Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / جولائی میں افراط زر بلند ترین سطح پر

جولائی میں افراط زر بلند ترین سطح پر

نئی دہلی ۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چلر فروشی کا افراط زر جولائی میں گذشتہ دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 6.07 فیصد ہوگیا۔ آر بی آئی کی اطمینان بخش سطح سے یہ کافی زیادہ ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ شکر، تیلوں، چکنائیوں اور مسالوں کی قیمتیں تہوار کے دنوں میں بہت زیادہ ہوگئیں۔ چلر فروشی کا افراط زر صارفین کی قیمتوں کے عشاریہ کی بنیاد پر محسوس کیا جاتا ہے۔ جون میں یہ 5.77 فیصد تھا۔ جولائی 2015ء میں اس کی سطح 3.69 فیصد تھی۔ جولائی 2016ء میں افراط زر کی شرح ستمبر 2014ء کے بعد بلند ترین ہوگئی جبکہ یہ 6.46 فیصد ہوگیا۔ غذائی افراط زر اس ماہ کے دوران اضافہ ہوکر8.35  فیصد ہوگیا جو جون میں 7.71 فیصد تھا۔ حکومت نے افراط زر کا ہدف چار فیصد مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ آئندہ پانچ سال تک اس میں دو فیصد کی کمی یا زیادتی ہوسکتی ہے۔ نئی مالیاتی پالیسی چوکھٹے کا معاہدہ ریزرو بینک کے ساتھ ہوچکا ہے۔ جولائی میں شکر اور مٹھائیوں کا افراط زر 21.91 فیصد ہوگیا جو جون میں 19.79 فیصد تھا۔ تیل اور چربیوں کا افراط زر 4.96 فیصد اور مسالں کا 9.04 فیصد ہوگیا۔ غذائی اجناس مصنوعات کا 3.88 فیصد ہے جبکہ انڈوں کے افراط زر میں 9.34 فیصد اضافہ ہوا جو قبل ازیں 5.51 فیصد تھا۔ دودھ اور اس کی مصنوعات وہ اہم اجزاء ہیں جو تہواروں میں لازمی طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کے افراط زر میں جولائی میں 4.13 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ قبل ازیں 3.43 فیصد تھا۔ اگست کی ابتداء سے ہی مختلف تہوار ملک کے مختلف علاقوں میں منائے جاتے ہیں اور مٹھائیوں، پھلوں اور غذائی اجناس فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT