Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / جوہریوں کی ہڑتال کے سلسلہ میں اختلافات

جوہریوں کی ہڑتال کے سلسلہ میں اختلافات

دہلی میں دکانیں ہنوز بند، ٹاملناڈو میں 6300 کروڑ روپئے کا نقصان
نئی دہلی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جوہریوں کا ایک حصہ اور سونے چاندی کے تاجروں نے آج بیسویں دن بھی دہلی میں اپنی دکانیں نہیں کھولیں۔ مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کے بعد جوہریوں کی بڑی اسوسی ایشنس نے احتجاج سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ تاہم نئی دہلی میں حکومت کے تیقن کے باوجود اکثر دکانیں بند تھیں۔ کل ہند صرافہ اسوسی ایشن کے نائب صدر سریندر کمار جین نے کہا کہ نئی دہلی نے ہڑتال غیرمعلنہ مدت جب تک کہ حکومت مجوزہ اکسائز ڈیوٹی سے دستبردار نہیں ہوجاتی جاری رہے گی۔ دریں اثناء مختلف شہروں بشمول جئے پور سے بھی جوہریوں کی ہڑتال بند رہنے کی اطلاع ملی ہے۔ چنائی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں ہڑتال کی وجہ سے جوہریوں کے کاروبار کا 6300 کروڑ روپئے کا نقصان ہوگیا ہے۔ آج حکومت کے تیقن کے بعد ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں جوہریوں کی بعض دکانیں کھول دی گئیں جبکہ دیگر دکانیں ہنوز ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT