Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ، نتیش کمار کا کمیٹی پر اعتراض

جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ، نتیش کمار کا کمیٹی پر اعتراض

یونیورسٹی نظریاتی آزادی کیلئے مشہور ، کمیٹی کی سفارشات طلبہ دشمن
نئی دہلی ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی کمیٹی کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور دیگر یونیورسٹی کے محققین کو یونیورسٹی سے خارج کردینے اور دیگر کسی یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے نااہل قرار دینے کی سفارش پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قوم دشمن نعرہ بازی یونیورسٹی میں کرنے کے بارے میں ان پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں خود یہ الزامات بھی ثابت نہیں کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نظریاتی آزادی کیلئے شہرت رکھتی ہے۔ طلبہ نے ایسا کیا کہ ہیکہ انہیں ’’رسٹیکیٹ‘‘ کیا جارہا ہے۔ اس سے بحران مزید گہرا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیکہ جمہوری روایات پر ایک مخصوص نقطہ نظر مسلط کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ان سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کنہیا، عمر خالد، امیر بن بھٹاچاریہ اور دیگر دو طلبہ کو مبینہ طور پر متنازعہ تقریب میں گذشتہ ماہ ملوث قرار دیا اور انہیں رسٹیکیٹ کرنے کی سفارش کی۔ اس تقریب میں مبینہ طور پر قوم دشمن نعرے لگائے گئے تھے۔ کمیٹی کی سفارشات پر قطعی فیصلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار اور چیف پراکٹر اے دمری کریں گے۔ نتیش کمار نے کہا کہ یونیورسٹی کی اکثریت آر ایس ایس کے نظریہ سے متفق نہیں ہے۔ انہوں نے اظہارحیرت کیا کہ یونیورسٹی پر قبضہ کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار پر پابندی لگانے کا یہ طریقہ جمہوریت کیلئے خطرناک ہے۔ وہ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ملاقات کے دوران چیف منسٹر بہار نے شاہراہ کی تعمیر کیلئے حصول اراضی سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دریائے گنگا کے پل واقع پٹنہ کی ابتر حالت پر بھی گڈکری سے بات چیت کی۔

TOPPOPULARRECENT