Thursday , October 19 2017
Home / دنیا / جنوری میں شامی حکومت شام اور اپوزیشن کے مذاکرات

جنوری میں شامی حکومت شام اور اپوزیشن کے مذاکرات

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امن مذاکرات کا آغاز، جنگ بندی نافذ

نیویارک ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)  امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی حل پر روس اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ جان کیری اپنے اس دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور اپنے ہم منصب سرگی لاوروف سے ملاقاتیں کریں گے۔ امریکہ اور روس کے درمیان شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے حوالے سے شامی صدر بشار الاسد کے رول پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ صدر بشار الاسد اقتدار چھوڑ دیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ صرف شامی عوام کر سکتی ہے۔ بات چیت سے قبل روس کے وزارت خارجہ نے امریکی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے ‘شدت پسندوں کو اچھے اور برے کی درجہ بندی میں تقسیم کیا ہے۔ ‘روس شام میں فضائی حملے کرتا آرہا ہے جن میں اس کے مطابق وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ امریکہ الزام عائد کرتا ہے کہ روس باغیوں کو نشانہ بنا رہا تاکہ اپنے اتحادی صدر بشار الاسد کو مضبوط کر سکے۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکی اتحادی دمشق میں حکام کے ساتھ تعاون کیے بغیر گذشتہ سال ستمبر سے شام میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جان کیری جاریہ ہفتے شام پر ہونے والے بین الاقوامی مزاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ شامی حکومت اور کے درمیان مذاکرات بھی آئندہ سال جنوری میں ہونے کے امکانات ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جان کیری ماسکو کے دورے کے دوران مشرقی یوکرین میں استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کرنے کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔

جنیوا سے موصولہ اطلاع کے بموجب یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا جبکہ بندوقیں خاموش ہوگئیں اور سعودی زیرقیادت مخلوط اتحاد نے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے کرنا بند کردیا ہے۔ ایک ہفتہ طویل جنگ بندی کا مقصد متحارب گروہوں کو اس تنازعہ کا ایک حل تلاش کرنے کا موقع دینا ہے جو عالم عرب کے غریب ترین ملک کو مزید پریشانی و مسائل میں مبتلاء کررہے ہیں لیکن صرف حکومت یمن کے عہدیدار بات چیت کی توثیق کرسکے۔ باغیوں کے قائدین میں صلح کیسے کی جائے اور اسے کیسے برقرار رکھا جائے اس بارے میں ہنوز اختلافات برقرار ہیں۔ یمن باغیوں اور سعودی زیرقیادت اتحاد کے علاوہ صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار افواج اور حکومت کی وفادار افواج کے درمیان لڑائی کی وجہ سے بری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ سعودی زیرقیادت اتحاد سابق حکومت یمن کا حامی ہے اور اس نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ سلسلہ فی الحال بند کردیا گیا ہے کیونکہ امن مذاکرات کے دوران ایک ہفتہ طویل جنگ بندی نافذ کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT