Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبہ کی سزا کیلئے قانونی مشورہ کی طالب

جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبہ کی سزا کیلئے قانونی مشورہ کی طالب

افضل گرو برسی تنازعہ ‘ طلبہ کو سزاؤں پر احتجاجی مظاہروں کا نیا دور شروع ہونے کا اندیشہ
نئی دہلی۔3اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سمجھا جاتا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کی سزائے موت پر ان کی برسی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطہ میں منعقد کرنے والے طلبہ اور اس تقریب میں مبینہ طور پر قوم دشمن نعرہ بازی میںملوث طلبہ کو سزا کے بارے میں قانونی مشورہ حاصل کررہی ہے ۔ ذرائع کے بموجب چیف پراکٹر کے دفتر نے سزا کی شدت کے بارے میں قانونی مشورہ طلب کیا ہے ‘ اگر عہدیدار فیصلہ کرتے ہیں کہ سزا کی کارروائی طلبہ کے خلاف کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جائے تو امکان ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا ایک نیا دور شروع ہوجائے ۔ یونیورسٹی کی کمیٹی نے جو اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے 11مارچ کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے ۔ یونیورسٹی نے ہنوز اس مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور یونیورسٹی نہیں چاہتی کہ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی ہو ۔ ڈسپلین کے پیمانے ذہن میں رکھتے ہوئے سزاؤں کی شدت کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جرمانہ قانونی طور پر جواز رکھتا ہو ۔

اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں چند طلبہ کو خاطی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے معیاروں اور نظم و ضبط کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے  ۔ 14مارچ کو 21طلبہ کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی تھی اور اُن سے پوچھا گیا تھا کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیوں نہ کیا جائے ۔ طلبہ نے ابتداء میں تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس پر بیانات دینے سے انکار کیا تھا اور دوبارہ تحقیقات کروانے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ انتظامیہ نے طلبہ کو اس کی اطلاع دی تھی کہ اگر وہ وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب نہ دیں تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ انہیں اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کہنا ہے اور دفتر پیشرفت شروع کردے گا ۔ پانچ رکنی کمیٹی نے طلبہ کی اور انتظامیہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی ‘ تاہم انتظامی عہدیداروں میں سے کسی سے بھی وضاحت طلب نہیں کی گئی ۔بیرونی افراد کے اس متنازعہ تقریب میں کردار کے پیش نظر یونیورسٹی کی کمیٹی نے خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کو فرقہ وارانہ جذبات ‘ ذات پات یا علاقہ واری جذبات ابھارنے یا طلبہ میں عدم ہم آہنگی پیدا کرنے کا چند طلبہ کو خاطی قرار دیا تھا ۔ حالانکہ طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کے خلاف کوئی واضح فرد جرم عائد نہیں کیا گیا ۔ تاہم اے بی وی پی کے رکن سوربھ شرما کو 9فبروری کو ٹریفک روک دینے کا خاطی قرار دیا گیاتھا ۔ اسی تاریخ کو متنازعہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا ۔11مارچ کو یونیورسٹی نے 8طلبہ بشمول کنہیا کی تعلیمی منسوخی برخواست کردی تھی جب کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT