Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / جیل میں سیمی کارکنوں پر اسلام کیخلاف نعرے لگانے دباؤ

جیل میں سیمی کارکنوں پر اسلام کیخلاف نعرے لگانے دباؤ

زیردریافت قیدیوں کیساتھ اذیت ناک سلوک کی شکایت پر انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے بیانات قلمبند
بھوپال۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) بھوپال کی جیل میں محروس سیمی کارکنوں پر اسلام کے خلاف نعرے لگانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا اور انہیں اذیت پہونچائی گئی۔ اس واقعہ کی شکایت پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے آج بعض محروس سیمی کارکنوں کے بیانات قلمبند بند کرنا شروع کیا۔ ان کارکنوں کے رشتہ داروں نے شکایات کی تھی کہ جیل میں ان کے نوجوانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور اسلام کے خلاف نعرے لگانے کے لئے اذیت دی جارہی ہے۔ بھوپال میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی ٹیم نے زیردریافت قیدیوں کے رشتہ داروں کے بیانات بھی قلمبند کئے ہیں۔ ان محروس افراد کے تعلق سے الزام ہے کہ ان کا ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تعلق ہے۔ ایک محروس شخص کے وکیل پرویز عالم نے کہا کہ ان کے موکل کے ساتھ جیل کے اندر زیادتی کی گئی ہے۔ اس شکایت کا جائزہ لینے کیلئے انسانی حقوق کمیشن کی ٹیم بھوپال پہونچی ہے۔ پیانل نے میرے موکلوں کے بیانات کو ریکارڈ کیا ہے اور ان کے ارکان خاندان نے اس سلسلے میں کیا کہا تھا، یہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ میرے ہمراہ سید ساجد علی، محمد فاروق، دیپ چند یادو، ورشا لاہور سے دیگر سیمی کارکنوں نے وکلاء بھی موجود تھے۔ انسانی حقوق کی ٹیم سے ملاقات کی گئی ہے۔ ہم نے کمیشن کے نمائندوں کے سامنے کہا کہ ہمارے موکلوں کو جیل کے اندر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں پانی نہیں دیا جارہا ہے۔ کھانا بھی سربراہ نہیں کیا گیا۔ اس پیانل کی قیادت این ایچ آر سی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پوپل دت پرساد کررہے ہیں۔ وکیل پرویز عالم نے مزید کہا کہ جیل میں ان کے موکلوں کو زدوکوب کیا جارہا ہے اور انہیں سیلس کے اندر بند کرکے رکھا گیا ہے جبکہ اس حقیقت کے باوجود کہ انہیں ابھی جرم میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے، ان پر مجرموں کی طرح ظلم کیا جارہا ہے۔ جیل کے قواعد کے مطابق زیردریافت قیدیوں کو سیلس میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ سیمی کے ان کارکنوں نے گزشتہ دو ماہ سے غسل بھی نہیں کیا ہے۔ ان کے لباس گندے ہوچکے ہیں۔ ہم کو بھی اپنے موکلوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT