Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / جہادی جان کا بیٹلس گروپ بے نقاب

جہادی جان کا بیٹلس گروپ بے نقاب

ترکی کی قید میں رہنے اور غزہ منتقل ہونے کی اطلاعات ، مشہور بیٹلس کے نام رکھنے کا انکشاف
لندن ۔ 8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مقتول دولت اسلامیہ کے دہشت گرد کے قاتل ’’جہادی جان‘‘ کو آج بے نقاب کردیا گیا جبکہ لندن کے شہریوں نے مبینہ ’’بیٹلس‘‘ دہشت گرد گروپ کو اپنی زندگی کا ایک حصہ بنا لیا تھا۔ ایم وازی ’’جان‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے تھے ان کا حوالہ جان لینن کی حیثیت سے کیا جاتا تھا جو برطانوی راز گروپ کے صف اول کے گلوکار تھے۔ یہ نام انہیں ان کے انگریزی لب و لہجہ کی وجہ سے کیا جاتا تھا۔ ایم وازی امریکہ کے ڈرون حملہ میں شام کے شہر رقہ میں گذشتہ نومبر میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ان کے نقاب کے بارے میں گھناؤنا پروپگنڈہ کیا جارہا تھا کیونکہ ویڈیوز میں انہیں ایک چاقو سے یرغمالیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا تھا۔ اب ظاہر ہوگیا ہیکہ ان کے گیانگ کے دو اکارن جن کا لب و لہجہ انگریزی طرز کا تھا، انہیں پال اور رینگو کے نام لئے گئے تھے جبکہ دو مشہور بیٹلس پال میکارتھی اور رینگو اسٹار کے پال کی شناخت 31 سالہ عین ڈیوس کی حیثیت سے کی گئی ہے جو دہشت گردی کے شبہ میں ترکی کی حوالات میں ہے اور رینگو 32 سالہ الیکس کوٹھی لندن کا شہری اور گھانا کا متوطن تھا اور یونانی جزیرہ قبرص کا پس منظر بھی رکھتا تھا۔ وہ لاپتہ ہے۔ چوتھے رکن کی شناخت جارج کی حیثیت سے شہرت رکھتی تھی۔ یہ جارج ہریسن کے حوالہ سے رکھا ہوا نام تھا تاہم اس کی ہنوز توثیق نہیں ہوسکی۔ ڈیوس کی بیوی 27 سالہ عمل ال وہابی پہلی خاتون بن گئی جسے دہشت گردی کے جرائم نے سزائے قید دی گئی۔ ان جرائم کا تعلق 2014ء میں شام میں مرتکب کردہ دہشت گرد کارروائیوں سے تھا۔ اسے 20 ہزار یورو کے اسمگلر کو ادا کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا یہ رقم ترکی میں قید اس کے شوہر کیلئے دی گئی تھی۔ سمجھا جاتا ہیکہ یہ گروپ تقریباً 27 مغربی ممالک کے یرغمالیوں کا سرقلم کرنے کا ذمہ دار تھا۔ کوٹی 2009ء میں ایک امدادی قافلہ میں شامل ہوکر غزہ منتقل ہوگیا۔ اس قافلہ ویوا فلسطینا کی قیادت برطانیہ کی ریکسپرٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے کررہے تھے۔ بز فیڈ کی ایک رپورٹ کے بموجب گیلووے نے کہا کہ انہوں نے آج تک ایسی کوئی بات نہیں سنی۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ وہ فہرست میں شامل تھا۔ اس کی تصویر دیکھی گئی لیکن وہ اس کو شناخت نہیں کرسکے۔ دولت اسلامیہ کا اس وقت کوئی وجود بھی نہیں تھا جبکہ ہم نے یہ قافلہ روانہ کیا تھا۔ دہشت گرد ’’بیٹلس‘‘ شام کا سفر کرنے سے پہلے دوست رکھتے تھے۔ آئی ٹی وی نیوز کے بموجب کوٹی نے کم عمری میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور تینوں افراد مغربی لندن کے ایک علاقہ میں المنار مسجد میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ مسجد سخت گیر اسلام کو مسترد کرتی ہے۔ ڈائرکٹر المنار مسجد صالحہ اسلام نے خبر رساں چینل سے کہا کہ ہم بعض افراد سے واقف ہیں جو دولت اسلامیہ میں شامل ہوگئے اور اس سے پہلے وہ مغربی لندن میں سکونت پذیر تھے۔

TOPPOPULARRECENT