Sunday , June 25 2017
Home / سیاسیات / جن سنگھ سے لے کر بی جے پی تک ملائم سنگھ یادو کے پس پردہ تعلقات

جن سنگھ سے لے کر بی جے پی تک ملائم سنگھ یادو کے پس پردہ تعلقات

اردو میں بی ایس پی کے کتابچہ کی تقسیم، سماجوادی پارٹی میں ساکشی مہاراج اور کلیان سنگھ کی شمولیت کا تذکرہ
لکھنؤ، 28نومبر(سیاست ڈاٹ کام) مرکز کی نریندر مویدی حکومت کی نوٹ بندی فیصلے کی وجہ سے پیداکرنسی کے بحران کے درمیان بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) اترپردیش اسمبلی انتخابات کے مدنظر دلت مسلم اتحاد کے ایجنڈا کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کے تحت مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔بی ایس پی کارکنان ’مسلم سماج کا سچاخیرخواہ کون، فیصلہ آپ کریں‘کے عنوان سے آٹھ صفحات کا کتابچہ مسلم ووٹروں کے درمیان تقسیم کررہے ہیں۔ اس سے پہلے پارٹی آئندہ اسمبلی الیکشن میں 128 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اعلان کرچکی ہے ۔کتابچہ کے سرورق پر مایاوتی کی تصویر ہے ۔ ہندی اور اردو زبان میں شائع اس کتابچہ میں بی ایس پی صدر نے بی جے پی کے ساتھ ماضی کے تیرہ مختلف سوالات پر صفائی دی ہے ۔ یہ کتابچہ مشرقی اور مغربی اترپردیش کے مسلم اکثریتی علاقوں میں تقسیم کیا جارہا ہے ۔پارٹی ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ کتابچہ میں کہا گیا ہ یکہ بی ایس پی اپنے اصولوں اور نظریات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے اقتدار کھونا پسند کرتی ہے ۔ بی جے پی کے ساتھ مل کر ماضی میں تین مرتبہ سرکاری بنانے کے بارے میں پارٹی نے سماج وادی پارٹی کے الزامات کی وضاحت کے ساتھ کتابچہ کا آغاز کیا ہے ۔کتابچہ میں لکھا گیا ہے کہ ‘ ہم نے نظریات، اصولوں کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا او راقتدار رہتے بی جے پی کو اپنے ایجنڈا کو نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ ہم نے حکومت میں رہتے اجودھیا، متھرا اور کاشی میں کوئی نئی روایت شروع نہیں ہونے دی۔محترمہ مایاوتی نے کتابچہ میں لکھا ہے کہ ہم نے 1999میں بی جے پی کو سبق سکھایا تھا جب ہمارے ایک ووٹ کی وجہ سے ان کی حکومت گری تھی۔ریاست میں جب بھی ایس پی کی حکومت رہی ہے مرکز میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا ۔ سال 2009میں جب بی ایس پی کی حکومت اترپردیش میں تھی تب بی جے پی کو صرف نو لوک سبھا سیٹوں پر کامیابی ملی تھی ۔ا سکے برخلاف 2014 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں تھی تب بی جے پی کو 73لوک سبھا سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی۔کتابچہ میں کہا گیا ہے کہ محترمہ مایاوتی نے 2003میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور وزیر اعلی کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تب مرکز میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ اس وقت سماج وادی پارٹی کی اکثریت نہیں ہونے کے باوجود مسٹر ملائم سنگھ یادو وزیر اعلی بنے اور بی جے پی لیڈر کیسری ناتھ ترپاٹھی اسمبلی کے اسپیکر تھے ۔ کتابچہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سماج وادی پارٹی کے سربراہ کے ساتھ قربت کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ جس میں مسٹر مودی نے اٹاوہ کے سیفئی میں یادو خاندان میں ہوئی شادی تقریب میں شرکت کی تھی۔کتابچہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ سماج وادی پارٹی کا عروج بی جے پی کی مدد سے ہوا تھا ۔ بی جے پی کے پرانے روپ بھارتیہ جن سنگھ کی مدد سے سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے پہلی مرتبہ 1967میں جسونت نگر سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد میں الیکشن جیتنے کے بعد 1977میں انہوں نے جن سنگھ کی مددسے حکومت بنائی اور وزیر بنے ۔سال 1989 کے لوک سبھا الیکشن میں ملائم سنگھ یادو اور وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے دو لوک سبھا سیٹ جیت کر بی جے پی کو نئی زندگی دی تھی۔ اس وقت لوک سبھا میں بی جے پی کی تعداد بڑھ کر 88ہوگئی تھی۔ کتابچہ میں یہ بھی الزام درج ہے کہ ملائم سنگھ یادو نے 1990 میں سومناتھ سے اجودھیا رتھ یاترا کے دوران لال کرشن اڈوانی کی خاموشی سے مدد کی تھی۔بی ایس پی نے مسلمانوں کو یاد دلایا ہے کہ سال 1995 میں بی ج یپی کی حمایت سے سرکار بنانے کے باوجود اس نے وارانسی میں کاشی وشو ناتھ مندر میں وشو ہندو پریشد کو جل ابھیشیک کرنے اور متھرا عیدگاہ میں وشون یگیہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہی صورت حال ملائم سنگھ کے سامنے 1990میں اجودھیا کے سلسلے میں آئی تھی جس میں انہوں نے فائرنگ کا حکم دیا اور یہ فیصلہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹروں کی صف بندی کا سبب بنا۔ کتابچہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بی ایس پی مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ کسی طرح کے اتحاد کو مسترد کرتی ہے ۔کتابچہ کے مطابق سال 2012 میں اپنے انتخابی منشور میں سماج وادی پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے لئے کوٹہ فراہم کریں گے اور دہشت گردی کے مبینہ الزام میں جیلوں میں بند مسلم نوجوانوں کو رہا کرائیں گے مگر اس کے برخلاف سماج وادی پارٹی کے دور اقتدار میں چارسو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں سینکڑوں لوگوں کی موت ہوگئی۔ کئی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کی گئی۔ سماج وادی پارتی نے مظفر نگر میں مسلم کش فساد کے متاثرین کے کیمپوں پر بل ڈوزر چلوادئے ۔کتابچہ میں مسلمانوں سے پوچھا گیا ہے کہ بابری مسجد پر پہلا پھاوڑہ چلانے والے ساکشی مہاراج کو راجیہ سبھا میں کس نے بھیجا تھا۔ کلیان سنگھ پر بابری مسجد گرانے کے الزام کے باوجود ان کو سماج وادی پارٹی میں کس نے شامل کیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT