Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ

قوم پرستی مباحثہ میں بی جے پی کے جارحانہ تیور کا امکان
نئی دہلی ۔ 17  فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے فیصلہ کیا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے بارے میں اپنے موقف کو پوری مضبوطی کے ساتھ پیش کرے گی ۔ علاوہ ازیں پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی کو بھی پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی تاکہ اپوزیشن کی جانب سے مباحثہ کے دوران اختیار کئے جانے والے موقف کا مقابلہ کیا جاسکے جس کا مرکزی موضوع قوم پرستی ہوگا ۔ پارٹی قائدین نے کہاکہ اس سلسلے میں ایک فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ کے سلسلے میں جارحانہ موقف پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اختیار کیا جائے جہاں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اپوزیشن کے زبردست احتجاج کی وجہ سے پارٹی کو دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور عوام کے روبرو اس مسئلہ پر اپنے تائیدی موقف کی وضاحت کرنی ہوگی ۔ پارٹی 3 روزہ ’’جن سو ابھیمان ابھیان ‘‘(مہم برائے عوامی خوداری ) کل سے شروع کرے گی جس میں پارٹی قائدین اور کارکن کوشش کریں گے کہ عوامی تائید حاصل کی جاسکے اور قوم دشمن سرگرمیوں کے خلاف جو مرکزی حکومت کی یونیورسٹی میں جاری ہیں واقف کروایا جاسکے۔ علاوہ ازیں عوام کو پولیس کارروائی کی تائید کیلئے آمادہ کیا جاسکے ۔ اپنی کوشش کے ایک حصہ کے طورپر قوم پرستی کا مسئلہ مختلف فورموں پر پیش کیا جائے گا ۔ پارٹی قائدین نے کہا کہ سیاچن گلیشیئر پر فوجیوں کی حالیہ قربانیوں کو اُجاگر کیا جائے گا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلہ پر پارٹی کے جارحانہ رویہ کی تائید حاصل کی جاسکے اور اس مسئلہ کو پارلیمنٹ سے باہر نکال کر سڑکوں پر لایا جاسکے ۔ ذرائع کے بموجب بی جے پی اس مسئلہ پر مستقل اور مضبوط موقف رکھتی ہے ۔ بی جے پی قائدین تبدیلیوں کے بارے میں عوام کا شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں گے ۔ عشرت جہاں کے بارے میں ہیڈلی کے بیان کے اقتباسات بھی پیش کئے جائیں گے ۔جس نے کہا ہے کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی کارکن دہشت گرد تھی ۔ علاوہ ازیں روہت ویمولہ کی خودکشی کے مسئلہ کو بھی پیش کیا جائے گا جسے عدم رواداری کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے ۔

 

تین وکلاء نے دہلی پولیس کا سمن نظرانداز کردیا
نئی دہلی ۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس نے 15 جنوری کو پٹیالہ ہاؤز کورٹ حملہ کے سلسلہ میں 3 وکلاء کو سمن جاری کیا لیکن ان میں کوئی بھی حاضر نہیں ہوئے۔ بی جے پی رکن اسمبلی او پی شرما کو بھی سمن جاری کرتے ہوئے کل پولیس کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی گئی۔ قبل ازیں کمشنر بی ایس بسی نے کہا کہ اگر وکلاء حاضر نہ ہو تو وہ عدالت سے رجوع ہو کر وارنٹ حاصل کریں گے۔ بسی نے یہ بھی کہا کہ ایک وکیل وکرم سنگھ چوان مفرور ہے۔

TOPPOPULARRECENT