Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / جگن موہن ریڈی کی جبراً دوا خانہ منتقلی

جگن موہن ریڈی کی جبراً دوا خانہ منتقلی

آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے بھوک ہڑتال ختم کرانے پولیس کی کوشش
حیدرآباد /13 اکتوبر (سیاست نیوز) آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کرنے والے صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی کو آج صبح سویرے (4-11 بجے) پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہاسپٹل منتقل کرکے بھوک ہڑتال کو ناکام بنادیا۔ واضح رہے کہ جگن موہن ریڈی گزشتہ سات دن سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے۔ کل سے اچانک ان کی صحت بگڑکر بی پی اور شوگر کی سطح میں کمی ہو گئی تھی۔ صبح چار بجے جب وائی ایس آر سی پی کے قائدین اور کارکن نیند میں تھے، پولیس کے اعلی عہدہ دار بھاری پولیس جمعیت کے ساتھ بھوک ہڑتال کیمپ پہنچ کر جگن موہن ریڈی سے بات چیت کی اور انھیں بگڑتی صحت کے پیش نظر بھوک ہڑتال سے دست برداری کا مشورہ دیا، لیکن جگن کے انکار پر انھیں زبردستی بھوک ہڑتال کیمپ سے اٹھاکر 108 ایمبولنس کے ذریعہ گنٹور کے سرکاری ہاسپٹل منتقل کردیا۔ اس دوران وائی ایس آر سی پی کے کارکنوں نے پولیس کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کارکنوں کو منتشر کردیا۔ پولیس کارروائی اور چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف کارکنوں نے نعرہ بازی کی۔ ذرائع نے بتایا کہ جگن موہن ریڈی ہاسپٹل میں بھی بھوک ہڑتال جاری رکھنے پر بضد تھے، تاہم ڈاکٹرس نے انھیں زبردستی گلوکوز اور دیگر دوائیں پیش کیں۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جگن کی والدہ مسز وجیہ اماں، شریک حیات وائی ایس بھارتی اور بہن مسز شرمیلا ہاسپٹل پہنچ گئیں، جب کہ کارکنوں نے پولیس کی جانب سے جگن کی بھوک ہڑتال کو ناکام بنانے کی سخت مذمت کی اور ہاسپٹل پہنچ کر وجے سائی ریڈی، بی ستیہ نارائنا، ایم راج موہن ریڈی، وائی وی سبا ریڈی اور دوسروں نے جگن موہن ریڈی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں پارٹی قائدین نے خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے پولیس کی حرکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی۔ دریں اثناء ترجمان وائی ایس آر کانگریس امباٹی رام بابو نے کہا کہ وائی ایس آر سی پی آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف حاصل ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ 14 اکتوبر کو وجے واڑہ کے پی ڈبلیو ڈی گراؤنڈ سے چیف منسٹر کیمپ آفس تک مارچ کیا جائے گا، جس میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی کے علاوہ پارٹی قائدین و کارکن کثیر تعداد میں شرکت کریں گے، جب کہ 17 تا 21 اکتوبر آندھرا پردیش کے تمام اسمبلی حلقوں میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 18 اکتوبر کو تمام اسمبلی حلقہ جات میں ریالیاں نکالی جائیں گی، 19 اکتوبر کو تمام اسمبلی حلقوں کے ہیڈ کوارٹرس کے سرکاری دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا، 20 اکتوبر کو شام میں موم بتی ریلی نکالی جائے گی اور 21 اکتوبر کو بس ڈپوز کے روبرو دھرنے منظم کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT