Wednesday , May 24 2017
Home / مضامین / جیوتی اور بلقیس معاملے یکساں جرم ، مختلف انصاف!

جیوتی اور بلقیس معاملے یکساں جرم ، مختلف انصاف!

راج دیپ سردیسائی
یہ بھارت کی دو بیٹیوں کی کہانی ہے ، دونوں ہی خوفناک جنسی جرائم کی شکار ہوئیں۔ جیوتی سنگھ 23 سالہ ہونہارطالبہ تھی جو میڈیسن کے شعبے میں اپنا کریئر بنانے کا خواب سجائے آگے بڑھ رہی تھی جس سے اُس کی فیملی کو غربت سے چھٹکارہ پانے میں مدد ملتی لیکن ڈسمبر 2012ء میں قومی دارالحکومت کے قلب میں اُسے بڑی بے رحمی سے اجتماعی آبروریزی کے بعد سفاکانہ انداز میں قتل کردیا گیا۔ بلقیس بانو کی عمر محض 19 سال تھی اور وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی جب اسے 2002ء کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران گجرات کے ضلع داہوڑ میں اُس کے گاؤں میں فسادی ہجوم سے بچنے کیلئے فراری کی کوشش پر اجتماعی عصمت ریزی کا شکار بنایا گیا۔ بلقیس کے تین سالہ بچہ کو اس کی نظروں کے سامنے جان سے مارا گیا جبکہ اس کی فیملی کے 13 ارکان بھی قتل کردیئے گئے۔ جیوتی اور بلقیس ہمارے سماج کے تاریک تر پہلو کی آئینہ دار ہیں اور اس کے باوجود اُن سے انصاف کے نام پر جو کچھ سامنے آیا اس میں فرق ہے، ایسا فرق جو سنجیدگی سے احتساب کا متقاضی ہے۔
گزشتہ دنوں جیوتی کے قاتلوں کو سپریم کورٹ نے سزائے موت سنائی۔ اس کا مطلب ہوا کہ اصل جرم کی تاریخ کے اندرون ساڑھے چار سال معاملے کا انصاف کردیا گیا۔ ایک ہی روز قبل ، بامبے ہائی کورٹ نے بلقیس کیس میں 11 ملزمین کو سزائے عمر قید کی توثیق کردی، جب کہ اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے چھ پولیس عہدیداروں اور ایک گورنمنٹ ڈاکٹر کو تین سال قید کی سزا سنائی۔ جہاں جیوتی معاملے کا عدالتی فیصلہ شہ سرخی بنا اور ہفتہ بھر ٹیلی ویژن چیانلوں پر چھایا رہا، وہیں بلقیس کیس کی رولنگ کی بڑی شہ سرخیاں نہیں بنیں اور نا ہی ٹی وی پر اہم اوقات میں مباحثے دیکھنے میں آئے۔
یہ فرق تعجب خیز نہیں ہے۔ جیوتی کی سسکتی موت قومی دارالحکومت میں پیش آئی جہاں زیادہ تر ٹیلی ویژن چیانلوں اور اخبارات کے صدر دفاتر قائم ہیں اور یہ واقعہ پارلیمنٹ سے محض چند کیلومیٹر کی دوری کا ہے جہاں قانون ساز قیام کرتے ہیں۔ اس کی موت کے چند گھنٹوں میں ہزارہا افراد راج پتھ پر جمع ہوگئے تھے اور لگاتار لائیو کوریج نے احتجاجوں میں شدت کو اور بڑھا دیا تھا۔ اس غم و غصہ کی گونج پارلیمنٹ میں سنائی دی، ملک نے اس کی موت کا سوگ منایا، لیڈروں نے جاکر اس کے فیملی ممبرز سے ملاقات کی اور آخرکار اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی کہ جنسی تشدد کے پریشان کن مسئلہ کا جائزہ لیا جائے۔اس کے برخلاف بلقیس بانو ایک رفیوجی کیمپ میں پڑی تھی جو متاثرین فسادات کیلئے داہوڑ میں قائم کیا گیا تھا جو احمدآباد سے تقریباً 200 کیلومیٹر کی دوری پر جنوبی گجرات کا قبائلی اکثریت والا ضلع ہے۔ بلقیس ابتداء میں  کیس درج رجسٹر کرانے کی کوشش میں مقامی پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوئی تھی جس نے اس کی فریادوں کو نظرانداز کیا بلکہ اسے دھمکایا کہ اپنے الزامات سے باز آجائے۔ یہ محض نہایت پابندعہد این جی اوز، قومی انسانی حقوق کمیشن اور مضبوط لیگل ٹیم کی مدد سے ممکن ہوا کہ بلقیس سپریم کورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی جس نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ اس معاملے کی تحقیقات سنبھالے اور یہ کیس کو گجرات کے باہر منتقل کیا۔ زائد از ایک دہے تک بلقیس نے اپنا کیس بے جگری سے لڑا حالانکہ اسے بار بار مکان بدلنا پڑا اور وہ اپنے گاؤں کو واپس نہیں ہوسکی، محض اس خوف کے بنا ء پر کہ اُس کے حملہ آور ہنوز آس پاس ہی گھوم رہے تھے۔
بلقیس کا کیس دھیرے دھیرے گجرات فسادات کا بس ایک اور کیس بن گیا جب کہ جیوتی کیس ایک کاز اور جنس کے معاملے میں انصاف کیلئے جدوجہد کی علامت بن گیا۔ وہ جنھوں نے بلقیس کی مدد کی اور جدوجہد کئے اُن پر بناوٹی سکیولر ہونے کے الزام آئے جو بس گجرات کی حکومت بدنام کرنے کوشاں ہیں۔ اور جنھوں نے جیوتی کیس کی ذمہ داری اٹھائی انھیں ریپ کے خلاف قوانین کی ازسرنو تشریح کے بڑے کاز کے حامیوں کے طور پر دیکھا گیا۔ جیوتی کی آخر وقت تک اپنی عفت و جان بچانے کیلئے جرأت مندی کی یاد میں عالمی سطح پر ڈاکومینٹریز کی منصوبہ بندی ہوئی، لیکن بلقیس اور اس کی فیملی سے شاید ہی کسی نے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
یوں تو دونوں کیسوں میں ملزمین کو سزا ہوئی ہے، لیکن ججوں کے قطعی احکام نے عوام کے متضاد موڈ کی عکاسی کی ہے۔ دہلی گینگ ریپ کیس کو ’شیطانی فعل‘ قرار دیتے ہوئے ججوں نے اسے ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ کے طور پر دیکھا اور رولنگ دی کہ یہ ’’انوکھا ترین‘‘ معاملہ ہوا جو سزائے موت کا متقاضی ہے۔ بلقیس کیس میں ججوں نے سازش کا الزام مسترد کرتے ہوئے ادعا کیا کہ اس معاملے میں جرم برمحل پیش آیا حالانکہ یہ اعتراف بھی کیا کہ ملزمین پر ’’مسلمانوں کو شکار بنانے کا جنون سوار‘‘ تھا۔ عصمت لوٹنے والوں کو سزائے موت کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ججوں نے کہا کہ گودھرا ٹرین برننگ کے بعد ’’ملزمین انتقام کی آگ میں جل رہے‘‘ تھے۔
عجیب بات ہے ، جب میں نے بلقیس سے پوچھا کہ آیا وہ عدالتی فیصلے پر مطمئن ہے، اُس نے نرم لہجہ میں جواب دیا: ’’میں نے ہمیشہ انصاف چاہا، انتقام کبھی نہیں!‘‘ میرا جوابی استفسار عمومی طور پر ساری دنیا سے بس یہی ہے: کیا کسی فرقہ وارانہ فساد میں گینگ ریپ کی شکار کیلئے ’انصاف‘ دہلی کی ایک بس میں پیش آئے گینگ ریپ کیلئے ’انصاف‘ سے مختلف ہے؟
بہرحال، بلقیس اب 34 سال کی ہے۔ وہ بچہ جو تب حمل میں تھا جب اسے درندگی کا شکار بنایا گیا، اب 15 سال کا ہے۔ بلقیس نے امید اور اعتماد بھرے لہجہ میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ وکیل بننا چاہتا ہے۔ شاید وہ کسی دن ’نئے انڈیا‘ کو انصاف کے صحیح معنی بتانے کے قابل بنے گا۔
([email protected])

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT