Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / جواہر لال یونیورسٹی کے شرمناک اور بدبختانہ واقعات

جواہر لال یونیورسٹی کے شرمناک اور بدبختانہ واقعات

غضنفر علی خان
ہماری قومی یونیورسٹیز کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہے، کچھ ہی دن قبل حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر جو دلت تھا ،کی خودکشی اور اس میں مبینہ طور پر ملوث دو مرکزی وزراء کا سلسلہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ دہلی میں واقع جواہر لال یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک اور افسوسناک حرکت کی یہ طلبہ کون ہیں ان کا سیاسی پس منظر کیا ہے، کسی سیاسی پارٹی سے ان کی وابستگی ہے اس بات کی تحقیق کئے بغیر مرکزی وزارت داخلہ نے یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کردی، وہاں کی طلبہ  یونین کنہیا کمار کو گرفتار کرلیا اور کچھ دن کئے پولیس نے انہیں زیر حراست رکھا۔ جواہر لال یونیورسٹی ایک قومی جامعہ ہے۔ یہاں مختلف ریاستوں کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ طلبہ یونین پر بھی سیاسی پارٹیوں کا گہرا اثر ہے ۔ خاص طور پر بائیں بازو کے ترقی پسند طلبہ کا غلبہ ہے چنانچہ یونین بھی کمیونسٹ جماعتوں کے حامی طلبہ پر مشتمل ہے۔ یونیورسٹی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلبہ ونگ ’’اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘‘بھی یہاں سرگرم عمل ہے۔ پارٹی کی طرح اس فکر کے حامل طلبہ بھی انتہا پسند ہوتے ہیں۔ بہرحال کچھ طلبہ نے جواہر لال یونیورسٹی میں افضل گرو کی حمایت میں ایک تقریب میں نعرہ بازی کی۔ یقیناً ان کا یہ عمل قطعی ناقابل قبول ہے۔  ان موافق افضل گرو طلبہ نے انتہائی قابل اعتراض نعرے لگا جنہوں نے ملک کی وحدت اور تکثریت کے لئے چیلنج تھے ۔ افضل گرو ہی نے ہماری پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور طویل قانونی کارروائی کے بعد اس کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ مذکورہ تقریب میں اسی افضل گرو کی حمایت میں نعرے بلند کئے گئے ۔

ظاہر ہے کہ جواہر لال یونیورسٹی کے تمام طلبہ ان نعروں کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ طلبہ جن کا تعلق مخصوص ریاست سے ہے، اسے قابل اعتراض نعرے لگائے ہوئے ہیں لیکن حکومت نے معاملہ کی نزاکت کو سمجھے بغیر ساری یونیورسٹی اور یہاں زیر تعلیم طلبہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے پولیس کارروائی کی۔ بی جے پی حکومت نے پھر ایک بار ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی قومی مسئلہ کا مناسب حل تلاش نہیں کرسکتی۔ پولیس کی کارروائی اور کنہیا کمار صدر یونین کی گرفتاری سے پہلے وہاں کے اساتذہ اور سینئر طلبہ کے ذریعہ اصل خاطیوں کا پتہ چلائے بغیر حکومت کا یہ اقدام بھی غلط تھا ۔ حکومت کی اس عجلت پسندی نے صورتحال کو بے حد ابتر کردیا ۔ یہاں ان واقعات کے بعد ٹھیک اسی طرح سیاسی پارٹیوں نے مداخلت شروع کردی جس طرح حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے دلت طالب علم کی خودکشی کے واقعہ کے بعد کی تھی۔ دہلی کی اس باوقار یونیورسٹی کے معاملات سے سنجیدگی سے نمٹنے کے بجائے غیر محتاط اور ناعاقبت اندیش مرکزی مداخلت نے مسئلہ کو قابو سے باہر کردیا۔اس واقعہ کا دوسرا پہلو بھی کم اذیت ناک نہیں ہے ۔ یونیورسٹی کی یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی ۔ جو معاملہ حکومت پولیس اور طلبہ کے درمیان تھا اس کا ایک فریق دہلی کے پٹیالہ کورٹ کے وکلاء بھی بن گئے۔ ان وکلاء نے پیشہ وکالت کی نیک نامی کو خاک میں ملا دیا ۔ مذکورہ عدالت میں ان ہی وکلاء نے مقدمہ کی سماعت کے درمیان وہاں موجود یونیورسٹی کے طلبہ اور میڈیا کے نمائندوں کو ایک نہیں دو مرتبہ مارا۔ پٹیالہ واقعہ عدالت کے کمرہ میں اور اس کے احاطہ میں ہوا ۔ یہ کون وکلاء ہیں ان کا بھی سیاسی پس منظر مشکوک ہے ۔ ان کی سیاسی وابستگی بھی شک کے دائرہ میں آتی ہے۔ نہ صرف انہوں نے یہ شرمناک حرکت کی بلکہ بی جے پی کے ایک لیڈر جو دہلی اسمبلی کے منتخبہ رکن ہیں، ایک طالب علم کو ا تنا مارا ، پیٹا کہ اگر دوسروں نے مداخلت نہ کی ہوتی تو خدا نخواستہ طالب علم کی جان چلی جاتی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی روی شرما اپنے اس کارنامہ پر فخر کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک قومی ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں کہا کہ ’’اگر ان کا بس جلتا تو وہ اپنے شکار کو گولی مار دیتے کیوں؟ یہ طالب علم قوم دشمن نعرہ لگا رہا تھا ۔اس طرح پٹیالہ کورٹ کے ایک وکیل چوہان نے ٹیلی ویژن پر نہایت درجہ ڈھٹائی سے کہا کہ اگر ان کے پاس ہتھیار ہوتا تو وہ بھی گولی چلادیتے۔ مسٹر چوہان نظریاتی طور پر بی جے پی کے حامی ہیں، ان کے بی جے پی لیڈروں سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں واقعات بھی اس بی جے پی کے انتہا پسند عناصر کام کر رہے ہیں۔ افضل گرو کی تائید اور قوم دشمن نعرہ بازی بے شک انتہائی سنگین جرم ہے لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارندوں کا یہ طرز عمل بھی پریوار کی ’’عدم رواداری‘‘ اور اختلاف کو برداشت نہ کرنے کی کمزوری کو اجاگر کرنا ہے ۔ پٹیالہ کورٹ کا معاملہ اتنا بڑا ہوگیا کہ سپریم کورٹ کو اس میں مداخلت کرتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کے لئے عدالت کے 5 سینئر وکلاء کے ایک وفد کو پٹیالہ کورٹ روانہ کرناپڑا ۔ شائد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی تحت کی عدالت کے وکلاء کے قابل اعتراض طرز عمل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کو اتنا عاجلانہ قدم اٹھانا پڑا ، کیا یہ شرمناک بات نہیں ہے؟ ہماری صدائیں اور ہماری وکلاء برادری کے چند عناصر کے رویہ پر سپریم کورٹ کو تک اعتراض ہوگیا ہے۔ یہ سب کچھ ملک کے وسیع تر مفاد کے دفاتر ہے۔ ایسے واقعات ملک کے وقار کو متاثر کرتے ہیں۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت میں بی جے پی حکومت نہیں دے سکتی کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔ اس لئے بھی کہ خود بی جے پی حکومت ایسے عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ واقعات کے تسلسل سے بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی حکومت کسی قومی یا بین الاقوامی نازک صورتحال سے نمٹنے کی اہل نہیں ہے،

یہ سب کچھ ہورہا تھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ نعرہ بازی کررہے تھے ۔ اس دوران جانے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو کیا سوجھا کہ انہوں نے بلا تحقیق یہ بیان دیا کہ ، جواہر لال یونیورسٹی کے طلبہ کے اس احتجاج کو درپردہ پاکستان کی انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ کے حافظ سعید کی تائید حاصل ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ کسی بنیاد پر وزیر داخلہ اس قدر غیر ضروری بیان دیا ۔ اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا کہ دہلی کے پولیس کمشنر نے صاف کردیا کہ پولیس کے پاس یہ ثبوت نہیں ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج کو حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے جس حکومت کے وزیر داخلہ کے بیان کی سختی سے تردید دہلی کے پولیس کمشنر کرتے ہوں اس کا کیا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت جواہر لال یونیورسٹی کے واقعات سے نمٹنے میں بالکل ناکام رہی اور پھر ایک مرتبہ یہ ثابت کردیا کہ نازک حالات میں صحیح فیصلے کرنے میں وہ ہمیشہ اناڑی پن کا ثبوت دیتی ہے ۔ احتجاجی طلبہ کی سخت قابل اعتراض نعرہ بازی کے سوائے اختلاف کے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے حالات کیا کم تشویشناک ہیں کہ اب مغربی بنگال کی جادھو یونیورسٹی میں بھی افضل گرو کی تائید اور مخالفت میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ اگر سارے ملک میں طلبہ برادری اس طرح مظاہرے کرتی رہے تو یہ ہمارا قومی نقصان ہوگا ۔ ان واقعات سے حکومت اور ذرائع ابلاغ میں بھی دوری پیدا ہوسکتی ہے جس کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT