Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پانچ طلبہ بھوک ہڑتال سے دستبردار

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پانچ طلبہ بھوک ہڑتال سے دستبردار

نئی دہلی ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پانچ طلبہ نے 9 فبروری کے واقعہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی کی جانب سے جو جرمانے عائد کئے گئے ہیں اس کے خلاف جاری غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جبکہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کی حالت ابتر بتائی گئی ہے اور انہیں یونیورسٹی کے ہیلت سنٹر کو روانہ کیا گیا ہے۔ آٹھویں روز میں یہ ہڑتال داخل ہوئی ہیں اور پانچ طلبہ نے اپنی صحت کی خرابی کا حوالہ دیتے ہوئے اس احتجاج سے خود کو دستبردار کرلیا ہے۔ کنہیا کمار کا بلڈ پریشر بھی 56 تک گر گیا اس لئے انہیں ہیلت سنٹر منتقل کیا گیا ہے۔ وہ کل رات سے قئے کررہے ہیں۔ ان کے گلوکوز کی سطح بھی گھٹ گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہیکہ اگر بھوک ہڑتال اسی طرح جاری رکھی گئی تو اندرونی طور پر خون رسنے کے امکانات ہیں۔ جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹ یونین کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ کنہیا کمار نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہیں کچھ دوائیں دی گئی ہیں۔ بھوک ہڑتال میں شامل دیگر کی بھی حالت ابتر ہورہی ہے۔ ان تمام کا وزن بھی چار تا پانچ کیلو گھٹ گیا ہے۔ تاہم ان نوجوانوں میں نظم و نسق کے خلاف لڑنے کا جذبہ برقرار ہے۔ جملہ 25 طلبہ گذشتہ جمعرات سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں جبکہ اے بی وی پی کے پانچ ارکان نے کل ہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یونیورسٹی کے عہدیداروں نے انہیں تیقن دیا ہیکہ وہ ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان نے اپنی صحت کی خرابی کے باعث بھوک ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرلی۔ اس بھوک ہڑتال کو غیرقانونی سرگرمیاں قرار دیتے ہوئے جواہر نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسل نتیش کمار نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے دستوری طریقہ اختیار کریں۔ بات چیت کے ذریعہ معاملہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہیکہ کنہیا کمار کو 9 فبروری کے دن یونیورسٹی کیمپس میں قوم دشمنی کے نعرے لگانے اور غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT