Thursday , April 27 2017
Home / Top Stories / !جنوبی ہند کے کوآپریٹیو بینکس ، قائدین کیلئے راحت کا ذریعہ

!جنوبی ہند کے کوآپریٹیو بینکس ، قائدین کیلئے راحت کا ذریعہ

کیا 10,000 کروڑ بھی سیاستدانوں کے گروپ نے جمع کروائے تھے ؟ عوام میں تجسس
حیدرآباد۔19نومبر(سیاست نیوز) کرنسی کی تنسیخ کے معاملہ میں ہوتے جا رہے انکشافات ملک میں کئی چہرے بے نقاب کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مرکز سے دوستی رکھنے والے سیاستدانوں کو بڑی حد تک راحت حاصل ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے اعلان کے ساتھ ہی اس بات کے دعوے کئے جانے لگے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کو اشارے دے دیئے تھے کہ وہ ایسا کچھ کرنے جا رہے ہیں جس سے ملک میں کہرام مچ جائے گا۔ ملک بھر میں 8نومبر کی شب کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے بہت کم اثرات سیاسی قائدین پر مرتب ہوئے ہیں کیونکہ دوست سیاسی قائدین نے ان معاملات کی یکسوئی یقینی بنا لی تھی۔ کو آپریٹیو بینکوں میں پرانی کرنسی کی تبدیلی کو بند کیئے جانے کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ جنوبی ہندکی ریاستوں تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش‘ ٹامل ناڈو ‘ کیرالہ کے علاوہ مہاراشٹرا میں کو آپریٹیو بینکوں کی بڑی تعداد سیاستدانوں کی ہیں اور کوآپریٹیو بینکس پر سیاسی قائدین اثر انداز ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 1000اور500کے نوٹوں کی تنسیخ سے قبل کوآپریٹیو بینکوں کی نئی شاخوں کا آغاز بھی عوام میں شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے کیونکہ کئی برسوں سے چلائے جانے والے کوآپریٹیو بینک جن کی شاخیں بتدریج بڑھائی جاتی تھی اچانک ان میں کئی شاخوں کا اضافہ مودی پر عائد کئے جانے والی الزامات کی توثیق کر رہا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں انتخابات میں دولت کے استعمال اور سیاسی قائدین کی دولت کے متعلق وکی لیکس کے انکشافات موجود ہیں اور ایسے میں کرنسی کی تنسیخ سے چند ماہ قبل سیاسی قائدین کے کوآپریٹیو بینکوں کی شاخوں میں اضافہ باعث حیرت و تشویش ہے۔ عوام کو کرنسی کی تبدیلی میں ہونے والی پریشانیوں کے باوجود قائدین کو راحت میسر آنے کی وجہ نہ صرف ان کے اپنے بینک بنے ہیں بلکہ وہ جن بینکوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں ان بینکوں سے بھی سیاستدانوں نے اپنے کرنسی نوٹ تبدیل کروا لئے ہیں۔ موجودہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ سیاستداں کے متعلق موصولہ اطلاعات کے بموجب ملک میں کرنسی کی تنسیخ کے اعلان کے ساتھ انہوں نے اپنے علاقہ اور اطراف میں موجود علاقوں میں موجود کو آپریٹیو بینکوں سے اپنی غیر محسوب کرنسی تبدیل کروائی ہیں۔ رائلسیما سے تعلق رکھنے والے سابق ریاستی وزیر کی جانب سے کی گئی اس کامیاب کوشش میں انہیں بڑی حد تک راحت حاصل ہوئی ہے اور اب بھی وہ اس بات کی کوشش میں ہیں کہ مابقی دولت کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے۔ اسی طرح پرانے شہر کے علاقہ بالاپور میں ایک سیاسی قائد نے اپنے فرزند کے نام سے کالونی کی تعمیر کے لئے 60 کروڑ کی معاملت کی ہے اسی طرح نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان سے قبل کی جانے والی معاملتیں بھی شک کے دائرے میں ہیں کیونکہ کئی اداروں اور شخصیتوں نے اس اعلان سے قبل بے دریغ رقومات خرچ کرتے ہوئے جائیدادیں خریدی ہیں۔ 8نومبر کی شب کرنسی کی تنسیخ کے اعلان نے جہاں عوام میں ہلچل پیدا کردی ہے وہیں اس فیصلہ کے بعد چہ مئیگویاں بڑھ چکی ہیں اور لوگ ان امور پر غور کرنے لگیہیں جن کے ذریعہ سیاسی قائدین اپنی غیر محسوب رقومات کو تبدیل کروا سکتے ہیں۔ ان مباحث کے دوران اب یہ سوال بھی کئے جانے لگے ہیں کہ گذشتہ ماہ یعنی اکٹوبر کے اوائل میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی شخص کی جانب سے 10000کروڑ کے غیر محسوب اثاثہ جات کا جو رضاکارانہ انکشاف کیا گیا تھا وہ شخص کون تھا اور اس نے 45فیصد کی ادائیگی کے ذریعہ حکومت کی اسکیم کے تحت 10000کروڑ کا انکشاف کرتے ہوئے مابقی دولت کو محسوب اثاثوں میں شامل کرلیا ہے۔کرنسی کے متعلق جاری اس بحث کے دوران جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے کہ آخر کس نے اتنی غیر محسوب دولت کا رضاکارانہ طور پر انکشاف کیا ہے اس اسکیم میں ہندستان کے مختلف شہروں میں غیر محسوب رقومات کا انکشاف کیا گیا لیکن ملک بھر میں کالے دھن کے انکشاف میں حیدرآباد سرفہرست رہنے پر اس وقت کوئی مباحث نہیں ہوئے تھے لیکن اب عوام کو بھی اندازہ ہونے لگا ہے کہ کون اتنی دولت جمع کرواسکتا ہے کیونکہ کروڑہا روپئے کی جائیدادیں وہ بھی بغیر کسی تجارتی سرگرمیوں کے جمع کرنے والے سیاستداںعوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔عوام میں یہ احساس پیدا ہوتاجا رہا  ہے کہ 10000کروڑ کی دولت کا انکشاف کرنے والے بھی سیاستداں ہی ہو سکتے ہیں ۔باوثوق ذرائع کے بموجب حیدرآباد میں جو دولت کا انکشاف اس اسکیم کے دوران کیا گیا ہے وہ ایک گروپ کی ہے جسے سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور بیشتر سیاستدانوں کی نے اس گروپ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ اس کے علاوہ اراضیات کی معاملتیں اور مختلف سرگرمیوں بالخصوص بعض تجارتی سرگرمیوں کے حصہ ہونے کے متعلق اطلاعات نے سیاستدانوں کو کچھ حد تک پریشان کر رکھا تھا لیکن ان کی یہ پریشانیاں اب بڑی حد تک دور ہو چکی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT