Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / جگتیال میں طبی ملازمین کی لاپرواہی پر ضلع کلکٹر کی برہمی

جگتیال میں طبی ملازمین کی لاپرواہی پر ضلع کلکٹر کی برہمی

نعش کو چوہے کترنے کے واقعہ پر ایم این او سدھاکر کی معطلی، نومولود کی موت پر تحقیقات کا حکم

جگتیال۔ 11 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جگتیال ضلع ایریا ہاسپٹل میں طبی عملہ کی جانب سے ہورہی مسلسل لاپرواہی پر ضلع کلکٹر ڈاکٹر اے شرت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ مجرمانہ غفلت پر ایم این او ملازم سدھاکر کو معطل کرتے ہوئے نومولود کی موت پر دو رکنی کمیٹی کے ذریعہ تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا۔ جگتیال ایریا ہاسپٹل میں گزشتہ روز پیش آئے پوسٹ مارٹم کیلئے رکھی گئی مسلم نوجوان کی نعش کو مردہ خانہ میں چوہوں کے کتر کر چہرے کو نقصان پہنچانے کے خلاف عوامی احتجاج اور میڈیا میں آئی خبروں کو لے کر ضلع کلکٹر نے کل دوپہر ایریا ہاسپٹل جگتیال پہنچ کر ڈاکٹرس اور طبی عملہ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا اور لاپرواہی اور غیرذمہ دارانہ خدمات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اپنی کارکردگی میں تبدیلی نہ لانے پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔ بعدازاں انہوں نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہاسپٹل میں چند افراد غیرذمہ داری اور لاپرواہی کے ساتھ خدمات کی وجہ سے ہاسپٹل کی نیک نامی متاثر ہورہی ہے اور بدنامی ہورہی ہے۔ ایریا ہاسپٹل جگتیال تلنگانہ میں زچگیوں کے تناسب میں سب سے آگے ہے جہاں پر 50% سے 75% زچگیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے مدنظر رکھتے ہوئے مزید اسٹاف کے اضافہ اور ایک گائناکالوجسٹ کا تقرر اور ANM میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر ضلع جگتیال کے قیام کے بعد سے ایریا ہاسپٹل میں مسلسل لاپرواہی برتنے کی خبریں میڈیا کی سرخیاں بنی ہیں اور کلکٹر کے دورہ کے باوجود طبی عملہ میں کسی قسم کا سدھار نہیں آرہا ہے۔ سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں طبی خدمات اور گزشتہ تین یوم قبل مسلم خاتون عرفانہ کی ڈاکٹر کی غیرموجودگی میں نرس کے ہاتھوں زچگی اور نومولود موت ہوجانے کے واقعہ کے علاوہ گزشتہ روز مردہ خانے میں مسلم نوجوان کی نعش کو چوہے کتر کر کھانے کا واقعہ اس طرح مجرمانہ غفلت کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے، کے جواب میں کلکٹر نے کہا کہ ہاسپٹل میں مجموعی طور پر طبی خدمات بہتر انداز میں انجام دی جارہی ہیں، تاہم چند افراد کی لاپرواہی کی وجہ سے اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس کی روک تھام کیلئے اور لاپرواہی برتنے والے طبی عملہ کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردہ خانے میں ڈاکٹر کی جانب سے ایم این او کو نعش کو فریزر میں رکھنے کی ہدایت دینے کے باوجود لاپرواہی برتی گئی جبکہ جگتیال میں نعشوں کو محفوظ رکھنے دو عدد فریزر ہیں۔ لاپرواہی برتنے کے خلاف ایم این او سدھاکر کو معطل کیا گیا ہے اور مولود کے فوت ہوجانے میں اسٹاف نرس کی جانب سے کی گئی لاپرواہی کے خلاف آر ڈی او اور ڈی ایم اینڈ ایچ او کے ذریعہ تفصیلی تحقیقات کی رپورٹ کے بعد سخت کارروائی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل میں طبی عملہ کی حاضری اور ان کی خدمات کو یقینی بنانے اور ان کے اندر تبدیلی لانے کیلئے ہاسپٹل میں سی سی کیمرے نصب کرتے ہوئے حاضری کو بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعہ کیا جائے گا اور ان کی تنخواہیں ضلع کلکٹر کی جانب سے حاضری کے بعد ہی ادا کرنے کی بات کہی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جگتیال ایریا ہاسپٹل میں حاملہ خواتین کو بہتر سہولتیں پہنچانے اور کے سی آر کٹ کے علاوہ اماں اوڑی اسکیم کی بہتر انداز میں عمل آوری کی جارہی ہے اور زچگیوں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھ کر مزید ایک گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کا تقرر اور اے این ایمس کے تقرر اور اسٹاف میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں لاپرواہی برتنے والوں کو نہ بخشنے کی بات کہی۔ اس موقع پر آر ڈی او جگتیال جی نریندر ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سگندھی اور ایریا ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اشوک کمار موجود تھے۔

 

TOPPOPULARRECENT