Friday , October 20 2017
Home / ہندوستان / جنوبی کشمیر میں انکاؤنٹر ، 3 جنگجو ہلاک

جنوبی کشمیر میں انکاؤنٹر ، 3 جنگجو ہلاک

متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے، کئی افراد زخمی

سری نگر۔16جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قریب 18گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ حزب المجاہدین کے تین مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوگئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’’آوورہ پہل گام میں گذشتہ سہ پہر سے ایک مکان میں محصور تینوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے‘‘’۔ ذرائع نے بتایا کہ جس رہائشی مکان میں جنگجو محصور تھے ، کو سکیورٹی فورسز نے پیر کی علی الصبح دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تینوں جنگجوؤں کی موت ہوئی۔ مارے گئے جنگجوؤں کے نماز جنازہ کے بعد قصبہ بج بہاڑہ میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے جس کے دوران سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ایک فوٹو جرنلسٹ سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے ۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس لیڈر اور ممبر اسمبلی پہل گام الطاف احمد کلو نے سرمائی دارالحکومت جموں میں جاری ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بولتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز نے آوورہ میں جھڑپ کے دوران رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے لئے ایک رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے مکمل طور پر زمین بوس کردیا ہے ۔ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت بج بہاڑہ کے رہنے والے عادل احمد ریشی، مسعود احمد شاہ اور عابد احمد شیخ کے بطور کی گئی ہے ۔جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق برفباری اور سخت سردی کے باوجود مارے گئے جنگجوؤں کے نماز جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف قصبہ بج بہاڑہ میں بڑے پیمانے پر آزادی حامی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا۔مقامی ذرائع نے یو این آئی کو فون پر بتایا کہ جھڑپ میں تین جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی بج بہاڑہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑک پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ سیکورٹی فورسزکی آنسو گیس کی شیلنگ سے فوٹو جرنلسٹ بلال بہادر کے علاوہ کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آنسو گیس کا شیل بلال بہادر کے بائیں ہاتھ میں لگا ہے ۔ قصبہ میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف پیر کو دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے ۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو جھڑپ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کی صبح روشنی کی پہلی کرن کے ساتھ مکان میں محصور جنگجوؤں کے خلاف آپریشن بحال کیا گیا اور تینوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’’آوورہ میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے اتوار کی سہ پہر مذکورہ گاؤں میں تلاشی کاروائی شروع کی‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ جب سکیورٹی فورسز کے جوان ایک مخصوص مکان کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ مکان میں محصور جنگجوؤں کو خودسپردگی کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے اسے ٹھکرادیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ وقفے وقفے سے رات بھر جاری رہا۔

TOPPOPULARRECENT