Wednesday , October 18 2017
Home / خواتین کا صفحہ / ’ جھوٹ بولنا‘ اَب ہماری زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے !

’ جھوٹ بولنا‘ اَب ہماری زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے !

جھوٹ بولنے کی عادت ہمیں بچپن سے ہی پڑجاتی ہے، بچہ نے گلاس توڑ دیا ہے لیکن جب ماں پوچھتی ہے کہ کس نے توڑا تو ماں کے خوف سے وہ فوراً کہہ دیتا ہے کہ ’’ مجھے معلوم نہیں‘‘۔ گزرتے وقت کے ساتھ جھوٹ بولنے کی یہ عادت بھی پختہ ہوتی جاتی ہے۔ اکثر والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، پھر بچے کو سکھاتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ ایسے میں کیا بچہ والدین کی بات مان لے گا؟۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی شخصیت سنوارنی ہوگی اور اپنی بُری عادات کو ترک کرنا ہوگا۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورتیں نہ صرف زیادہ بولتی ہیں بلکہ جھوٹ بھی مَردوں سے زیادہ بولتی ہیں۔ اس مفروضے سے یوں اتفاق ممکن نہیں کہ بحیثیت انسان عورت میں بھی مرد کی طرح ایک جیسی جھوٹ یا سچ بولنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ انسان سے مخصوص تمام افعال مرد اور عورت دونوں کرسکتے ہیں۔ جھوٹ بولنے کی بہت سی اقسام ہیں مثلاً مجبوراً بولا جانے والا جھوٹ، زبردستی بولا جانے والا جھوٹ، جان بوجھ کر بولا جانے والا جھوٹ، اس کے علاوہ سفید جھوٹ اور کالا جھوٹ بھی اس کی مشہور اقسام ہیں۔ بہر حال جھوٹ کسی بھی قسم کا ہو ایک اخلاقی بُرائی ہے، جس سے بچنا اعلیٰ انسانی خوبی ہے۔ جھوٹ کمزور شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ جب کوئی آدمی یا عورت سچ  کے نتائج کا سامنا نہیں کرپاتے تو وہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جھوٹ بول کر اُٹھائی جانے والی مشکلات سے بہتر ہے کہ ریاضت کے ذریعہ اپنی شخصیت کو اس قدر مضبوط کرلیا جائے کہ آپ کو جھوٹ بولنا ہی نہ پڑے۔

TOPPOPULARRECENT