Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام اور شوپیان ٹاؤن میں کرفیو

جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام اور شوپیان ٹاؤن میں کرفیو

سری نگر 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام اور شوپیان ٹاؤن میں آج کرفیو لاگو کردیا گیا جبکہ گزشتہ روز 2 عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی، ایک عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان انکاؤنٹر میں ہلاک ہوا اور دیگر اُس کے بعد کئے گئے احتجاجوں میں مارا گیا۔ علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے پوری وادی میں ہڑتال کی اپیل کی گئی تاکہ اِن اموات کے خلاف احتجاج درج کرایا جاسکے جس پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہاکہ سارے ضلع کلگام اور شوپیان ٹاؤن میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے تاکہ کل کی ہلاکتوں کے تناظر میں لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا جاسکے۔ تاہم جنوبی کشمیر سے گزرنے والی سری نگر ۔ جموں قومی شاہراہ پر عوام کی نقل و حرکت کی اجازت دی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ وادی میں دیگر کسی بھی مقام پر عوام کی نقل و حرکت پر کوئی تحدید نہیں ہے لیکن حساس علاقوں میں سکیوریٹی فورسیس تعینات کئے گئے ہیں تاکہ غیر سماجی عناصر پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔ ضلع کلگام میں اتوار کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پیش آئی خونریز جھڑپ اور اس کے بعد آزادی کے حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں4 جنگجوؤں اور 2 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی بھر میں پیر کو علیحدگی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ میں 2 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک میجر سمیت تین دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں مزیداحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کلگام اور شوپیان میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔تاہم اس کے بعد آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں میں ایک شہری جاں بحق جبکہ کم از کم دو درجن دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے قریب ایک درجن کو گولیاں لگی ہیں۔ اس دوران ریاستی پولیس نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی پرسنل سکریٹری صوفی فہمیدہ کو حراست میں لیکر زنانہ پولیس تھانہ رامباغ منتقل کردیا ۔آسیہ اندرابی جنہیں گذشتہ برس4 اکتوبر کو حراست میں لیکر21 دسمبر کو رہا کیا گیا تھا، اُن کو پولیس نے پیر کی صبح اپنی رہائش گاہ سے دوبارہ حراست میں لیا ہے جہاں وہ نظربند تھیں۔ کلگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع کے سبھی بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹرس میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ایسے علاقوں میں اہم سڑکوں کی خاردار تاروں سے ناکہ بندی کردی گئی ہیجبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے ۔ کلگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ انہیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ ، سبزیاں اور روٹی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شوپیان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق وہاں بھی کلگام جیسی صورتحال نظر آرہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT