Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / جنوبی کشمیر میں ہلاکت خیز گرینیڈ حملہ‘3شہری ہلاک

جنوبی کشمیر میں ہلاکت خیز گرینیڈ حملہ‘3شہری ہلاک

ریاستی وزیر نعیم اختر محفوظ۔ 30دیگر زخمیوں میں سیکورٹی فورسیس کے جوان شامل
سری نگر،21 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبہ ترال میں جمعرات کو مشتبہ جنگجوؤں کی طرف سے کئے گئے گرینیڈ حملے میں 3 تین عام شہری ہلاک جبکہ آدھ درجن سیکورٹی فورس اہلکاروں سمیت 30 دیگر زخمی ہوگئے ۔زخمیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے ۔ تین مہلوکین میں ایک 17 سالہ طالبہ بھی شامل ہے ۔ ترال کے مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ گرینیڈ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے عام شہریوں پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیئے جس کے نتیجے میں مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔سیکورٹی اداروں کے مطابق حملہ آوروں کا بنیادی ہدف ریاستی وزیر اور حکومتی ترجمان نعیم اختر تھے ۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے بتایا کہ ایک وزیر (نعیم اختر) کے قافلے کو نشانہ بناکر دور سے ایک رائفل گرینیڈ داغا گیا۔تاہم یہ رائفل گرینیڈ جنرل بس اسٹینڈ ترال میں اس وقت پھٹ گیا جب وزیر کے قافلے میں شامل آخری سیکورٹی گاڑی جارہی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ بعد میں سینئر پولیس عہدیداروں نے وزیر کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مسٹر نعیم اختر وہاں ایک بڑے پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے گئے ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر وید نے حملے کو جنگجویانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث تنظیم کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ مشتبہ جنگجوؤں نے جمعرات کو قریب دوپہر بارہ بجے ضلع پلوامہ کے بس اسٹینڈ ترال میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ایک پارٹی کو نشانہ بناکر گرینیڈ پھینکا۔انہوں نے بتایا کہ یہ گرینیڈ نشانہ چوک کر اس جگہ پر گر کر پھٹ گیا جہاں لوگوں کی بھاری بھیڑ موجودتھی۔ ذرائع نے بتایا کہ گرینیڈ دھماکے کے بعد بس اسٹینڈ میں درجنوں زخمی گرے پڑے نظر آئے ۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ زخمیوں کو فوری طور پر نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم گرینیڈ کے آہنی ریزوں سے شدید طور پر زخمی ہونے والے تین عام شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں سی آر پی ایف کے 7 اہلکار بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 6 زخمیوں کو سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال منتقل کیا گیاہے۔
جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا ‘اس ہلاکت خیز گرینیڈ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی جنگجو تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ‘۔ انہوں نے مہلوکین کی شناخت 17 سالہ طالبہ پنکی کور، غلام نبی اور محمد اقبال خان کے طور پر کردی۔ بتایا جارہا ہے کہ تینوں مہلوکین کا تعلق ترال سے ہے ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ گرینیڈ دھماکے کی آواز پورے قصبہ میں سنی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گرینیڈ کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گرینیڈ دھماکے کے بعد قصبہ بالخصوص بس اسٹینڈ میں افراتفری مچ گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرینیڈ دھماکے کی وجہ سے کئی دکانوں اور رہائشی مکانوں کے شیشے چکنا چور ہوئے ۔ ترال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پورے قصبہ میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہوگئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی۔سی آر پی ایف کے ایک ترجمان نے یو این آئی کو بتایا کہ گرینیڈ حملے کے فوراً بعد قصبہ ترال میں تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور گرینیڈ پھینکنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔سیکورٹی اداروں کے مطابق حملہ آوروں کا بنیادی ہدف ریاستی وزیر اور حکومتی ترجمان نعیم اختر تھے ۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گرینیڈ حملے کی مذمت کرتے ہوئے نعیم اختر کے بحفاظت ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ‘میں جنگجوؤں کے اس حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ نعیم اختر صاحب کے محفوظ ہونے پر خوش ہوں۔ میری ہمدردیاں حملے کے مہلوکین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں’۔

 

TOPPOPULARRECENT