Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / جنوبی بحیرۂ چین پر چین کا دعویٰ مسترد

جنوبی بحیرۂ چین پر چین کا دعویٰ مسترد

بین الاقوامی ٹریبونل کا فیصلہ ناقابل قبول، چین کی عالمی سطح پر سفارتی تعاون کی اپیل، فلپائن نے فیصلہ کا خیرمقدم کیا
دی ہیگ ؍ بیجنگ ۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک بین الاقوامی ٹریبونل نے چین کے سرحدی تنازعہ میں اس کے تمام دعوؤں کو جو ساؤتھ چائناس کیلئے کئے ہیں، کے خلاف فیصلہ کیا ہے اور خصوصی طور پر کہا ہیکہ چین کے ان بیجا دعوؤں سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹریبونل نے اپنے تاریخی فیصلہ میں کہا ہیکہ چین کو سمندری علاقہ میں اپنے دعوے پیش کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ایسے علاقے جو ’’نائن ڈیش لائن‘‘ میں واقع ہیں۔ پرمننٹ کورٹ آف آربٹریشن نے ایک تاریخی فیصلہ میں یہ وضاحت کی۔ یاد رہے کہ اس فیصلہ سے قبل ہی دنیا کی نگاہیں ایشیا کے اعظم ترین ملک چین پر لگی ہوئی تھیں کیونکہ اس نے دی ہیگ میں واقع پی سی اے کے فیصلہ سے قبل ہی اناپ شناپ بیانات دیئے تھے کیونکہ اسے (چین) شاید بھنک لگ گئی تھی کہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ چین اپنے جنوب مغربی پڑوسی ممالک کے سامنے متنازعہ آبی حدود اس کی ملکیت قرار دیتا آرہا ہے جبکہ سب سے پہلے 2013ء میں حرکت میں آتے ہوئے منیلا نے بیجنگ کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے جہاں اس کا یہ ماننا ہیکہ چین کے 17 سال طویل مذاکرات کے بھی کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس سلسلہ میں بیجنگ نے یہ استدلال پیش کیا ہیکہ مذکورہ پیانل کو بین الاقوامی تنازعات کی یکسوئی کروانے یا اس میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں سرکاری اخبار ’’چائنا ڈیلی‘‘ نے اپنے صفحہ اول پر جزیرہ ووڈ کی تصویر شائع کی ہے۔ اس تاریخی فیصلہ سے قبل فلپائن کے نئے صدر راڈریگو ڈیوئیر نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ چین کے ساتھ کوئی پنگا نہیں چاہتے۔

جو فیصلہ صحیح کیا گیا اس پر وہ کوئی تبصرہ بھی کرنا نہیں چاہتے۔ چین کے دعوؤں کو حقیقت کا رنگ اس وقت دیا گیا جب 1940ء میں تیار کئے گئے ایک نقشہ چین سے نکلنے والی جنوبی نائن ڈیش لائن کو پورے سمندری علاقہ کا محاصرہ (نقشہ میں دائرہ کی شکل) کئے ہوئے دکھایا گیا تھا جبکہ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا تھا کہ جن سمندری علاقوں کو ’’دائرہ بند‘‘ کیا گیا ہے وہ علاقے صدیوں سے ماہی گیروں کے زیراستعمال ہیں۔ اپنے دلائل میں وزن پیدا کرنے کیلئے ان مصنوعی جزیروں کی جانب بھی توجہ دہانی کروائی گئی جو فوجی طیاروں کو رکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیراسیلس اور جنوبی چین جزیرہ کے درمیان بحریہ کی مشقیں بھی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف امریکی بحریہ چین کے دعوے والے اس کا بروف شول اور جزیرہ اسپارٹلی کے اطراف و اکناف گشت کررہی ہے جس میں بحریہ کے ساتھ تعاون کیلئے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس رونالڈ ریگن بھی شامل ہے۔ چینی میڈیا اب شوروغل کررہا ہیکہ عدالت کے فیصلہ کے  باوجود چین ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا جبکہ صدر ژی جن پنگ نے جاریہ ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ چین اپنی خودمختاری پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو چین دنیا کے کسی بھی ملک سے خوفزدہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں چین نے عالمی سطح پر سفارتی تعاون کی استدعا کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ٹریبونل کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔ ساؤتھ چائنا سی پر فالپائن کے ساتھ چین کا تنازعہ اب کونسا رخ اختیار کر ے گا اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا البتہ چین نے اپنا موقف ظاہر کردیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے کہا کہ چین کو انگولا، مڈغا سکر اور پاپوانیوگنی کا پورا تعاون حاصل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کون کررہا ہے اور کون نہیں کررہا ہے، عوام اس کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT