Wednesday , June 28 2017
Home / ہندوستان / جنگ بندی کی پاکستانی خلاف ورزی، بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل ہلاک

جنگ بندی کی پاکستانی خلاف ورزی، بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل ہلاک

کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کے احیا سے معمولات زندگی مفلوج، دشمن کو دیکھتے ہی گولی مارنے وزیر دفاع کا حکم
جموں۔21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج نے آج ضلع جموں کے پوجنجھ سیکٹر کی کرشنا گھاٹی میں ہندوستانی چوکیوں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا جس کی وجہ سے بی ایس ایف کا ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔ فوج اور بی ایس ایف نے پاکستانی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دیا اور فائرنگ کا دبادلہ ہنوز جاری تھا۔ پاکستانی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی 8:30 بجے صبح کرتے ہوئے خط قبضہ پر کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ہندوستانی چوکیوں پر فائرنگ کی جس کا چوکیوں کی جانب سے سخت جواب دیا گیا۔ گزشتہ 12 گھنٹے کے دوران پاکستان کی جانب سے خط قبضہ پر پونجھ اور راجوری اضلاع میں تیسری بار خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ بی ایس ایف کے ہیڈ کانسٹیبل 40 رائے سنگھ جو کل رات پاکستانی شل باری سے زخمی ہوگئے تھے آج زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ بی ایس ایف کا ایک اور فوجی جو فائرنگ میں زخمی ہوگیا تھا’، نازک حالت میں ہے۔ گزشتہ رات پاکستان کی جانب سے راجوری کے علاقہ میں خط قبضہ پر زبردست شل باری کی گئی جس میں 5 بی ایس ایف سپاہی زخمی ہوگئے۔ ہیڈ کانسٹیلب شدید زخمی تھا جو زخموں سے جانبر نہ ہوسکا جبکہ دوسرے فوجی کی حالت تشویش ناک ہے۔ رائے سنگھ ضلع ججھر ہریانہ کا متوطن تھا اس کے ورثاء میں بیوی، تین بیٹے اور والدہ شامل ہیں۔ سری نگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب وادی کشمیر میں معمولات زندگی دوبارہ مفلوج ہوگئے۔ جبکہ علیحدگی پسندوں نے ہفتہ کے دن ہڑتال میں نرمی پیدا کرنے کے بعد آج اس کا احیاء کیا۔ ہڑتال کا اثر وادی کشمیر میں نمایاں طور پر نظر آرہا تھا۔ 133 دن کی بے چینی کے بعد جو چہل پہل نظر آرہی تھی آج مفقود تھی۔ سڑکیں سنسن نظر آرہی تھیں۔ سرکاری ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں سیول لائنس اور شہر کے مضافات میں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ کئی دکانیں پیٹرول پمپ اور دیگر تجارتی ادارے آج دوبارہ بند کردیئے گئے۔ جبکہ علیحدگی پسندوں کی نرمی کی مدت ختم ہوگئی تھی۔ ہر ضلع ہیڈ کوارٹر پر سڑکیں سنسان تھیں۔ بین ضلعی ٹیکسیاں جو سری نگر کو وادی کے دیگر اضلاع سے مربوط کرتی ہیں، چلتی نظر آرہی تھیں۔ بعض خوانچہ فروشوں نے ٹی آر سی چوک بٹمالو چوراہے سے لال چوک تک اپنی عارضی دکانیں قائم کی تھیں۔ علیحدگی پسندوں نے ہفتہ وار احتجاجی پروگرام جاری کیا ہے۔ تاحال 86 افراد بشمول پولیس ملازمین ہلاک اور ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے۔ تقریباً 5 ہزار فوجی بھی عوام کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ پاناجی سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیر دفاع منوہر پاریکر نے وادی کشمیر میں ایک ہیڈ کانسٹیبل کی موت کی اطلاع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو پورا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مسلح اشخاص کو دیکھتے ہی ان پر گولی چلادیں اور اپنے شہید ہونے کا انتظار نہ کریں۔ کشمیر میں ہماری فوج دہشت گردوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ کانگریس حکومت نے ہدایت دی تھی کہ جب تک دہشت گرد آپ پر گولی نہ چلائیں جوابی کارروائی نہ کی جائے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعم نریندر مودی کی حکومت مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد فوج کے حوصولہ بلند ہوگئے ہیں۔ فوج کو وزارت دفاع سے فائرنگ کی اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ انہیں پورا اختیار ہے کہ ہمارے دشمن کو منہ توڑ جواب دیں۔ انہوں نے احساس ظاہر کیا ہے کہ ہمارے بعض فوجی شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 6 تا 8 ماہ وزارت دفاع کی کارکردگی کو سمجھنے میں لگ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں وہ اس کی کارکردگی سے واقف نہیں تھے۔ 6 تا 8 ماہ بعد انہیں پوری طرح وزارت دفاع کی کارروائی سمجھ میں آگئی۔ منوہر پاریکر مرکزی حکومت میں وزیر دفاع مقرر کئے جانے سے قبل ریاست گوا کے چیف منسٹر تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT