Monday , August 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / جوکویچ نے فیڈرر کو ہرا کر دوسری بار یو ایس اوپن ٹائٹل جیتا

جوکویچ نے فیڈرر کو ہرا کر دوسری بار یو ایس اوپن ٹائٹل جیتا

سربیائی اسٹار کیلئے مجموعی طور پر 10 گرانڈ سلام خطاب ۔ چار سٹ میں شکست کے بعد 34 سالہ سوئس لجنڈ نے ریٹائرمنٹ کی باتیں مسترد کردیئے

نیویارک ، 14 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) یو ایس اوپن فائنل میں ایک پوائنٹ جیتنے کیلئے پُرجوش، اور ایک نکتہ ثابت کرنے پر اٹل نواک جوکویچ نے اچھل کر زوردار چیخ لگائی اور اپنے ریاکٹ کو ہوا میں گھمایا، پھر چند ہزار تماشائیوں میں سے بعض کو گھور کر دیکھا کہ وہ روجر فیڈرر کو شکست دے چکے ہیں۔ اُس گیم میں ایک اور پوائنٹ جیتنے کے بعد جوکویچ نے اپنا سر ہلایا اور وہ اسٹانڈز کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔ اور چند لمحات کے بعد جوکویچ نے اپنا داہنا ہاتھ تیزی سے ہلایا اور چیخ لگائی۔ ’’ہاں! ہاں!‘‘ وہ فیڈرر کے ایک غلط فورہینڈ کا جشن منارہے تھے۔ جوکویچ ایسا ظاہر ہوا کہ آرتھر ایش اسٹیڈیم میں بالکلیہ تنہا پڑگئے تھے، جو ایک طرف فیڈرر سے کا معاملہ حل کرنے کوشاں تھے اور ساتھ ہی ایسے ہجوم سے بھی نمٹ رہے تھے جو پُرشور انداز میں 17 مرتبہ کے میجر چمپئن کی حمایت کررہا تھا، جنھیں اسٹیڈیم اناؤنسر نے میچ سے قبل تعارفی کلمات کے دوران ’’اس کھیل کا قابل بحث طور پر عظیم ترین کھلاڑی‘‘ قرار دیا۔ آخر میں جوکویچ نے جذبات سے مغلوب رات میں منعقدہ ہر لمحہ سنسنی سے بھرپور فائنل میں ہر چیز سے نمٹ لیا۔ اپنے بے تکان ڈیفنس اور بے مثل ریٹرننگ کے ذریعے فیڈرر کو مایوس کرتے ہوئے جوکویچ نے کچھ دیر سے کنٹرول حاصل کا اور پھر اسے برقرار رکھتے ہوئے یہاں گزشتہ شب 6-4، 5-7، 6-4، 6-4 سے فتح درج کرائی، جو اُن کا دوسرا یو ایس اوپن ٹائٹل ثابت ہوا، اِس سال کی تیسری میجر چمپئن شپ اور بحیثیت مجموعی 10 ویں گرانڈ سلام ٹروفی ہوئی۔ ’’میں فیڈرر کیلئے اور میرے سامنے اور کوئی بھی دیگر کھلاڑی کے سامنے آنے والے اُن کے کھیل کا بہت احترام کرتا ہوں،‘‘ جوکویچ نے ٹروفی کی تقریب کے دوران یہ بات کہی۔ ’’اُن کا معیار ہمیشہ ہی آپ کو بہترین مظاہرہ پیش کرنے کیلئے مجبور کرتا ہے اور میری طرف سے یہی کچھ درکار ہوا۔‘‘ 34 سالہ فیڈرر نے اپنی طرف سے کاٹ دار کھیل پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن 28 سالہ سربیائی اسٹار لگ بھگ ہر بار برتر شاٹس لگاتے رہے۔ اس کے نتیجے میں سوئس اسٹار نے 54 مرتبہ ازخود غلطیاں کرلیں، جو جوکویچ سے 17 بار زیادہ ہیں۔ ایک اور کلیدی نکتہ یہ رہا کہ جوکویچ نے انھیں درپیش 23 کے منجملہ 19 بریک پوائنٹس بچائے، جبکہ فیڈرر کے چھ سرویس گیمس بھی جیتے۔ ’’فائنل میں واپسی ہی ہے جہاں آپ ہونا چاہتے ہو،‘‘ فیڈرر نے یہ ریمارک کیا۔ وہ آخری مرتبہ 2009ء میں فلشنگ میڈوز میں خطابی مقابلہ کھیلے تھے۔ ’’نواک (جوکویچ) جیسے گریٹ چمپئن سے کھیلنا بہت بڑا چیلنج ہے۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ 2016ء میں یو ایس اوپن کو واپس ہوں گے۔ فیڈرر جو آئندہ سال 35 ویں سالگرہ منائیں گے، آخری بار 2008ء میں نیویارک میں اپنے پانچ میں کا آخری خطاب جیتے تھے۔ مگر اختتامی تقریب انھوں نے اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ویمنس چمپئن فلایا پنیٹا کی تقلید کرنے کا کوئی بھی اشارہ نہیں دیا۔

TOPPOPULARRECENT