Thursday , April 27 2017
Home / Top Stories / جہادیوں کے زیرقبضہ علاقوں پرعراق کی فوج کا حملہ

جہادیوں کے زیرقبضہ علاقوں پرعراق کی فوج کا حملہ

موصل میں جنگ کی وجہ سے 45ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ‘اقوام متحدہ کی رپورٹ
موصل ۔ 5مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) عراق کی فوج نے جہادیوں کے زیرقبضہ مغربی موصل کے مضافاتی علاقوں پر آج حملہ کردیا ۔ ان میں صوبہ کے سرکاری عہدیداروںکی قیامگاہیں بھی شامل ہیں ۔ عراق کی فوج نے مغربی موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضہ سے آزاد کروانے کیلئے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کردیا ۔ اب بھی گنجان آباد موصل کے کئی علاقے 19فبروری سے دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ ہے ۔ عراق کی فوج نے جنوب کی سمت پیشرفت شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کئی مضافاتی علاقوں کو دولت اسلامیہ کے قبضہ سے آزاد کروالیا ہے ‘ تاہم کئی دنوں سے موسم ناخوشگوار ہونے کی وجہ سے سرکاری فوج کی پیشرفت سست رفتار ہے ۔ مرکزی پولیس اور سریع الحرکت فوجی شعبہ نے موصل کے مضافاتی علاقوں الدندان اور الدواسہ پر حملہ کردیا ہے ۔ الدواسہ گورنر مینوا کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے ۔ موصل صوبہ نینوا کا دارالحکومت ہے ۔ انسداد دہشت گردی افواج السمود اور تل الرمان پر بھی حملہ کررہی ہے ۔ انسداد دہشت گردی خدمات اور سریع الحرکت ردعمل شعبہ کی خصوصی افواج اس کارروائی کی قیادت کررہی ہیں ۔

جب کہ مرکزی پولیس اور نیم فوجی پولیس کارروائی میں شامل ہیں ۔ عراقی افواج نے 17اکٹوبر سے موصل کو دولت اسلامیہ سے آزاد کروانے کی کارروائی شروع کی ہے ۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے بموجب موصل کے لئے دولت اسلامیہ اور سرکاری فوج کے درمیان جنگ کے نتیجہ میں 45ہزار سے زیادہ شہری بے گھر ہوچکے ہیں ۔ 17ہزار افراد 28فبروری کو ایک ہی دن میں مغربی موصل سے فرار ہوئے ‘اس کے بعد سب سے بڑی تعداد یعنی 13ہزار شہری 3مارچ کو شہر سے فرار ہوئے ۔ دولت اسلامیہ نے بغداد کے مغرب میں وسیع علاقوں پر 2014ء میں قبضہ کرلیا ہے ۔ امریکہ کی زیرقیادت اور دیگر ممالک کی تائید سے اس علاقہ پر فضائی حملے جاری ہے ۔ عراق کی سرکاری فوج نے 17اکٹوبر سے موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضہ سے نجات دلانے کیلئے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی ہے ۔ موصل عراق کا سب سے گنجان آباد شہر ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT