Sunday , October 22 2017
Home / مضامین / جنگ ہندوستان کے مفاد میں نہیں

جنگ ہندوستان کے مفاد میں نہیں

ظفر آغا

’ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہیںجائے‘ یہ مثال کسی پر سب سے زیادہ صادق آتی ہے تو اس کا نام ہے پاکستان ، ابھی مشکل سے ہفتہ دس دن قبل کشمیر میں سرحد کے قریب اڑی کے فوجی اڈے پر پاکستان نے جو دہشت گردانہ حملہ کیا وہ ہیرا پھیری تھی۔ دراصل پاکستان کو اس طرح کی چھچھوری حرکتیں ہندوستان کے خلاف کرنے میں مزہ آتا ہے۔ آج سے نہیں بلکہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے ہی پاکستان نے دہشت گردی کو اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسی کا اٹوٹ رنگ بنارکھا ہے۔ ضیاء الحق نے اس کی شروعات ہندوستان میں پنجاب اور کشمیر میں ہندوستان کے باغی عناصر کی مدد سے کی تھی۔ پھر اسی طرح افغانستان میں مجاہدین اور پھر طالبان کو دہشت گردی کی امداد دے کر پاکستان نے افغانستان کا امن نیست و نابود کردیا۔ پھر باقاعدہ پاکستانی فوج نے جیش محمد اور تحریک طالبان جیسی تنظیمیں بناکر ہندوستان اور افغانستان میں دہشت گرد آپریشن کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ پھر 26/11 کا ممبئی حملہ اور ابھی حال ہی میں پٹھان کوٹ اور اڑی پر دہشت گرد حملے اسی پالیسی کی کڑی ہیں۔
اب نہ صرف دنیا واقف ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے بلکہ دنیا (بشمول امریکہ ) یہ تسلیم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی کا اہم جز ہے۔ اب ہندوستان اور دنیا دونوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ پاکستان کی اس ’ انسانیت دشمن ‘ پالیسی سے کیسے نمٹا جائے۔ جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر حکومت ہند کے دوسرے اہم افراد و عناصر نے یہ واضح کردیا ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستان کے صبر کا پیمانہ نہ صرف لبریز ہوچکا ہے بلکہ یہ کبھی بھی چھلک بھی سکتا ہے۔ فوج نے تو یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ اڑی حملے کا بدلہ لے گی۔ آپ واقف ہیں کہ ہند ۔ پاک سرحد پر ایک بار پھر سے جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کی فوجیں نہ صرف ہائی الرٹ پر ہیں بلکہ جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہیں، یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہند ۔ پاک دونوں ہی نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں۔ ہندوستان تو ایک ذمہ دار ملک ہے لیکن پاکستان کا کوئی بھروسہ نہیں جہاں کے سربراہ اور فوج دونوں ہی آئے دن ہندوستان کے خلاف نیو کلیئر ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ پھر انہوں نے1970 کی جنگ کے دوران خود مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں جس سفاکی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد پاکستانی فوج ہندوستان کے خلاف نیوکلیر بم کا استعمال کرسکتی ہے، اس کا نتیجہ محض لاکھوں افراد کی موت ہی نہیں بلکہ غالباً صدیوں تک اس کے منفی اثرات نہیں ختم ہوں گے۔

اس پس منظر میں کیا ہندوستان کو پاکستان کے خلاف جنگ کا کارڈ استعمال کرنا چاہیئے۔ پاکستان جس طرح پٹھان کوٹ اور اڑی جیسی بے ہودہ حرکتیں کرکے ہندوستان کو اُکسارہا ہے اس صورتحال میں تو جنگ ہی اب واحد جواب ہے۔ پھر ہندوستانی عوام میں پاکستان کے خلاف جذبات لبریز ہوچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی جمہوری حکومت عوامی جذبات کے دباؤ میں آکر جنگ جیسا خطرناک کارڈ بھی استعمال کرسکتی ہے۔ لیکن ہندوستان کوئی پاکستان نہیں کہ ہمارے فیصلے جذبات اور دباؤ کے سبب کئے جائیں۔ ہندوستان نہ صرف ایک سنجیدہ ملک ہے بلکہ ہندوستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن بھی ہے۔ اس وقت ہماری معیشت دنیا کی سب سے تیز اور زیادہ شرح کی معیشت ہے۔ ہم اس مقام پر یونہی نہیں پہونچیں ہیں بلکہ اس میں کم از کم تین نسلوںکا خون پسینہ شامل ہے تب جاکر ہم اب ایک سوپر پاور کی حیثیت کے قریب ہیں۔ کیا ہم اس خواب کو محض پاکستان کی شرارت کے سبب بکھرتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔؟ اگر جنگ ہوتی ہے تو ہماری معاشی ترقی کو کم ز کم دس برس کا دھکا لگے گا، اس لئے بطور ایک ذمہ دار اور ذی ہوش ملک جنگ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔ بقول ساحر لدھیانوی :

اس لئے اے شریف انسانوں
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

لیکن پاکستان آئے دن یونہی ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کا تانا بانا کستا رہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، آخر یہ کہاں کی عقلمندی ہے۔ اڑی کا جواب یقیناً دیا جانا چاہیئے لیکن یہ جواب جنگی نہیں بلکہ سفارتی جواب ہونا چاہیئے۔ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف ایک سفارتی جنگ اڑی سے پہلے چھیڑدی ہے۔ یوم آزادی کے اپنے لال قلعہ کے پیغام میں مودی نے بلوچستان کا مسئلہ اٹھاکر پاکستان کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر پاکستان کشمیر کرتا ہے تو ہم بلوچستان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر اڑی کے بعد سفارتی سطح پر اقوام متحدہ سے لے کر ہر سطح پر ہمارے فارن آفس نے باقاعدہ پاکستان کو ایک دہشت گرد اسٹیٹ قرار دے کر سارے عالم میں پاکستان کیلئے مشکلات کھڑی کردیں اور اس سفارتی  حملے کا گہرا اثر بھی ہورہا ہے۔ امریکہ سے لے کر یوروپی یونین تک تمام اہم ممالک اب کھل کر پاکستان کو عالمی دہشت گردی کا اہم مرکز تسلیم کررہے ہیں جو پاکستان کی عالمی سطح پر ایک بار ہے۔لیکن کیا یہ اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ پاکستان ہمارے خلاف اڑی جیسی دوسری حرکت نہیں کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی پاکستان کو ہوش نہیں آیا ہے اس لئے ہندوستان کو محض اس حد تک پاکستان کے خلاف عالمی دباؤ بناکر خاموش نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی ہندوستان خاموش ہونے والا ہے۔ اس بات کا اشارہ وزیر اعظم نریندر مودی جاریہ ماہ G-20 کانفرنس کے دوران کرچکے ہیں جہاں انہوں نے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے پاکستان کے خلاف عالمی برادری کے ذریعہ معاشی پابندی عائد کرنے کی مانگ کی تھی۔ پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ میں اب ہمارا دوسرا حربہ یہی ہونا چاہیئے کہ کسی طرح عالمی برادری پاکستان پر معاشی پابندی عائد کرنے پر راضی ہوجائے، یہ کام ناممکن نہیں ہے۔دہشت گردی اب یورپ اور امریکہ کیلئے ویسی ہی ایک مصیبت ہے جیسی کہ ہندوستان کیلئے ایک پریشانی ہے۔ اگر ہندوستان دنیا کی اہم طاقتوں پر یہ دباؤ ڈالے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے پاکستان کی معاشی ناکہ بندی ویسے ہی ہو جیسے کہ ایران کے خلاف نیو کلیر ہتھیار بنانے کے معاملے میں ہوئی تھی اور آخر ایران کو دنیا کے آگے جھکنا پڑا تھا۔

ہماری یہ سفارتی جنگ کی کامیابی امریکہ پر منحصر ہوگی کیونکہ امریکہ اگر پاکستان پر معاشی پابندی عائد کردے تو پھر اقوام متحدہ سمیت یوروپی یونین بھی اس میں شامل ہوجائے گی۔ اب یہ بھی واضح ہے کہ پچھلے چند برسوں میں امریکہ کا رویہ پاکستان کے تئیں بہت تبدیل ہے۔ جب سے پاکستان چین کی گود میں جابیٹھا ہے تب سے امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی آگئی ہے۔ ہندوستان اگر امریکہ پر دباؤ بناکر پاکستان کے خلاف معاشی ناکہ بندی عائد کروانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ پاکستان کے منہ پر ایک طمانچہ ہوگا اور یہ اب ممکن بھی ہے۔ اڑی معاملہ میں ہمیں اب جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لینا چاہیئے۔ یعنی اسوقت پاکستان کے خلاف فوجی جنگ کے خلاف سفارتی جنگ سے کام لے کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہیئے۔ اسی میں ہندوستان اور عالمی برادری دونوں کا بھلا ہے اور اس طرح چور کو ہیرا بھیری سے بھی روکا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT