Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / جھارکھنڈ قتل عام کے مجرمین کی درخواست رحم مسترد

جھارکھنڈ قتل عام کے مجرمین کی درخواست رحم مسترد

مسجد میں نماز کے دوران حنیف کا قتل کرنے والوں کی سزائے موت برقرار
نئی دہلی 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) جھارکھنڈ میں تقریباً 9 سال قبل ایک معذور نوجوان کے بشمول ایک خاندان کے 8 افراد کا قتل کرنے والے دو مجرمین کی درخواست رحم کو صدرجمہوریہ نے مسترد کردیا۔ صدرجمہوریہ نے مجرمین موفیل خاں اور مبارک خاں کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ ان دونوں نے جون 2007 ء میں ریاست کے ضلع لوہار دگا کے تحت موضع مکنڈو میں ایک مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والے نوجوان حنیف خاں کا تیز دھاری ہتھیار سے قتل کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں نے اس نوجوان کی بیوی اور اس کے چھ بیٹوں کو بھی ہلاک کردیا تھا۔ اس میں ایک معذور نوجوان بھی تھا۔ مقامی پولیس نے موفیل خاں اور مبارک خاں کے خلاف ایک کیس درج رجسٹر کردیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر دو حملہ آوروں کو بھی کیس میں شامل کیا تھا۔ تحقیقات کی تفصیلات کے بعد مقامی عدالت نے ان تمام مجرمین کو سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم جھارکھنڈ ہائیکورٹ نے مغل اور مبارک کی سزائے موت پر حکم التواء جاری کیا تھا اور اس سزائے موت کو عمر قید سے تبدیل کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے قطعی فیصلہ اکٹوبر 2014 ء میں مجرموں کو دی گئی سزائے موت کو بحال کرتے ہوئے اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے بعد مجرموں نے وزارت داخلہ کی توسط سے صدرجمہوریہ سے عام معافی کی درخواست کی تھی۔ یہ درخواست گزشتہ سال ڈسمبر میں وصول ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT