Sunday , July 23 2017
Home / ہندوستان / جنگجوؤں نے کشمیر میں پانچ ہتھیار لوٹ لئے ،پولیس افسرمعطل

جنگجوؤں نے کشمیر میں پانچ ہتھیار لوٹ لئے ،پولیس افسرمعطل

پولیس سے ہتھیار چھین لینے کا بڑھتا رجحان باعث تشویش
سرینگر،3مئی(سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں کورٹ کامپلکس میں تعینات پولیس ملازمین پر حملہ کرکے جنگجوؤں نے پانچ خودکارہتھیار لوٹ لئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کا ایک گروپ کل رات شوپیان میں ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کے گارڈ کے کمرے میں گھس آیا۔جنگجوؤں نے بعد میں پولیس اہلکار سے پانچ سیلف لوڈیڈ رائفل(ایس ایل آر)چھین لی۔ ذرائع کا مزید بتایا کہ پولیس اہلکارکو نوکری سے لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا گیاکیونکہ جب عسکریت پسند ان کے ہتھیار لوٹ رہے تھے انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ہتھیار لوٹنے کی واردات کے پیش نظر ان کی گرفتاری کے لئے بڑے پیمانے پرمہم شروع کی گئی ہے ۔یہ واردات ایک مزید واقعہ کے 24گھنٹے بعد پیش آئی جس میں عسکریت پسندوں نے کولگام ضلع میں جموں و کشمیر بنک کی نقد وین پر حملہ کرکے پانچ پولیس اہلکاروں اوردو بینک ملازمین کوہلاک کردیاتھا۔عسکریت پسندوں کے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار لوٹنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔البتہ زیادہ تر لوٹے گئے ہتھیار کچھ وقت بعد برآمد کرلئے گئے ہیں۔جنگجوؤں کی جانب سے لوٹے جانے والے ہتھیار بظاہر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے نوجوانوں کو عسکری کاروائیاں انجام دینے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ سیکورٹی عہدیداروں کے مطابق جنگجوؤں کی جانب سے سیکورٹی فورسز سے ہتھیار چھیننے کی بڑھتی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ ایک سیکورٹی عہدیدار نے بتایا کہ وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں ہتھیار چھیننے کی وارداتیں بلا کسی شک و شبے کے باعث تشویش ہیں۔ تاہم اس رجحان کو روکنے کی سمت میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ اگرچہ گزشتہ برس برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہتھیار چھیننے کی پے در پے وارداتوں کے بعد جموں وکشمیر پولیس نے ہتھیاروں میں کمپیوٹر چپ نصب کرنے کا فیصلہ لیا تھا تاکہ چھیننے جانے والے ہتھیاروں کا بعد میں بہ آسانی پتہ لگایا جاسکے ، تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک جنگجوؤں کی جانب سے سیکورٹی فورسز بالخصوص ریاستی پولیس کے اہلکاروں سے قریب 80 ہتھیار چھین لئے گئے ہیں۔ان میں سے قریب 70 فیصد وارداتیں جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں پیش آئی ہیں۔ وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق وادی میں گذشتہ برس جولائی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد صرف تین ماہ کے عرصے کے دوران جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیار چھیننے کی 14 وارداتیں انجام دی گئیں جن میں 66 ہتھیار چھین لئے گئے ۔ ہتھیار چھیننے کی پے در پے وارداتیں پیش آنے کے بعد جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کے مہلوک کمانڈر برہان وانی کے قریبی ساتھی ذاکر شید بٹ نے گذشتہ برس اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ایک ویڈیو جاری کرکے انکشاف کیا تھا کہ بہت سے کشمیری نوجوانوں نے سیکورٹی فورسز سے ہتھیار چھین کر جنگجوؤں کے صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔برہان وانی کے جانشین سمجھے جانے والے ذاکر رشید نے ایک منٹ اور چالیس سیکنڈ کے اس ویڈیو میں کہا تھا کہ بہت سارے بھائیوں نے جہاد کا راستہ اختیار کیا ہے ۔انہوں نے ہتھیار چھین کر لائے ہیں۔ ہمارے صفوں میں شامل ہوئے ہیں۔ اور انشاء اللہ جو بھی بھائی ہمارے صفوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ، وہ ہتھیار چھین کر لائیں ۔ ہم تہہ دل سے انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ اگرچہ گزشتہ برس اکتوبر کے بعد ایسی وارداتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ہتھیار چھیننے کی وارداتوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اچانک ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا۔

راجوری میں فوجی جوان نے خودکشی کی
جموں۔ 3 ۔مئی (سیاست ڈاٹ کام) جمو ں و کشمیر کے لائن آف کنٹرول والے علاقے راجوی ضلع کے قریب ایک فوجی جوان نے اپنی ہی بندوْق سے خودکشی کرلی۔ پولیس نے آج بتایا کہ کل شام ڈیوٹی پر تعینات لام علاقے میں 5راشٹریہ رائفل کے جوان وشال لوہار نے کل شام لائن آف کنٹرول کے قریب نوشیرہ سیکٹر میں یہ انتہائی قدم اٹھایا۔انہوں نے بتایا کہ وشال کے ساتھی جائے واقعہ پرپہنچے تو وشال خون میں لت پت تھا۔ وشال کو اسپتال لے جانے پر مردہ قراردیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT