Sunday , August 20 2017
Home / ادبی ڈائری / جوش ملیح آبادی اور دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ

جوش ملیح آبادی اور دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ

ڈاکٹر سید داؤد اشرف
حکومت ریاست حیدرآباد کی جانب سے ریاست کی ضرورت کے لحاظ سے بیرون ریاست سے قابل اور لائق افراد کو طلب کرنے کا سلسلہ سالار جنگ اول کے دور سے شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں بیرونی مشاہیر ازخود حصول ملازمت کے لئے حیدرآباد آئے ۔ نامور اور ممتاز شخصیتوں کو حیدرآباد طلب کرنے اور ان کا از خود حیدرآباد آنے کا سلسلہ تقریباً ریاست حیدرآباد کے خاتمہ تک جاری رہا ۔ تلاش روزگار میں حیدرآباد آنے والے اردو کے چند بے حد اہم اور نمائندہ شاعروں میں جوش ملیح آبادی بھی شامل تھے ۔ جوش نے اپنی عمر کے لگ بھگ ساڑھے دس سال حیدرآباد میں گزارے ۔ یہ جوش کی زندگی کے بہترین ایام تھے ۔ حیدرآباد میں ان کی تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں کی قدر کرنے والوں اور انھیں ٹوٹ کر چالنے والے دوستوں کی کمی نہیں تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ جوش حیدرآباد سے گہری وابستگی اور لگاؤ رکھتے تھے ۔

جوش 1924 ء کے اوائل میں حیدرآباد آئے تھے ۔ وہ سال حصول ملازمت کی کوششوں کی نذر ہوا ۔ آرکائیوز کے ریکارڈ کے مطابق یکم جنوری 1925ء کو دارالترجمہ میں رجوع بہ خدمت ہوئے ۔ جہاں وہ ابتداء میں مترجم کی خدمت ایک سال 8 ماہ 13یوم اور پھر ناظر ادبی کی خدمت پر 7 سال 11 ماہ اور 15 یوم فائز رہے ۔ اس طرح دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ میں ان کی مکمل ملازمت 9 سال 7 ماہ 28 یوم اور حیدرآباد میں ان کا قیام تقریباً ساڑھے دس سال رہا ۔ (تفصیلات کے لئے راقم الحروف کی کتاب بیرونی ارباب کمال اور حیدرآباد‘‘ شامل مضمون ’’جوش ملیح آبادی‘‘ ملاحظہ ہو)حکمران  ریاست آصف سابع کے عتاب پر جوش کو حیدرآباد چھوڑنا پڑا تھا لیکن حیدرآباد کی یادوں نے کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ حیدرآباد کی گلیوں میں جہاں انھوں نے اپنی جوانی کے بہترین ایام صرف کئے تھے ان میں گشت کرنے کی تمنا ، ان دوستوں سے جو خوابوں میں ان کا تعاقب کرتے تھے ان سے مل کر دل ٹھنڈا کرنے کی خواہش ان کے دل میں ہمیشہ تازہ اور جوان رہی ۔
جوش حیدرآباد کو یاد کرتے ہوئے ’’یادوں کی برات‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ہائے کن کن باتوں کا ذکر کروں ، حافظے کا سر سفید ہوچکا ہے اور پرانی صحبتیں کجلا چکی ہیں ۔ شام کے وقت کراچی میں جب اپنے مکان کے کھلے ہوئے مغربی جھجے میں شمالی ناظم آباد کی دور کی روشنیوں کے سامنے تنہا بیٹھتا ہوں تو انسان کی رنگ رلیوں کو دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے والی حیثیت میری زمانہ ماضی کی سرخوشیوں کی سزا دینے پر کمربستہ ہو کر میرے بیتے دنوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ میرا تعاقب کرنے لگیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حیدرآباد کی راتوں کی براتوں میں جلوس گم کردہ لمحوں اور گہنائے ہوئے مکھڑوں کے درد انگیز جلوس دامن شفق کو پھاڑ کر باہر نکل آتے ہیں اور غلغلے مچانے والے یاروں کے چہرے اور آغوض میں مچلنے والے دلداروں کے مکھڑے فضا پہ تیرنے لگتے ہیں اور میری پیاسی نظریں جب انھیں پکڑلینے کے واسطے دوڑتی ہیں تو وہ دریائے شفق میں غوطہ لگا کر میری آنکھوں سے پل بھر میں اوجھل ہوجاتے ہیں اور ایک سوگوار دھواں میرے سر پر منڈلانے لگتا ہے‘‘ ۔ حیدرآباد کی ان یادوں کے علاوہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ اور وہاں کام کرنے والے مشاہیر علم وادب کی صحبتوں کی یادیں بھی ہمیشہ جوش کے ساتھ رہیں ۔

دارالترجمہ میں جوش کی سرگرمیوں ، وہاں کام کرنے والے چند اہم افراد سے جوش کے مراسم اور مفوضہ فرائض کی انجام دہی کے بارے میں جوش کی خود نوشت ’’یادوں کی برات‘‘ کے علاوہ دیگر چند مضامین سے دلچسپ اور اہم معلومات دستیاب ہوتی ہیں ۔ یہ مضامین جوش کے عزیز اور قریبی دوستوں سید معین الدین قریشی ، محمد حبیب اللہ رشدی اور تمکین کاظمی کے تحریر کردہ ہیں ۔ ان مضمون نگار حضرات کو دارالترجمہ میں جوش کو کام کرتے ہوئے اور دیگر دلچسپیوں میں وقت گزارتے ہوئے دیکھنے کے کافی مواقع ملے تھے ۔
جوش نے ’’یادوں کی برات‘‘ میں لکھا ہے کہ دارالترجمہ دفتر کم اور دارالتفریح زیادہ تھا ۔ جہاں جوش اپنے تمام ساتھیوں  کے ساتھ ہر روز مولانا ابوالاعلی مودودی کے برادر بزرگ مولوی ابوالخیر مودودی کے علاوہ سید ہاشمی فریدآبادی کے کمرے میں جمع ہو کر گپیں اڑاتے اور شاعری کیا کرتے تھے ۔ دارالترجمہ میں مولانا عبداللہ عمادی ، مولوی ابوالخیر مودودی ، سید ہاشمی فریدآبادی اور مرزا محمد ہادی رسوا سے جوش کے خاص مراسم تھے ۔ جوش نے مولانا عبداللہ عمادی کو فارسی اور عربی کا ہفت قلزم لکھا ہے ۔ جوش لکھتے ہیں کہ حیدرآباد آنے سے قبل رسوا ان کو پڑھایا کرتے تھے اور حیدرآباد آنے کے بعد جوش ان سے شاعری کے علاوہ انگریزی ادب اور فلسفے کا بھی باقاعدہ درس لینے لگے ۔ ان دنوں جوش روزانہ رات کے گیارہ بجے تک اردو ، فارسی ، انگریزی ادب اور فلسفے کا بلاناغہ مطالعہ کرتے تھے ۔

جوش کے بیان کے مطابق انھیں بیکن کی سوانح عمری کے ترجمے کا کام تفویض کیا گیا تھا جبکہ وہ دارالترجمہ میں مترجم کی حیثیت سے کام کررہے تھے ۔ دارالترجمہ کی مطبوعات کی فہرست میں یہ سوانح عمری شامل نہیں ہے ۔ انھوں نے یا تو بیکن کی سوانح عمری کا ترجمہ مکمل نہیں کیا تھا یا کسی اور وجہ سے وہ سوانح عمری شائع نہیں کی گئی ۔
تمکین کاظمی اپنے مضمون ’’جوش میری نظر میں‘‘ (شائع شدہ افکار جوش نمبر ، دوسرا ایڈیشن) میں لکھتے ہیں کہ جوش ناظر ادبی کی حیثیت سے کامل توجہ ، پوری ذمہ داری اور نہایت ہی دلچسپی سے اپنے فرائض انجام دیتے ۔ دارالترجمہ میں عبداللہ عمادی ، مولوی عنایت اللہ ، قاضی تلمیذ حسین وغیرہ ہی ایسے مترجمین تھے جن کے ترجموں پر نظرثانی کی ضرورت نہ تھی ورنہ بیشتر حضرات کا یہ حال تھا کہ ایک ایک سطر میں چار چار غلطیاں کرتے تھے ۔ جوش نے اپنے مترجمین کو تعلیم یافتہ و سند یافتہ جہلا کا خطاب دیا تھا  ۔جوش جن مترجمین کی غلطیاں نکالتے انھیں اپنے پاس بلوا کر چائے سے تواضع کرتے ہوئے ان کی غلطیاں ان پر واضح کردیتے اور اصلاح شدہ حصہ انھیں دکھا بھی دیتے جسے دیکھ کر وہ لوگ پھڑک جاتے اور جوش کا شکریہ ادا کرتے تھے ۔ تمکین کاظمی کی ان دنوں جوش سے دارالترجمہ کے دفتر پر زیادہ ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں ۔ وہ دیکھتے تھے کہ جوش بڑے انہماک اور پوری توجہ سے اس کام کو انجام دیتے تھے اور نہایت عرق ریزی سے ترجموں کو درست کرتے رہتے تھے ۔ ان کا خیال ہے کہ جوش نے جس محنت اور سلیقے سے ترجموں پر نظرثانی کی اور ان کے مفہوم کو برقرار رکھ کر زبان درست کی ہے یہ ہر کس و ناکس کا کام نہ تھا ۔ تمکین کاظمی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جوش کے اس سنہرے کارنامے کو کسی نے بھی نہیں سراہا اور خود جوش نے بھی کبھی اس پر غور نہیں کیا ۔ تمکین کاظمی کی نظر میں جوش کا یہ کارنامہ نہایت ہی اہم اور عظیم الشان ہے ۔
محمد حبیب اللہ رشدی نے اپنے مضمون ’’جوش حیدرآباد دکن میں‘‘ (مطبوعہ افکار حوش نمبر ، دوسرا ایڈیشن) لکھا ہے کہ جوش کو ایسے زمانے میں جبکہ ان کی شاعری بہار پر آرہی تھی اگر دارالترجمہ سے وابستہ ہونے کا موقع نہ ملتا تو شاید ان کی شاعری کا وہ رنگ نہ ہوتا جو اب ہے ۔ خود جوش معترف ہیں کہ دارالترجمہ سے وابستگی ان کے لئے بہت سود مند رہی ۔ خود جوش یادوں کی برات میں لکھتے ہیں ’’میری یہ بڑی نمک حرامی ہوگی اگر میں اس بات کا اعتراف نہ کروں کہ شعبہ دارالترجمہ کی وابستگی نے مجھ کو بے حد علمی فائدہ پہنچایا اور خصوصیت کے ساتھ علامہ عمادی ، علامہ طباطبائی اور مرزا ہادی رسوا کے فیصان صحبت نے مجھ بے سواد آدمی کو میرے جہل پر مطلع کرکے مجھ کو ذوق مطالعہ پر مامور کردیا اور صحت الفاظ و نجابت لہجہ کا جو پودا میرے باپ اور دادی نے میرے وجود کی سرزمین پر لگایا تھا اگر طباطبائی ، مرزا ہاشی رسوا اور عمادی کی مسلسل دس برس کی ہم نشینی کا موقع نہ ملتا تو وہ پودا کبھی شاداب اور بارآور نہ ہوتا‘‘ ۔

جوش کا 1934 ء میں حیدرآباد سے اخراج عمل میں آیا تھا ۔ وہ سترہ برس بعد 1951 میں حیدرآباد آئے تھے ۔ سید معین  الدین قریشی نے اپنا مضمون ’’جوش حیدرآباد میں سترہ برس بعد‘‘ (مطبوعہ ماہنامہ صبا ، حیدرآباد ، اگست ستمبر 1966) 1951 ء میں جوش کی حیدرآباد میں آمد پر تحریر کیا تھا ۔ اس مضمون سے دارالترجمہ میں جوش کی سرگرمیوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ اس مضمون سے چند حوالے دینے سے قبل دو تین جملوں میں قریشی صاحب کا تعارف کروانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ جوش کے ایک قریبی دوست محمد حبیب اللہ رشدی کے الفاظ میں ’’معین الدین قریشی عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ میں پہلے شخص تھے جنھوں نے جوش کے کمال شاعری کو پہچانا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی نے قریشی کا سا دوسرا طالب علم پیدا نہیں کیا ۔ وہ جوش کے ایسے پرستار تھے کہ اب تک جوش کے احباب میں ان کا ثانی مجھے نظر نہیں آیا‘‘ ۔ معین الدین قریشی متذکرہ بالامضمون میں لکھتے ہیں ’’دارالترجمہ میں سب سے دلچسپ اور کام کی بیٹھک مولانا عمادی کے کمرے میں ہوتی تھی ۔ یہاں علم تھا اور دبی ہوئی بذلہ سنجی ، جس پر سنجیدگی کے پردے پڑے ہوتے ۔ جوش ان پردوں کو ہٹاتے ۔ خالص علمی اور ادبی مسائل میں جو باریکیاں ، لطافتیں ، نزاکتیں اور شرارتیں شامل ہوتی تھیں اس کے ذمہ دار جوش تھے ۔ مولانا عمادی میں یہ خاص بات تھی کہ وہ کسی لطیف شوخی بھپتی کا دل سے خیر مقدم کرتے اور ایک بے اختیار ہنسی اور برجستہ قہقہے کو اس طرح روکنے کی کوشش کرتے تھے جس طرح ایک سچا عالم اپنے علم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جواب تو دیتے تھے لیکن کبھی وہ ضرر رساں نہ ہوتا ۔ زیادہ تر داد ہوتی تھی اس سچے دل سے جس میں ان کے دل کی لذت سب کو محسوس ہوتی تھی  ۔جوش نے ہنسی ہنسی میں ان سے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا اور جب کبھی وہ (جوش) یہ کہتے کہ دکن سے چند دوستوں کے علاوہ میں نے علم کا ذوق پایا ہے تو میرا منتشر خیال مولانا عمادی پر مرتکز ہوجاتا ہے ۔ معین الدین قریشی آگے لکھتے ہیں کہ دارالترجمہ کا ایک اور گوشہ جو جوش کی توجہ اور محبت کا مرکز تھا وہ مرزا محمد ہاشی رسوا کا کمرہ تھا ۔ اپنے مضمون میں قریشی صاحب جامعہ عثمانیہ میں اصطلاح سازی کے کام کے بارے میں تحریر کرتے ہیں ’’اصطلاحات بنانے کے لئے جامعہ عثمانیہ کی علماء کی کمیٹیاں مہینے میں کئی بار ہوا کرتی تھیں ۔ ان کمیٹیوں میں دو مکاتیب خیال کے لوگ تھے ۔ ایک جماعت جدت پسند حضرات کی تھی جس کے سرگروہ مولوی وحید الدین سلیم تھے ۔ دوسرا طبقہ قدامت پسند حضرات کا تھا جس کے ممتاز افراد علامہ علی حیدر طباطبائی  ،مولانا عمادی اور مرزا محمد ہاشی رسوا تھے ۔ مولانا وحید الدین سلیم نے جب اوریجنل انداز سے اس پہلو پر سوچا تھا اور تحقیق کی تھی اس کی نظیر نہیں اور فطری اور عملی طور پر جامعہ عثمانیہ کے وجود کو ممکن اور قابل عمل بنانے میں مولانا سلیم نے جو حصہ لیاوہ ان ہی کا حق تھا ۔ مولانا سلیم نے مولوی عبدالحق کے کہنے پر اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب ’’وضع اصطلاحات‘‘ کے نام سے لکھی تھی ۔ اردو زبان میں اس فن پر یہ اپنی نوعیت کا بے مثل کارنامہ ہے ۔ اصطلاح سازی کے آریائی زبانوں میں جو اصول ہیں مولانا سلیم نے ان کی بڑی تحقیق کی تھی اور اپنا طبع زاد نظریہ ملک کے سامنے پیش کیا تھا ۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے اصولوں کی بنیاد پر کسی کدو کاوش کے بغیر تیزی سے اصطلاحات ڈھالتے جاتے تھے ۔ ان کا دماغ خود ٹکسال تھا‘‘ ۔ اس کے بعد معین الدین قریشی اصطلاحات کے بارے میں جوش کے رجحانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اصطلاحات کے معاملے میں جوش اس زمانے میں قدامت پسند طبقے کی طرف نظر آئے اور ظاہر ہے کہ یہ زیادہ تر مولانا عمادی کا اثر تھا  ۔ اب (1951) میں نے جوش کو اس مسلک سے بہت کچھ ہٹا ہوا پایا ۔ شاعر انقلاب اب کچھ انقلاب زبان کا بھی تامل نظر آتا ہے‘‘ ۔
جوش کا 1934 میں حیدرآباد سے اخراج عمل میں آیا تھا اور انھیں ریاست حیدرآباد کے خاتمے تک حیدرآباد آنے کی اجازت نہیں ملی تھی ۔ چنانچہ وہ 1951 میں دوبارہ حیدرآباد آئے ۔ اس دورہ حیدرآباد کے موقع پر شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے اکثر عمارتوں اور مکانوں کو دیکھ کر وہ پرانی یادوں میں گم ہوگئے ۔ دارالترجمہ کی قدیم عمارت کے نظر آنے پر جوش کے جو تاثرات تھے اس بارے میں قریشی صاحب لکھتے ہیں ’’یہ تھا دارالترجمہ جہاں جوش کی زندگی بکھری بھی اور نکھری بھی ۔ جب کئی سال بعد جوش حیدرآباد آئے تو انھوں نے اس عمارت کو بہت غور سے دیکھا جس میں دارالترجمہ تھا اور جہاں اب رائل ہوٹل ہے ۔ جوش کے اندازِ نگاہ سے یہ محسوس ہوا کہ وہ اس پوری زندگی کو جو اس عمارت میں جذب ہے اب اپنے آپ میں جذب کرنا چاہتے ہیں‘‘ ۔
حیدرآباد اور دارالترجمہ سے اردو کے اس بلند مرتبت شاعر کی وابستگیوں کے صرف چند یادوں کے تذکروں سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وابستگیاں کتنی پرجوش اور بھرپور تھیں  ۔حقیقت یہ ہے کہ جوش ملیح آبادی کی شخصیت کی تشکیل اور ان کے فکر و فن کے ارتقاء سے ان وابستگیوں کا بہت گہرا اور اٹوٹ تعلق ہے ۔ حیدرآباد نے جوش کی زندگی کے اس اہم مرحلے پر ان کی مدد اور سرپرستی ہی نہیں لی بلکہ شبیر حسین خان کو اردو زبان و ادب کی ایک نمائندہ شخصیت جوش ملیح آبادی بنانے میں بھی کلیدی حصہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT