Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / جنوبی امریکہ کے ملک سورینام اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی مساعی

جنوبی امریکہ کے ملک سورینام اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی مساعی

حیدرآباد میں ریپبلک آف سورینام کے کونسلیٹ کا قیام ، آصف اقبال کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد ۔ 15۔ جولائی (سیاست نیوز) جنوبی امریکہ کے ملک سورینام نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے بنگلور کے بعد حیدرآباد میں کونسلیٹ قائم کیا ہے۔ ریپبلک آف سورینام کا کونسلیٹ ریپبلک سورینام کا کونسلیٹ روڈ نمبر 80 جوبلی ہلز میں قائم کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں کونسل مسٹر آصف اقبال نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلور میں سورینام کا کونسلیٹ پہلے ہی قائم ہوچکا ہے اور حیدرآباد کا کونسلیٹ تلنگانہ اور آندھراپردیش دونوں ریاستوں کیلئے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور سورینام کے تعلقات میں حالیہ عرصہ میں کافی استحکام ہوا ہے۔ تجارت ، صنعت اور دیگر شعبوں میں دونوں ملکوں نے باہمی تعاون سے اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج سورینام کا دورہ کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ نائب صدر سورینام اور وزیر داخلہ نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ آصف اقبال نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی ڈسمبر میں سورینام کا دورہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساؤتھ امریکن مارکٹ کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے سورینام مختلف پراڈکٹس کے داخلہ کا اہم مرکز ہے۔ یہ ملک یوروپی مارکٹ سے گھرا ہے اور فرنچ گیانا کو صرف دو گھنٹے کی مسافت میں پہنچا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، فارسٹری، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون ممکن ہے ۔ آصف اقبال نے کہا کہ اکتوبر میں تجارتی وفود حیدرآباد سے سورینام کیلئے روانہ ہوں گے۔ حیدرآباد کی کمپنی FFF نے 50 ملین امریکی ڈالر کی سورینام میں سرمایہ کاری کی ہے۔ انڈو سورینام چیمبر آف کامرس نے گزشتہ دو برسوں میں مختلف تجارتی وفود سورینام روانہ کئے اور تلنگانہ میں زراعت اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سورینام کے کئی سرمایہ کار ہندوستان میں مختلف شعبوں میں شراکت کیلئے تیار ہیں۔ فلم انڈسٹری میں بھی دونوں ممالک تعاون کرسکتے ہیں۔ اس ملک کی مجموعی آبادی 5.8 لاکھ ہے اور وہاں کی سرکاری زبان ڈچ ہے۔ اس ملک میں 37 فیصد ہندوستانی نژاد بستے ہیں ، لہذا ہندی اور بھوجپوری زبانوں کا چلن عام ہے۔

TOPPOPULARRECENT