Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / جہیز کی لالچ میں غریب نوجوانوں کا امیر گھرانوں میں شادی کرنے کا بڑھتا رجحان

جہیز کی لالچ میں غریب نوجوانوں کا امیر گھرانوں میں شادی کرنے کا بڑھتا رجحان

سید جلیل ازہر
انسان کی ہوس جب پَر کھول دیتی ہے تو وہ انسان بغیر محنت کے دولت کی ہوس میں خواتین پر مظالم ڈھاتا ہے۔یہی سبب ہے جہیز کی لعنت آج سماج کے لئے ناسور بن گئی جس کی وجہ سماج زوال پذیر ہے اور جہیز شادی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس برائی کا خاتمہ نہ وعظ سے  اور نہ ہی سمیناروں سے ہوسکتا ہے بلکہ اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس غلط رسم کی وجہ سے درمیانی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جو کوڑی کوڑی کا مقروض ہوکر بھی بیٹی کے لئے خوشیاں نہیں خرید سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خوشیاں جہیز سے نہیں خریدی جاسکتیں۔ کئی ایسے گھرانے ہیں جو بغیر جہیز کے بھی خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں اور بہت سے بھاری بھرکم جہیز لانے کے باوجود سکون سے نا آشنا ہیں۔ ضرورت صرف سوچ بدلنے کی ہے ، اس لئے کہ آج جہیز کی لعنت کے واقعات کو قلمبند کرتے ہوئے روح کانپ رہی ہے کیونکہ:
اے جہیز کے ماروتم نہ سمجھ پاؤ گے
باپ کی مجبوریوں کو بیٹیاں سمجھتی ہیں
بلکہ حالات کے پس منظر میں ایک شاعر نے یہ بھی کہا ہے کہ:
ہم مانگتے جہیز ہیں خیرات کی طرح
ٹولی بناکے جاتے ہیں بارات کی طرح
لڑکی جوان ہوتے ہی اب اس کے والدین
گھر میں ہی رہ رہے ہیں حوالات کی طرح
جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ بیٹے کو شادی سے پہلے فرش پر سلاتے تھے کیا وہ اپنے بیٹے بہو کو سونے کے لئے ایک بیڈ بھی نہیں دے سکتے۔ ماں باپ اپنی بیٹی کا بھرم رکھنے کیلئے بڑی کوششوں سے دوستوں، رشتہ داروں سے قرض حاصل کرکے بیٹی کے لئے جہیز تیار کرتے ہیں تاکہ ان کی بیٹی سسرال میں طعنوں سے بچی رہے۔ ایسے جہیز کے لالچی افراد کو اپنے ضمیر کی آواز پر سوچنا ہوگا کہ ہماری بہنوں اوربیٹیوں کے ساتھ تاریخ اپنے آپ کو نہ دہرائے۔ خدا کیلئے ایسے لوگوں پر رحم کھائیں جن کی بیٹیوں کے اول تو رشتے ہی نہیں ہوتے اور جب رشتہ ہوجائے تو جہیز کی ننگی تلوار بن کرلٹک جاتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے کہ کسی نوجوان نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ مومن اور مسلمان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ جواب ملا کہ مسلمان وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے اور مومن وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے ہم کو تو اپنے بچوں کو بھی ان بچوں کے سامنے پیارکرنے سے احتراز کرنا چاہیئے جن بچوں کے والدین اس دنیا سے جاچکے ہیں۔ آج ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے جس انداز کی شادیاں نظر آرہی ہیں اس کے اثرات غریب گھرانوں پر کیا مرتب ہورہے ہیں اس بات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مدیر اعلیٰ روز نامہ ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے ایک کھانا ایک میٹھا  کے ساتھ ساتھ دوبدو پروگرام جس کا سماج میں کبھی کسی تنظیم نے تصور بھی نہیں کیا تھا آج کس کامیابی سے کئی گھر بسائے جارہے ہیں ۔ یقیناً زندگی کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا، وقت کو بدلنے میں زندگیاں لگ جاتی ہیں ۔ نوجوانوں کو چاہیئے کہ سسرال والوں پر ہی تکیہ نہ کریں ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے ’’ رزق کے پیچھے اپنا ایمان خراب مت کرو کیونکہ رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے مرنے والے کو موت ‘‘ کسی شاعر نے بہت خوب کہا ہے:

لوگ یہ سمجھتے ہیں مسجدوں میں رہتی ہیں
اس کی رحمتیں لیکن آنسوؤں میں رہتی ہیں
روز و شب سسکتی ہیں ان گھروں کی دیواریں
بیٹیاں بہت دن تک جن گھروں میں رہتی ہیں
دریں اثناء راقم الحروف نے آج ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر ترون جوشی سے فون پر خواہش کی کہ وہ ضلع عادل آباد میں جاریہ سال کے ہی جہیز کی لعنت کے واقعات بتائیں تو انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ ازہر جی، جہیز ایک ناسور ہے جو ہماری سوسائٹی میں کینسر کی طرح پھیل رہا ہے اس کی لعنت نے کئی بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی کو جہنم بناکر رکھ دیا ہے۔ ان کی آنکھ میں بسنے والے رنگین خواب چھین لیئے، ان کی آرزوؤں، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ کئی لڑکیوں کو ناامیدی، مایوسی اور اندھیروں کی ان گہری وادیوں میں ڈھکیل دیا ہے جہاں سے اُجالے کا سفر ناممکن ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر ترون جوشی ( آئی پی ایس ) جو ضلع عادل آباد میںدیڑھ سالہ ملازمت کے دوران غریب عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے یہ عہدیدار کی کارکردگی پر ہر طبقہ انہیں انسانیت کی ایک جیتی جاگتی تصویر کہتا ہے۔ انہوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جہیز کی مانگ کو لیکر کئی ایک سنگین حالات سامنے آرہے ہیں۔ خواتین پر مظالم کی داستانیں سن کر انسانیت کانپ اٹھتی ہے تاہم قانونی کارروائی اور کسی کی گرفتاری اس مسئلہ کا حل نہیں بلکہ سماج میں اس کے خاتمہ کے لئے ذمہ دار لوگوں کو چاہیئے کہ مصالحت کے ذریعہ ٹوٹنے والے گھروں کو جوڑنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔ پولیس بھی جہیز کے مطالبات کے واقعات میں کونسلنگ کے ذریعہ گھروں کو بنانے کی کوشش کرہی ہے۔ انہوں نے جاریہ سال صرف چار ماہ میں جہیز کی لعنت کے واقعات کے جو اعداد و شمار بتائے ہیں وہ اس طرح ہیں: عادل آباد (6)، نرمل (48)، بھینسہ (26)، منچریال (31) ، بیلم پلی (25)، کاغذ نگر (28) اوٹنور (21) جملہ 240 ، جس میں سبھی طبقات کے جہیز کیس شامل ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک ضلع میں اتنے واقعات تو ریاست بلکہ ملک کے کیا اعداد و شمار ہوسکتے ہیں۔ جبکہ کئی والدین عزت کی خاطر قانونی مدد لینے سے گھبراتے ہیں۔ جبکہ غربت اور مفلسی کے عالم میں کئی گھرانوں میں والدین آنسوؤں کے گھونٹ پی پی کر اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔
صرف مجبوریاں لے جاتی ہیں ازخود ورنہ
کون جلتے ہوئے منظر کی طرف جاتا ہے
اشک ماں باپ کی آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں
ذہن غربت میں جو دختر کی طرف جاتا ہے

دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھ کر غریب لڑکیوں کی شادیوں کے لئے اور جہیز کی لعنت کے خاتمہ کے لئے ساری اشیاء کی بجائیذہن سازی کرتے ہوئے قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ایک قدم دوسروں کے لئے راستہ بنا سکتا ہے۔ مالدار عورتوں کے لئے ایک سبق ہے کہ ایک مالدار عورت کپڑے کی دکان پر جاکر دکاندار سے کہتی ہے ’’ بھیا کوئی سستے کپڑے دکھانا میرے بیٹے کی شادی ہے اور مجھے اپنی نوکرانی کو دینے ہیں‘‘
کچھ ہی دیر بعد نوکرانی کپڑے کی دکان جاتی ہے اور دکاندار سے کہتی ہے ’’ بھیا تھوڑے قیمتی کپڑے دکھانا، مجھے اپنی مالکن کو ان کے بیٹے کی شادی پر تحفے میں دینے ہیں‘‘۔ غربت کا تعلق جیب سے ہوا یا دماغ سے ۔؟
یقیناً شیخ سعدی ؒ کا قول کہ ’’ توکل سیکھنا ہے تو پرندوں سے سیکھو کہ وہ سب شام کو گھرجاتے ہیں تو ان کی چونج میں کل کے لئے کوئی دانا نہیں ہوتا۔‘‘آج کے لالچی انسانوں کو ضروری ہے کہ وہ اپنی ذہنیت کو بدلیں اور جہیز کی لعنت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کیلئے آگے آئیں۔
گھر میں ضرور لایئے بیٹی غریب کی
لیکن کبھی غریب سے سودا نہ کیجئے
جس سے غریب بچوں کو ملتی ہوں روٹیاں
ایسی کسی زمین پہ قبضہ نہ کیجئے
جہیز کی اس لعنت نے موجودہ دور میں ایسے پھن پھیلائے ہیں کہ غریب گھرانوں کے لڑکے بھی اپنے سے زیادہ مال و زر والے گھروں کا رُخ کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے غریب گھروں میں پیدا ہونے والی لڑکیاں شادی سے محروم اپنی چاردیواری میں بیٹھی رہنے پر مجبور ہیں۔
9849172877

TOPPOPULARRECENT