے آج کہا کہ قید کی میعاد میں 3سال سے اضافہ کر کے اسے 7سال کردیا جانا چاہیئے ۔ عصمت ریزی ایک گھناؤنا جرم ہے اور یہ نہ صرف فرد کے خلاف ہے بلکہ بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کے خلاف ہے ۔یہ جرائم خاص طور پر خواتین کے خلاف ہوتے ہیں جن سے قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 376کے تحت نمٹا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایسے جرم سے سختی سے نمٹا جانا چاہیئے ۔ خاطیوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جانی چاہیئے ۔ سزا کے مدت میں اضافہ کیا جانا چاہیئے ۔ ہائیکورٹ کی ایک بنچ نے جو جسٹس جی ایس سیستانی اور جسٹس سنگیتا ڈھنگرا سہگل پر مشتمل تھی کہا کہ تین سال کی سزائے قید کا مشقت میں اضافہ کر کے اسے 7سال سزائے قید بامشقت میں تبدیل کیا جانا چاہیئے ۔عدالت نے کہا کہ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ کے تحت جو سزا مقرر کی جائے اسے جرم کی سنگینی اور اُس کے سماج پر اثرات کا عکاس ہونا چاہیئے ۔ وہ مجرم تنویر عالم کے مقدمہ کی سماعت کررہی تھی جس نے مبینہ طور پر 15سالہ لڑکی کی مئی 2011ء میں عصمت ریزی کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT