Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / جنوب مشرقی ایشیاء کو دولت اسلامیہ کا اڈہ بنانے کی کوشش

جنوب مشرقی ایشیاء کو دولت اسلامیہ کا اڈہ بنانے کی کوشش

ملائیشیاء کا انتباہ ‘ نائب وزیراعظم ملائیشیاء احمد زاہد حمیدی کا بیان ‘ انڈونیشیاء کے محکمہ سراغ رسانی کی اطلاعات کا حوالہ

کوالالمپور۔7اگست ( سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیاء نے انتباہ دیا کہ انڈونیشیاء میں واقع عسکریت پسندوں کے پیرو انڈونیشیاء کے 6 عسکریت پسندوں کی سنگاپور کے ساحل میرینا پر میزائل حملہ کی سازش کیلئے گرفتار ہونے کے بعد انتباہ دیا ہے کہ یہ لوگ جنوب مشرقی ایشیاء کو دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ کا نیا اڈہ بنانے کی سازش کررہے ہیں ۔ ملائیشیاء کے نائب وزیراعظم احمد زاہد حمیدی نے کہا کہ انڈونیشیاء کے محکمہ سراغ رسانی کی اطلاعات کے بموجب ابوبکر بشیر کے 300پیرو جو قید میں تھے رہا کئے جاچکے ہیں ۔ مبینہ طور پر وہ باتم گئے جو انڈونیشیاء کے جنوبی بحرچین میں مجموعی جزائر کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے ۔ سنگاپور سے کشتی کے ذریعہ مختصر سے سفر کے بعد اس جزیرہ پر پہنچا جاسکتا ہے ۔ یہ آزادانہ تجارت کا علاقہ ہے ۔ اس کی کئی مصروف بندرگاہیں ہیں ۔ یہ جزیرہ اپنے ساحلوں اور تفریح مراکز کیلئے بھی مشہور ہے ۔ اس جزیرہ سے یہ عسکریت پسند جنوب مشرقی ایشیاء کو دولت اسلامیہ کی نئی بندرگاہ بنانے کی سازش کررہے ہیں ۔

نائب وزیراعظم ملائیشیاء نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ابوبکر جنہیں جماعت اسلامیہ کا مذہبی رہنما سمجھا جاتا ہے ‘ 2002ء کے بالی بم دھماکوں کی سازش کے بانی تھے ‘ انہیں 2011ء میں 15سال کی سزا قید ہوئی ۔ احمد زاہد نے کہا کہ ملائیشیا والوں کو انتہا پسندی سے خبردار رہنا چاہیئے کیونکہ یہ ایسے مرحلے پر پہنچ سکتی ہے جہاں اس سے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ اگر ایسا ہوجائے تو کبھی بھی تباہی آسکتی ہے ۔ جنوب مشرقی ایشیائی علاقے کیلئے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر ایک سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملائیشیائی عہدیدار اپنے ہم منصبوں سے اس علاقے کے صیانتی انتظامات میں اضافہ کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔ 6 انڈونیشیائی عسکریت پسند بشمول دولت اسلامیہ کے جنگجو جمعہ کے دن گرفتار کرلئے گئے تھے کیونکہ وہ سنگاپور کے ساحل میرینا پر حملہ کی سازش کررہے تھے ۔ جمعہ کے دن سنگاپور کے ساحل میرینا پر ناکام راکٹ حملے کی سازش کے سلسلہ میں احمد زاہد نے کہا کہ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے اثاثہ جات اور ان علاقوں کی افرادی طاقت کو صیانتی مقاصد کیلئے ’’ سیاہ مقامات ‘‘ قرار دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT