Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / جواہرلال نہرو یونیورسٹی کو قوم دشمن قرار دینے کے خلاف انتباہ

جواہرلال نہرو یونیورسٹی کو قوم دشمن قرار دینے کے خلاف انتباہ

یونیورسٹی اساتذہ کا بیان‘ وائس چانسلرس کی چوٹی کانفرنس میں یونیورسٹی اور ایس سی ‘ ایس ٹی شکایات اہم موضوعات ممکن
نئی دہلی۔14فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطہ میں پارلیمنٹ پر حملہ آور مجرم افضل گرو کو پھانسی پر لٹکانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کے دوران یونیورسٹی کے اساتذہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی کو ’’قوم دشمن ‘‘ قرار نہ دیا جائے ۔ اساتذہ نے دعویٰ کیا ہے کہ داخلی نظام جو یونیورسٹی میں قائم ہے مکمل طور پر خود اختیار ہے اور کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ کیا یہ ناانصافی نہیں ہے کہ یونیورسٹی کو قوم دشمن قرار دیا جارہا ہے جو تعلیمات اور جمہوری تمدن کے معیاروں کی تائید کا اٹل موقف رکھتی ہے ۔ اس کی شبیہہ کو اسے قوم دشمن عناصر کا اڈہ قرار دیتے ہوئے مسخ کیا جارہا ہے ۔ سوشل سائنس کے پروفیسر جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے کہا کہ ہم برسوں سے یہاں تعلیم دیتے آرہے ہیں ‘ ہم جانتے ہیں کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کیا ہے ‘

 

ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ موجودہ تنازعہ سے بالاتر ہوکر سونچیں اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو قوم دشمنی سے مربوط نہ کریں ۔ محکمہ لسانیات کے ایک پروفیسر نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیقات کررہی ہے ‘ پولیس بھی اس واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہیں ۔ دہلی حکومت نے مجسٹریٹ کی جانب سے تحقیقات کے مطالبہ کو مسترد کردیا ہے ۔ آخر ہم ان تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیوں نہیں کرتے اور یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ کونسی صورتحال سامنے آتی ہے ۔ آخر یونیورسٹی کو دہشت گردوں کا اڈہ کیوں قرار دیا جارہا ہے ۔ اساتذہ نے طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی تائید بھی کی جو پولیس حوالات میں غدداری کے الزام میں زیر حراست ہے ۔ اس احتجاجی مظاہرہ کے سلسلہ میں اسے گرفتار کیا گیا ہے اور اساتذہ نے سوال کیا کہ طلبہ کی کیا غلطی ہے ‘ یہ صرف نظم و ضبط کی خلاف ورزی تھی ‘قوم غدداری نہیں ۔ یونیورسٹی مباحثہ اور تجزیہ کا مقام ہے ‘نظریات کا نظریات سے تقابل کیا جاتا ہے ‘ طاقت اورتشدد نظریات کو کچلنے کیلئے استعمال نہیں کئے جاسکتے ۔

 

من مانے گرفتاریوں کا سلسلہ روک دیا جانا چاہیئے اور نظریات کو کچلا نہیں جانا چاہیئے ۔اساتذہ نے آج شام ایک یکجہتی جلوس نکالنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں کنہیا کمار کی رہائی اور اُسے پولیس حفاظت میں یونیورسٹی تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ دریں اثناء 2012ء کے یو جی سی قواعد یونیورسٹیوں میں نافذ کرنے کے مسئلہ پر ایک وائس چانسلر کی چوٹی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے دلت محقق روہت ویمولہ کی خودکشی کے بعد منظر عام پر آیا ہے ۔ ذرائع کے بموجب چوٹی کانفرنس سورج کنڈ فریدآباد میں منعقد کی جائے گی اور اس کے اہم موضوعات میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی تقریب کا تنازعہ اور ایس سی ‘ ایس ٹی کی شکایات ہوں گی ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل نے بھی خواہش کی ہے کہ یونیورسٹیوں کو ایک ثالث کا تقرر کرنا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT