Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / جنید کے قاتل کا اعتراف جرم ، دو دن کیلئے پولیس تحویل

جنید کے قاتل کا اعتراف جرم ، دو دن کیلئے پولیس تحویل

میرے بیٹے کے قاتل کو پھانسی دی جائے ، جنید کی ماں کا مطالبہ

فرید آباد ۔ (ہریانہ )/9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) 17 سالہ مسلم نوجوان جنید خاں کو گزشتہ ماہ چلتی ٹرین میں ہجوم کے ہاتھوں مار مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ کے کلیدی ملزم نے متوفی کو چاقو گھونپ کر ہلاک کرنے کے جرم کا اعتراف کرلیا ہے ۔ جنید کی ماں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے اس انکشاف کے ساتھ اصرار کیا کہ یہ واقعہ بیف سے متعلق نہیں تھا ۔ ملزم کو جو دہلی کے ایک ادارہ میں سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے ملازم تھا مہاراشٹرا کے دھولیہ ضلع میں گرفتار کیا گیا ۔ /22 جون کو یہ بدبختانہ واقعہ پیش آیا تھا جس کی ملک بھر میں مذمت کی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ اس واقعہ کا تعلق بیف سے تھا ۔ 30 سالہ ملزم ہریانہ کے علاقہ پلوال کا ساکن ہے ۔ اس کے وکیل نریش کمار نے اس کی شناخت کروانے کے بعد عدالت میں پیش کیا جہاں اس کو دو دن کے لئے پولیس تحویل میں دیدیا گیا ۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ سندیپ کمار نے کلیدی ملزم کا بیان قلمبند کیا ۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ریلویز) کلدیپ گوئیل نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تاحال کی گئی پوچھ گچھ کے دوران کلیدی ملزم نے جنید کو چاقو گھونپنے اور اس کے بھائیوں پر حملے کا اعتراف کیا ‘‘ اس دعویٰ پر کہ جنید اور اس کے بھائیوں کو بیف کے مسئلہ پر حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا ، گوئیل نے کہا کہ کلیدی ملزم سے تاحال کی گئی پوچھ گچھ کے دوران ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے۔ ایس پی نے کہا کہ حتی کہ شکایت کنندگان نے بھی کہیں یہ تذکرہ نہیں کیا کہ ٹرین میں جہاں جنید ہلاک ہوا تھا لڑائی کی وجہ بیف کا مسئلہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ملزم دہلی کے شیواجی بریج اسٹیشن سے متھرا جانے والی ٹرین میں سوار ہوا تھا ۔ ایس پی نے کہا کہ ٹرین میں متوفی اور اس کے بھائیوں کے ساتھ کلیدی ملزم کی لڑائی دہلی کے اوکھلہ ریلوے اسٹیشن پر شروع ہوئی اور بلبھ گڑھ اسٹیشن کے آگے چاقو گھونپا گیا ۔ ایس پی گوئیل نے ایک سوال پر جواب دیا کہ متوفی اور ایک شخص رامیشور کے درمیان اصل لڑائی شروع ہوئی تھی ۔ رامیشور پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ کلیدی ملزم بعد میں شامل ہوا اور اس وقت بھی وہ رامیشور کو نہیں جانتا تھا ۔ ایس پی نے کہا کہ وہ چاقو ہنوز برآمد نہیں ہوا ہے جس سے جنید کو ہلاک کیاگیا تھا ۔ ملزم نے پولیس سے کہا تھا کہ چاقو اس کے قبضہ میں ہے ۔ اس دوران جنید کی ماں نے اصل ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’میرا بیٹا بے قصور ہے ۔ میں اس سے محروم ہوگئی اور کوئی بھی میری مدد کیلئے نہیں آیا ۔ اس مقدمہ میں ملوث تمام ملزمین کو سخت سزاء دینا چاہئیے ۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ جنید کو چاقو گھونپنے والے اصل ملزم کو پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئیے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT