Tuesday , May 30 2017
Home / Top Stories / جھارکھنڈ میں 800 خاندانوں نے جہیز کی رقم واپس کردی

جھارکھنڈ میں 800 خاندانوں نے جہیز کی رقم واپس کردی

حاجی ممتاز علی کی منفرد تحریک سارے ملک کیلئے مثالی ، کم مصارف سے شادیوں کا رجحان
رانچی ۔6 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جھارکھنڈ میں تقریباً 800 خاندانوں نے جہیز کی لعنت سے متعلق فرسودہ رواج کو ختم کرتے ہوئے اپنے بیٹیوں کی شادیوں کے موقع پر دی گئی جہیز کی رقم کو واپس کردیا ۔ یوں تو ہر کوئی جہیز کو ایک سماجی لعنت تصور کرتا ہے لیکن جب اپنے بیٹوں کی شادی کی بات آتی ہے اکثر خاندان اس لعنت کو بخوشی اپنا لیتے ہیں اور چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو جہیز کے مطالبہ سے گریز کرتے ہیں جس کے باوجود انھیں جہیز سے پاک شادی کے اہتمام میں کامیابی ملنا یقینی نہیں رہتا۔ اس حقیقت کے باوجود پسماندہ مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے ان 800 خاندانوں نے جہیز جیسی سماجی لعنت کے خاتمہ کیلئے اہم قدم اُٹھایا ۔ ان خاندانوں کا تعلق اضلاع یطھار اور پالامو سے ہے جنھوں نے سارے ملک اور معاشرہ کے لئے ایک مثال قائم کیا ہے ۔ سماج سے جہیز کے مطالبہ کی لعنت ختم کرنے کی تحریک لٹیھار کے حاجی ممتاز علی نے اپریل 2016 ء میں شروع کی تھی۔ انھوں نے اکثر افراد کے اندازوں کے برخلاف بڑی حد تک کامیابی حاصل کی جب 800 خاندانوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے دلہن کے خاندانوں سے جہیز کیرقم لی تھی ۔ یہ خاندان اپنی اس حرکت پر پشیماں ہوئے اور دلہنوں کے خندانوں کو ان سے لی گئی رقم واپسی کا آعاز کردیا ۔ حاجی ممتاز علی کی یہ سماجی تحیریک نہ صرف مقامی افراد کو راغب کی ہے بلکہ دیگر علاقوں کے افراد بھی اس کو اپنانے لگے ہیں۔ جس سے جھارکھنڈ کے معاشرہ میں ایک مثبت تبدیلی رونما ہورہی ہے لیکن اس انقلابی تحریک کو میڈیا نے نظرانداز کردیا ہے۔بیان کیاجاتا ہے کہ 2012 ء اور 2015 ء کے درمیان 24,771 انسانی جانیں جن میں اکثردلہنیں اور خواتین تھیں جہیز کی لعنت کی بھینٹ چڑ گئی تھیں۔ علاوہ ازیں جہیز نہ صرف جان لیوا لعنت ہے بلکہ زندگیوں کو بھی اجیرن بنادیتی ہے ۔ جہیز کے مطالبہ پر طلاق اور گھریلو تشدد سے ازدواجی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں یا پھر ناخوشگوار رہتے ہیں۔ ہندوستان میں جہیز کے خلاف اگرچہ سخت قوانین ہیں جس کے باوجود اکثر علاقوں میں اس لعنت پر آزادانہ عمل آوری کی جاتی ہے اور تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والے اس لعنت سے یکساں طور پر دوچار ہیں، جس کے خلاف حاجی ممتاز نے تحریک شروع کی جس کے اثر سے تقریباً 800 خاندانوں نے دلہنوں کے خاندانوں کو تاحال 6 کروڑ روپئے واپس کردیا جو بطور جہیز وصول کئے گئے تھے۔ حاجی ممتاز علی نے کہا کہ ان کی تحریک کو مسلسل کامیابی مل رہی ہے۔ اب لوگ جہیز کے بغیر شادیوں کی روایت کو عام کررہے ہیں اور کم سے کم مصارف سے شادیاں کی جانے لگی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT