Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / جنسی ہراسانی کا شکار خاتون ملازمین کا تحفظ

جنسی ہراسانی کا شکار خاتون ملازمین کا تحفظ

شکایت کی تحقیقات کے دوران تین ماہ کی رخصت کی سہولت
نئی دہلی۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر جیتندر سنگھ نے آج کہا کہ خاتون ملازمین، جنسی ہراسانی کی شکایت کے بعد تحقیقات کے دوران تین ماہ تک رخصت حاصل کرسکتی ہیں تاہم حکومت کے پاس جنسی ہراسانی کی شکایات کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ مقامات کار (ورک پلیسیس) میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی روک تھام کے قانون میں یہ گنجائش ہے کہ شکایت درج کروانے کے بعد اگر تحقیقات معرض التواء ہیں تو وہ تین ماہ کی رخصت حاصل کرسکتی ہیں۔ مملکتی وزیر عملہ، عوامی شکایات اور وظائف نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی درخواست پر آجرین اس طرح کی رخصت منظور کرسکتے ہیں بشرطیکہ مقامی کمیٹی یا داخلی کمیٹی اس کی سفارش کرے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ خاتون ملازمین کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایتوں کی تعداد کتنی ہے، انہوں نے کہا کہ فی الحال حکومت کے پاس کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق جنسی ہراسانی بشمول جسمانی تعلقات اور نفسیاتی خواہش کی تکمیل کا مطالبہ یا درخواست، جنس زدہ تبصرے، فحش تصاویر دکھانا اور قابل اعتراض اشارے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ملازمت کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنانا، ملازمت سے نکال دینے کی دھمکیاں دینا، کام کاج میں مداخلت کرنا، غیرشائستہ سلوک بھی جنسی ہراسانی کی تعریف میں آتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT