Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / جھارکھنڈ و بہارمیں یوم عاشورہ جلوس کے دوران جھڑپیں ‘ ایک ہلاک

جھارکھنڈ و بہارمیں یوم عاشورہ جلوس کے دوران جھڑپیں ‘ ایک ہلاک

نئی دہلی۔ 25اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) یوم عاشورہ جلوس کے دوران تشدد سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور دیگر 12 زخمی ہوگئے ۔جب کہ جھارکھنڈ و بہار میں یوم عاشورہ جلوس پر سنگباری کی گئی ۔ مبینہ طور پر یہ جلوس کا راستہ شہر گوالیار میں تبدیل کردیا گیا کیونکہ شہر میں کرفیو عائد کردیا گیا تھا ۔ تاہم یوم عاشورہ جلوس پُرامن ماحول میں منعقد ہوا ۔ جھڑپوں کا آغاز جلوس کے دوران جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ میں پیش آیا ۔ جس کی وجہ سے پولیس کو 70راؤنڈ ہوائی فائرنگ کرنی پڑی تاکہ صورتحال پر قابو پایا جاسکے ۔ شمالی چھوٹا ناگپور ڈیویژن کے ڈی آئی جی ڈگ وجئے اوپیندر کمار نے کہا کہ گڑبڑ کا آغاز اُس وقت ہوا جب کہ تقریباً 100افراد کے ایک گروپ نے جو سڑک پر کھڑا ہوا تھا ہزاری باغ کے ایک علاقہ میں جلوس پر سنگباری کی ۔ جلوس میں 10ہزار افراد شامل تھے ۔ ہزاری باغ کے ڈپٹی کمشنر نتیش کمار نے کہا کہ تقریباً 12 تعزئے قریبی دیہاتوں اور قصبہ ہزاری باغ سے جلوس میں شریک ہوئے تھے جہاں پرجھڑپیں ہورہی تھی اس حصہ پر زبردست خشت باری کی جارہی تھی اور ایک دوسرے پر فائرنگ بھی جاری تھی جس کی وجہ سے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور اس کے بعد آنسو گیاس کے شل استعمال کئے گئے لیکن جب یہ کارروائیاں ہجوم کو منتشر کرنے سے قاصر رہیں تو پولیس نے تقریباً 70راؤنڈ ہوائی فائرنگ کی ‘ ایک شخص ہلاک اور دیگر 9تشدد کے دوران زخمی ہوگئے ۔ بہار کے علاقہ مدوھوبنی میں دو فرقوں کے ارکان کے درمیان جھڑپ کے دوران کم از کم تین افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک پتھر تعزیا جلوس پر پھینکا گیا ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اختر حسین نے کہا کہ یہ جھڑپ گاندھی چوک کے قریبی علاقہ میںہوئی ۔ گوالیار میں مذہبی جوش و خروش کے ساتھ عاشورہ کا اہتمام کیا گیا ۔ حالانکہ ایک محلہ میں ایک تنظیم کی جانب سے محرم جلوس کے راستے پر احتجاج کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا تھا ۔ یہ تنظیم جلوس کے راستے کے بارے میں کل رات تنازعہ پیدا ہوجانے کے بعد احتجاج کررہی تھی ۔ اس علاقہ سے سنگباری کے واقعات کی بھی اطلاع ملی جس کے بعد تقریباً ساڑھے چار بجے شام کرفیو نافذ کردیا گیا ۔ یو پی میں کشی نگر اورجونپور اضلاع میں معمولی مسائل پر تنازعہ کے بعد یکادکاناخوشگوار واقعات کی اطلاع ملی لیکن پولیس کی بروقت مداخلت سے صورتحال ناگوار موڑ اختیار نہ کرسکی۔ یو پی کے دارالحکومت لکھنو تعزیہ جلوس سخت حفاظتی انتظامات کے دوران نکالے گئے ۔ پی اے سی کی 20کمپنیاں اور آر اے ایف کے سپاہی لکھنو میں تعینات کئے گئے تھے ۔ محرم جلوس کے راستے کی پہلے ہی سے نشاندہی کی گئی تھی ۔ نئی دہلی میں کئی تعزیہ جلوس نکالے گئے جن کا اختتام جنوبی دہلی کے علاقہ جورباغ میں کربلا پرہوا ۔ کشمیر میں سرینگر کے بعض علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال دیکھی گئی کیونکہ احتیاطی اقدام کے طور پر تحدیدات عائد کی گئی تھی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT